"پوسٹ نمبر 5″السلام علیکم!
"حصہ چہارم دوسرا حصہ
” گزشتہ سے پیوستہ:-
”تحریف کے اسباب”
"آیت اللہ شہید مرتضی مطہری (رہ)”
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
"تیسرا سبب کا تیسرا حصہ”
”روضۃ الشہداء“ نام کی ایک مشہور ومعروف کتاب ہے جس کا مصنّف ملاّ حسین کاشفی ہے ۔حاجی نوری کہتے ہیں کہ زعفر جن اور قاسم کی شادی کا قصّہ اس کتاب میں پہلی بار اس شخص نے تحریر کیا تھا۔ میں نے یہ کتاب دیکھی نہیں تھی اس لئے یہ سوچتا تھا کہ اسمیں ایک دو ہی باتیں ایسی ہونگی ۔بعد میں یہ کتاب جو فارسی میں ہے اور تقریبا پانچ سو (۵۰۰) سال پہلے تالیف ہوئی ہے ۔ (میری نظر سے گذری۔
ملاّحسین کاشفی ایک ملاّ اور پڑھا لکھا آدمی تھا اس کی کتنی ہی کتابیں ہیں جن میں ایک ”انوار سہیلی“ نامی کتاب بھی ہے ۔اس کے حالات پڑھنے سے پتہ نہیں لگتا کہ وہ شیعہ تھا یا سنّی ۔ بنیادی طور پر وہ طرح طرح کی صفات رکھتا تھا ۔
شیعوں میں جاتا تھا تو اپنے آپ کو سو فیصدی پکّا شیعہ ظاہر کرتا تھا اور
جب سنّیوں میں جاتا تھا تو خود کو حنفی بتاتا تھا ۔ سبزوار کا رہنے والا تھا اور سبزوار شیعت کا مرکز رہا ہے جہاں کے لوگ کٹر شیعہ اور آبادی سو فیصد شیعہ تھی جب وہ ہرات جاتا تھا (عبدالرحمٰن جامی کا بہنوئی یا ساڑھو تھا) تو وہاں سنّی اور اہل تسنّن کی روش پر چلنے والا بن جاتا تھا ۔
واعظ بھی تھا لیکن مدّت تک سبزوار میں رہا تھا ۔مصیبت کا ذکر کیا کرتا تھا ۔ ۹۱۰ ھ ء کے آس پاس اس کی وفات ہوئی ہے یعنی نویں صدی ہجری کے اواخر یا دسویں صدی ہجری کے اوایل میں اس نے انتقال کیا ہے ۔اس نے پہلی کتاب جو مرثیہ پر فارسی زبان میں لکھی ہے وہ یہی کتاب ہے جو آج سے پانچ سو سال پہلے تصنیف ہوئی ہے ۔اس کتاب سے پہلے لوگ ابتدائی اور اصلی مآخذ سے واقعات حاصل کرتے تھے ۔
شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ نے ”ارشاد“ نامی کتاب لکھی ہے اور نہایت معتبر اور مستند کتاب لکھی ہے ۔ہم اگر شیخ مفید کی ”ارشاد“ہی سے مواد حاصل کریں تو پھر کہیں اور جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔
اہل تسنّن میں سے طبری نے لکھا ہے، ابن اثیر نے لکھا ہے، یعقوبی، ابن عساکر اور خوارزمی نے لکھا ہے ۔ نہ جانے اس ظالم نے کیا کیا ہے ۔میں نے جس وقت یہ کتاب پڑھی تو دیکھا کہ نام بھی جعلی ہے یعنی حسین علیہ السلام کے اصحاب میں ایسے ایسے نام لکھتا ہے جن کا مطلقاً کوئی وجود ہی نہیں تھا ۔ دشمنوں کے بھی ایسے ایسے نام بیان کرتا ہے جوسب کے سب جعلی ہیں ۔اس نے تو واقعات کو افسانہ اور کہانی بنا کر پیش کیا ہے ۔
چونکہ یہ پہلی کتاب ہے جوفارسی زبان میں لکھی گئی اس لئے مرثیہ خوان جو پڑھے لکھے نہیں ہو تے تھے اور عربی کی کتابیں استعمال نہیں کر سکتے تھے یہی کتاب اٹھا لیتے تھے اور مجلسو ں میں پڑھ دیتے تھے ۔
یہی سبب ہے کہ ہم آج امام حسین علیہ السلام کے سوگ کی مجالس کو ”روضہ خوانی“ کہتے ہیں ۔
امام حسین علیہ السلام، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں روضہ خوانی کی اصطلاح رائج نہیں تھی اور بعد میں سیّد مرتضیٰ اور خواجہ نصیرالدین طوسی کے وقت میں بھی روضہ خوانی نہیں کہتے تھے ۔
آج سے پانچ سو سال پہلے سے اس کا نام روضہ خوانی پڑا ۔
روضہ خوانی یعنی کتاب ”روضۃالشہداء“ پڑھنا یعنی وہی جھوٹی کتاب پڑھنا ۔جس وقت سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھ لگی ہے کسی شخص نے امام حسین علیہ السلام کی صحیح صحیح تاریخ نہیں پڑھی ۔
ساٹھ ستّر سال پہلے ملّا آقای دربندی مرحوم پیدا ہوا ۔اس نے ”روضۃالشہداء“ کی باتوں میں کچھ اور اضافے کیے اور سب کو اکٹھا کرکے ”اسرار الشہادۃ“ نامی ایک کتاب لکھ ڈالی ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ انسان کو مجبور کرتا ہے کہ اسلام پر روئے اور گریہ کرے ۔
حاجی نوری لکھتے ہیں کہ ہم حاجی شیخ عبد الحسین تہرانی کی کلاس میں تھے جو بہت بڑے بزرگ تھے اور ان کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے تھے کہ حلّہ کا رہنے والا ایک روضہ خوان سیّد آیا جس نے انہیں مقتل کی ایک کتاب دکھائی اور کہا کہ دیکھئے یہ معتبر ہے یا نہیں؟ اس کتاب کے نہ اوّل کے ورق تھے نہ آخر کے حرف ۔اس میں ایک جگہ یہ لکھا ہوا تھا کہ جبل عامل کا فلاں ملاّ صاحب معالم کا شاگرد ہے ۔ حاجی شیخ عبد الحسین مرحوم نے وہ کتاب مطالعہ کرنے کے لئے لے لی ۔
پہلے اس عالم کے حالات پڑھے تو معلوم ہوا کہ اس کے نام سے ایسی کوئی کتاب ہی نہیں لکھی گئی ۔پھر خود کتاب کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ جھوٹ کا پٹارا ہے ۔
اس سیّد سے بولے یہ کتاب بالکل گپ ہے ۔ اس کتاب سے کوئی بات اخذ کرنا یا بیان کرنا جائز نہیں ہے اور بنیادی طور پر یہ کتاب اس عالم کی لکھی ہوئی بھی نہیں ہے۔ اس کی باتیں سب جھوٹی ہیں ۔
حاجی نوری لکھتے ہیں ”اسرار الشہادۃ“ کے مصنّف کے ہاتھ یہی کتاب پڑ گئی تھی جس کا مواد اس نے اوّل سے آخر تک سب نقل کر لیا ۔
حاجی نوری ایک اور قصّہ بتاتے ہیں جو بہت مایوس کن ہے ۔
ایک شخص مرحوم صاحب مقامع کے پاس گیا اور بولا کہ کل رات کو میں نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا۔
کیا خواب دیکھا؟
اس نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے ان دانتوں سے امام حسین علیہ السلام کے بدن کا گوشت کاٹ رہا ہوں ۔یہ عالم بزرگ کانپ گئے ۔ اپنا سر جھکا لیا ۔ بڑی دیر تک سوچتے رہے پھر بولے : کیا تو مرثیہ خواں ہے ؟
اس نے کہا جی ہاں ۔ فرمایا: اس وقت کے بعد سے تو مرثیہ خوانی بالکل چھوڑ دے یا پھر معتبر کتابوں سے واقعات لےکر بیان کیا کر ۔تو اپنی ان جھوٹی باتوں کے بدولت امام حسین علیہ السلام کے بدن کا گوشت اپنے دانتوں سے کاٹتا ہے ۔یہ خدا کی مہر بانی تھی جس نے تجھے خواب میں اس بات سے آگاہ کر دیا ۔
"جاری ہے”
والسّلام
علی من اتبع الھدی
التماس دعا
"روبی”