حماسۂ حسینی

"4 پوسٹ”السلام علیکم!

"حصہ چہارم ” گزشتہ سے پیوستہ:-

‎”تحریف کے اسباب”

"آیت اللہ شہید مرتضی مطہری (رہ)”

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

"تیسرا سبب کا دوسرا حصہ”

 خود حاج شیخ عباس اور دوسرے علماء کے اعتراف کے مطابق غیر معمولی عالم اور متقی انسان تھے ۔ انہوں نے یہ بات اپنی کتاب میں پیش کی ہے کہ اگر یہ قول ٹھیک ہے کہ مقصد وسیلے کو جائز کردیتا ہے تو میں یہ کہوں گا کہ اسلام کا ایک مقصد مومن کے دل میں خوشی پیدا کرنا ہے یعنی انسان وہ کام کرے جس سے مومن خوش ہو جائے ۔میں مومن کو خوش کرنے کے لئے اس کے سامنے غیبت کرتا ہوں کیونکہ ا سے دوسرے کی غیبت بہت اچھی لگتی ہے ۔جب لوگ کہیں گے کہ تو گناہ کما رہا ہے تو میں جواب دوں گا کہ نہیں ، میرا مقصد تو پاک وپاکیزہ ہے ۔میں غیبت کرکے اس مومن کو خوش کر رہا ہوں ۔

‪ ‬حاجی نوری مرحوم ایک اور مثال بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص پرائی عورت کا بوسہ لیتا ہے ۔ نامحرم عورت کا بوسہ لینا حرام ہے ۔ ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے تو مومن کا دل خوش کیا ہے ۔ زنا، شراب اور اغلام کے بارے میں بھی یہی بات کہی جاسکتی ہے ۔اب یہ شور وغوغا کیسا ؟

اس میں شریعت کو بگاڑنے کی کیا بات ہے؟ 

یہ بات کہ لوگوں کو رُلانے کے لئے ہر وسیلہ جائز ہے ۔

خدا کی قسم امام حسین علیہ السلام کے قول کے خلاف ہے ۔

امام حسین علیہ السلام اس لئے شہید ہوئے کہ اسلام کا مرتبہ بلند ہو ”اشہد انک قد اقمت الصلوٰۃ و آتیت الزکوٰۃ و امرت بالمعروف و نہیت عن المنکر و جاھدت فی اللہ حق جھادہ“ 

امام حسین علیہ السلام اس لئے قتل ہوئے کہ اسلامی طور طریقے، اسلامی احکامات اور اسلامی قوانین زندہ اور جاری رہیں ،اس لئے قتل نہیں ہوئے کہ اسلامی طور طریقوں ہی کو ٹھکرا دیں ۔ہم نے امام حسین علیہ السلام کو اسلام بگاڑ نے والے کی حیثیت دیدی ہے ۔

ہم نے امام حسین علیہ السلام کی جو صورت پیش کی ہے وہ اسلام بگاڑنے والی ہے ۔

‪ ‬حاجی نور ی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نجف کا ایک طالب علم ”یزد“ کا رہنے والا تھا ۔ اس نے مجھ سے بیان کیا کہ جوانی میں ،میں کویر سے خراسان پیدل جا رہا تھا۔ نیشا پور کے ایک گاؤں میں ایک مسجد تھی اور چونکہ میرے قیام کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی اس لئے میں مسجد میں چلا گیا ۔مسجد کا پیش نماز آیا ۔اس نے نماز پڑھائی اور پھر تقریر کی۔ اس درمیان یہ دیکھ کرمجھے بے حد تعجب ہوا کہ مسجد کا خادم فرّاش کچھ پتھر لےکر آیا اور پیش نماز کو دیدیئے جب اس نے مصائب کو پڑھنا شروع کیا تو چراغ بجھا دیئے ۔ جیسے ہی چراغ گل ہوئے اس نے سامعین پر پتھر برسانے شروع کیے جس سے لوگوں میں چینخ پکار مچ گئی ۔اب جو چراغ پھر جلائے گئے تو میں نے دیکھا کہ لوگوں کے سر پھٹ گئے ہیں اور روتے آنسو بہاتے مسجد سے نکل گئے ۔ میں پیش نماز کے پاس پہنچا اور اس سے کہنے لگا کہ تم نے یہ کیا کیا؟ اس نے جواب دیا ”میں نے ان کی آزمایش کی تھی کیونکہ یہ کسی مصائب پر نہیں روتے ۔“ چونکہ امام حسین علیہ السلام پر رونا اجر و ثواب کا موجب ہے اور میں نے دیکھا کہ ان کے ُرلانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ان کے سروں پر پھتر مارے جائیں اس لئے میں انہیں اسی طریقے سے رُلاتا ہوں۔ اس کے کہنے کے مطابق مقصد وسیلے کو جائز بنا دیتا ہے مقصد، حسین علیہ السلام پر رونا ہے خواہ جھولیاں بھر بھر کے لوگوں کو پتھر مارے جائیں ۔چنانچہ اس معاملے میں ایک یہی خصوصی سبب رہا ہے جس سے اس میں من گھڑت باتیں اور تحریفیں داخل ہوگئیں ہیں ۔

انسان جس وقت تاریخ پڑھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حادثہ پر لوگوں نے کیاکیا ستم ڈھائے ہیں۔خدا کی قسم حاجی نوری سچ کہتے ہیں ”کہ آج اگر کوئی حسین علیہ السلام پر رونا چاہے تو اسے ان تحریفوں، تبدیلیوں اور ان جھوٹی باتوں پر رونا چاہئے

"جاری ہے”

‎والسّلام 

‎علی من اتبع الھدی

التماس دعا 

"روبی” 

تبصرہ کریں