The True Islam
"پوسٹ 7”
السلام علیکم!
"حصہ ششم ”
” گزشتہ سے پیوستہ:-
”تحریف کے اسباب”
"آیت اللہ شہید مرتضی مطہری (رہ)”
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
"تیسرا سبب کا پانچواں حصہ”
عاشور کی رات کو جس نے سب سے پہلے حسین علیہ السلام کی حما یت کا اعلان کیا وہ آپ کے سعادت مند بھائی ابو الفضل العبّاس علیہ السلام تھے۔
ان حماقت آمیز مبالغوں کو چھوڑیئے جو لوگ کرتے ہیں۔ لیکن تاریخ میں یہ تو مسلّم ہے کہ ابو الفضل العبّاس علیہ السلام بہت پختہ طبیعت، بہت شجا ع، بہت حوصلہ والے، بلند قامت اور خوبصورت تھے ۔
”وکان ید عیٰ قمر بنی ہاشم“
(انہیں لوگوں نے قمر بنی ہاشم کا لقب دیا تھا ۔)
(العبّاس‘ تالیف: عبد الرزاق الموسوی المقرم/ص: ۸۱۔ مناقب ابن شہر آشوب/ج: ۴/ص: ۱۰۸)
یہ حقیقت ہے ۔شجاعت انہوں نے علی علیہ السلام سے ورثہ میں پائی تھی ۔ان کی والدہ کا قصّہ بھی سچا ہے کہ علی علیہ السلام نے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ میرے لئے ایک بیوی تلاش کرو جو
”ولدتھا الفحولہ“
(بہادروں کے یہاں پیدا ہوئی ہو)
(العبّاس‘ تالیف: عبد الرزاق الموسوی المقرم/ص: ۶۹۔)
عقیل، ام البنین کا انتخاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ وہی خاتون ہیں جیسی آپ چاہتے ہیں ۔
”لتلد لی فارساً شجاعاً“
(میرا دل چاہتا ہے کہ اس بیوی سے میرے لئے ایک بہادر بیٹا پیدا ہو )۔
(ابصار الحسین علیہ السلام فی انصار الحسین علیہ السلام/ص:۲ ۶)
"یہاں تک سچ ہے۔”
اب آگے جو بیان ہے ملاحظہ فرمائیں علی علیہ السلام کی تمنا عبّاس علیہ السلام کی صورت میں پوری ہوگئی ۔
روز عاشورا آتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق عبّاس علیہ السلام سامنے آتے ہیں۔ عرض کرتے ہیں بھائی جان ! مجھے بھی اجازت دیدیجئے ۔میرا دم گھٹ رہا ہے ۔اب بر داشت نہیں ہوتا ۔چاہتاہوں کہ جلد سے جلد آپ پر اپنی جان فدا کر دوں ۔ میں نہیں جانتا کہ امام علیہ السلام نے کس مصلحت سے عبّاس علیہ السلام کو یہ جواب دیا، خود آنحضرت ہی بہتر جانتے تھے ۔ فرمایا: بھائی! جانا ہی چاہتے ہو تو جاؤ بلکہ ہو سکے تو میرے بچوں کے لئے تھوڑا سا پانی بھی لا دو ۔
(”سقّا“ یعنی بہشتی کا لقب پہلے ہی عبّاس علیہ السلام کو مل چکا تھا۔ کیونکہ پچھلی راتو ں میں ایک یا دو بار عبّاس علیہ السلام دشمنوں کی صفیں چیر کر حسین علیہ السلام کے بچوں کے لئے پانی لے کر آئے تھے
(ایسا نہیں کہ ان لوگوں نے تین دنوں اور تین راتوں تک پانی نہیں پیا تھا ۔ "نہیں”
۔ (بلکہ) تین راتیں اور تین دن گذ رے تھے جو پانی کی ممانعت ہوئی تھی ۔لیکن اس دوران بھی ایک دو بار پانی لایا گیا ۔ایک بار شب عاشور بھی پانی آیا تھا ۔لوگوں نے غسل بھی کیا تھا ۔اپنے بدن بھی دھوئے تھے۔”)
ابوالفضل علیہ السلام نے فرمایا: سر آنکھوں پر ۔ دیکھئے کتنا شاندار منظر ہے ۔کتنی عظمت، کتنی شجاعت ہے، کتنی حوصلہ مندی، کتنی انسانیت ہے، کتنا شرف، کتنی معرفت اور جانثاری ہے ۔ تن تنہا ایک ہجوم پر جا پڑ تے ہیں ۔جن دشمنوں نے پانی کی ناکہ بندی کر رکھی تھی ان کی تعداد چار ہزار لکھی ہے ۔ نہر فرات میں اترے گھوڑے کو پانی میں ڈالا (یہ سب غلط لکھا ہے)
سب سے پہلے وہ مشک بھرتے ہیں جو ساتھ لائے تھے اور کندھے پر لٹکا لیتے ہیں ۔پیاسے ہیں۔ ہوا گرم ہے ۔لڑے ہوئے ہیں ۔ بدستور گھوڑے پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ پانی گھوڑے کے پیٹ سے لگا ہے ۔پانی میں ہاتھ ڈالتے ہیں ۔ چلو میں پانی بھر کر ہونٹوں تک لے جاتے ہیں ۔ جو دور سے دیکھ رہے تھے انہوں نے کہا ہے کہ تھوڑی دیر رُکے ۔پھر ہم نے دیکھا کہ پانی پئے بغیر نکل آئے ۔پانی فرات میں ڈال دیا ۔کوئی نہیں سمجھ پایا کہ ابوالفضل علیہ السلام نے اس وقت پانی کیوں نہیں پیا ۔لیکن جب باہر آئے تو رجز پڑھا ،اس رجز میں دوسروں کو نہیں، خود کو مخاطب کیا ۔اس رجز سے لوگ سمجھے کہ پانی کیوں نہیں پیا؟
اے ابوالفضل علیہ السلام کے نفس !میں حسین علیہ السلام کے بعد زندہ نہیں رہنا چاہتا ۔حسین علیہ السلام موت کا شر بت پینے والے ہیں ۔ حسین علیہ السلام علیہ السلام خیموں کے پاس پیاسے کھڑے ہوں اور تو پانی پئے؟ مروّت کہاں گئی؟ شرافت کہاں چلی گئی ؟محبت اور ہمدردی کو کیا ہو گیا؟ کیا حسین علیہ السلام تیرے امام نہیں ہیں؟ کیا تو ان کا ماموم نہیں ہے ؟ کیا تو ان کے پیچھے چلنے والا نہیں ہے؟ (ینابیع المؤدة/ج:۲/ص: ۱۶۰۔ بحارالانوار/ج: ۴۵/ص: ۴۱)
میرا دین مجھے اس کی بالکل اجازت نہیں دیتا ۔میری وفا داری مجھے اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتی ۔
ابوالفضل علیہ السلام نے واپسی میں اپنا راستہ بدل دیا ۔نخلستانوں میں سے ہو کر آئے تھے پہلے سیدھی راہ سے آئے تھے ۔اب چونکہ یہ سمجھتے تھے کہ ساتھ میں ایک بیش قیمت امانت ہے اس لئے اپنا راستہ تبدیل کر دیا اور پوری پوری کوشش یہ رہی کہ پانی سلامتی کے ساتھ پہنچ جائے کیونکہ اس بات کا امکان تھا کہ کوئی تیر آکر مشک چھید ڈالے اور پانی بہہ جائے اور منزل تک نہ پہنچ جائے ۔اسی حال میں تھے کہ دیکھا ابوالفضل علیہ السلام کا رجز بدل گیا ۔معلوم ہوا کوئی نیا حادثہ پیش آگیا ہے فریاد کی:
واللہ ان قطعتم یمینی
انی احامی ابداً عن دینی
و عن امام صادق الیقین
نجل النّبیّ الطاہر الامین
خدا کی قسم !اگر تم میرا دایاں ہاتھ بھی کاٹ ڈالو گے تو بھی میں حسین علیہ السلام کا دامن نہیں چھوڑ دونگا ۔
(بحا رالانوار/ج: ۴۵/ص: ۴۰)
تھوڑی ہی دیر کے بعد رجز بدل گیا
یانفس لا تخش من الکفار
وابشری برحمة الجبّار
مع النّبیّ السیّد المختار
قد قطعوا ببغیہم یسری
)بحا رالانوار/ج: ۴۵/ص: ۴۰)
اس رجز میں آپ نے یہ بتا دیا کہ آپ کا بایاں ہاتھ بھی کٹ چکا ہے ۔لکھتے ہیں کہ اسی تر کیب سے بڑی مشکل کے ساتھ آپ نے مشک کو گھمایا اور اس پر جھک گئے ۔میں اپنی زبان سے نہیں کہہ سکتا ہوں کہ کیا حادثہ پیش آیا ۔کیونکہ کہ بہت دل ہلا دینے والا ہے ۔
نویں تاریخ کی شب یہ دستور ہے کہ اس عظیم ہستی کی مصیبت بیان کی جاتی ہے ۔
میں یہ بھی عرض کر دوں کہ حضرت عبّاس کی والدہ گرامی امّ البنین علیہ السلام کربلا کے حادثہ کے وقت زندہ تھیں لیکن کربلا میں نہیں مدینہ میں تھیں۔ انہیں لوگوں نے خبر پہنچائی کہ کربلا کے حادثے میں آپ کے چاروں بیٹے شہید ہوگئے ۔یہ بزرگ خاتون جنّت البقیع کے قبرستان میں آتی تھیں اور اپنے بیٹوں پر روتی تھیں ۔ لکھتے ہیں کہ ان بی بی کے بین اس قدر درد ناک ہوتے تھے کہ جو آجاتا تھا رونے لگتا تھا ۔یہاں تک کہ مروان بن حکم بھی جو سخت ترین دشمن تھا اپنی نوحہ سرائی میں کبھی آپ کے تمام بیٹوں کو اور کبھی ان میں سے سب سے بڑے بیٹے کو خاص طور پر یاد کرلیتا تھا ۔
"جاری ہے”
والسّلام
علی من اتبع الہدی
"روبی”