"پوسٹ نمبر 6″السلام علیکم!
"حصہ پنجم ”
” گزشتہ سے پیوستہ:-
”تحریف کے اسباب”
"آیت اللہ شہید مرتضی مطہری (رہ)”
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
"تیسرا سبب کا چوتھا حصہ”
اگر کوئی تاریخ عاشورہ پڑھے تو دیکھے گا کہ وہ سب سے زیادہ زندہ اور روشن اور سب سے زیادہ معتبر اور سب سے زیادہ اصلی اور ابتدائی مواد والی تاریخ ہے۔
آخوند خراسانی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ جو لوگ ان سنی سنائی روایات کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ جائیں اور ایسی سچی روایات ڈھونڈیں جنہیں اب تک ایک شخص نے بھی نہیں سنا وہ خطبے جو امام حسین علیہ السلام نے مکّہ میں اور مجموعی طور پر حجاز میں، کربلا میں، راستے میں دیئے تھے۔ وہ خطبے جو ان کے اصحاب نے دئیے تھے۔ وہ سوال وجواب جو آنحضرت سے ہوئے ہیں ۔وہ خطوط جو آپ کے اور دوسروں کے درمیان لکھے گئے ۔ وہ خطوط جن کا تبادلہ دشمنوں سے ہوا ہے ۔ان دوست اور دشمن لوگوں کے بیانات کے علاوہ جو اس معرکہ میں عینی شاہد تھے اور جنہوں نے یہ حادثہ بیان کیا ہے۔ ان کو پڑھیں ۔امام حسین علیہ السلام کے تین چار دوست بھی ایسے تھے جو بچ گئے تھے۔ ان میں سے عقبہ بن سمعان نامی ایک غلام بھی تھا جو مکّہ سے امام علیہ السلام کے ساتھ ہوگیا تھا اور حضرت اباعبداللہ علیہ السلام کے لشکر کا رپورٹر تھا ۔وہ عاشور کے دن پکڑا گیا تھا اور جب اس نے کہا کہ میں غلام ہوں تو اسے چھوڑ دیا گیا تھا ۔ایک اور شخص کا نام حمید بن مسلم ہے جو لشکر عمر سعد کا ایک واقع نگار تھا ۔ واقعہ میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی ذات بھی تھی جنہوں نے تمام واقعات بیان کئے ہیں ۔امام حسین علیہ السلام کی تاریخ میں کہیں کوئی ابہام اور دھندلا پن نہیں ہے ۔
بد قسمتی سے امام زین العابدین علیہ السلام کے بارے میں حاجی نوری ایک من گھڑت اور تحریفی قصّہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ روز عاشورا جب امام حسین علیہ السلام کا کوئی مدد گار باقی نہیں رہا تو حضرت علیہ السلام خدا حافظ کہنے کے لئے امام زین العابدین علیہ السلام کے خیمے میں تشریف لے گئے ۔حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: بابا جان !آپ کا اور ان لوگوں کا اب کیا حال ہے ؟ (یعنی اس وقت تک امام زین العابدین علیہ السلام حالات سے بالکل بے خبر تھے ) امام علیہ السلام نے فر مایا: بیٹے لڑائی چھڑ گئی ۔امام زین العابدین علیہ السلام نے پوچھا: حبیب بن مظاہر کا کیا حال ہے؟ آپ نے فرمایا: قتل ہو گئے ۔پھر پوچھا: زہیر بن قین کا کیا حال ہے؟ آپ نے فرمایا: قتل ہوگئے ۔بریر بن خضیر کا کیا حال ہے؟ فرمایا: قتل ہوگئے ۔غرض اصحاب میں سے جس جس کا نام لیتے گئے امام حسین علیہ السلام فرماتے گئے قتل ہو گئے ۔پھر بنی ہا شم کے بارے میں پوچھا: قاسم علیہ السلام بن حسن علیہ السلام کا کیا حال ہے؟ فر مایا: قتل ہوگئے ۔میرے بھائی علی اکبر علیہ السلام کا کیا حال ہے؟ فر مایا: قتل ہو گئے ۔چچا عبّاس کی کیا خبر ہے؟ فر مایا: قتل ہو گئے ۔یہ سب مکالمہ جھوٹ ہے، گپ ہے ۔
امام زین العابدین علیہ السلام اتنے بیمار اور بیہوش نہیں تھے جو نہ جانتے یا نہ سمجھتے کہ کیا ہو چکا ہے ۔تاریخ کا بیان ہے کہ اس حالت میں بھی امام علیہ السلام اٹھے اور بولے پھوپھی جان !میری لا ٹھی اور تلوار میرے لئے لا دیجئے ۔
واقعہ کربلا میں جو لوگ موجو د تھے اور جنہوں نے حالات بیان کئے ہیں ان میں امام زین العابدین علیہ السلام کی ذات گرامی بھی شامل ہے ۔
اس لئے ہم توبہ کریں اور واقعی ہمیں توبہ کرنا چاہئے ۔اس جرم اور بد دیانتی کی وجہ سے جس کا ارتکاب ہم حضرت امام حسین علیہ السلام، ان کے اصحاب، دوستوں اور ان کے اہل خاندان کے متعلق کر رہے ہیں اور ان کا اعزاز اور افتخار چھین رہے ہیں ۔ہم کو چاہئے کہ پہلے توبہ کریں اور پھر اس مکتب کی تر بیت سے فیض اٹھائیں ۔
قابل اعتبار مقاتل کی کتابوں میں جس طرح لکھا ہے امام حسین علیہ السلام کے علاوہ یزید کو کسی سے کوئی غرض نہیں تھی ۔امام حسین علیہ السلام نے بھی فرمایا تھا کہ ان لوگوں کو صرف میری ذات سے غرض ہے اگر یہ مجھے مار ڈالیں تو پھر انہیں کسی سے کوئی سر وکار نہیں ہو گا۔ جس وقت شمر بن ذی الجوشن کوفہ سے کربلا کے لئے روانہ ہونے لگا اس وقت حاضرین میں سے ایک شخص نے ابن زیاد سے بیان کیا کہ میرے بعض ننھیال والے حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام کے ساتھ ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو ان لوگوں کے لئے ایک معافی نامہ لکھ دے ۔ابن زیاد نے لکھ بھی دیا ۔شمر کا قبیلہ جناب ام البنین کے قبیلے سے دور کی قرابت رکھتا تھا ۔وہ یہ پیغام نویں محرم کو عصر کے وقت کربلا میں لایا، یہ پلید، امام حسین علیہ السلام کے خیمے کے قریب پہنچا اور زور سے چلاّیا: ”این بنو اختنا“ (میرے بھانجے کہاں ہیں؟) ابو الفضل علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے پاس بیٹھے تھے۔ ان کے بھائی بھی وہاں موجود تھے۔ جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔یہاں تک کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اجیبوہ وان کان فاسقاً“ (جواب تو دیدو ، فاسق آد می ہی سہی۔)
آقا علیہ السلام نے اجازت دی تو جواب دیا، فرمایا: ”ما تقول“ (تو کیا کہتا ہے؟)
تمہارے لئے خوش خبری لایا ہوں ۔تمہارے لئے خوش خبری لایا ہوں ۔ تمہارے لئے امیر عبیداللہ بن زیاد سے معافی لا یا ہوں ۔تم آزاد ہو ۔اگر ابھی چلے جاؤ گے تو تمہاری جان بچ جائے گی ۔آپ نے کہا خدا تجھ پر، تیرے امیر ابن زیاد پر اور اس معافی نامہ پر جو تو لایا ہے، لعنت کرے ۔کیا ہم اپنے امام علیہ السلام، اپنے بھائی کو صرف اس لئے چھوڑ دیں کہ ہم بچ جائیں؟
"جاری ہے”
والسّلام
علی من اتبع الھدی
التماس دعا
"روبی”