The True Islam
"پوسٹ 8″
السلام علیکم!
” گزشتہ سے پیوستہ”
"کربلا کے حادثہ کی معنوی تحریفیں”
"آیت اللہ شہید مرتضی مطہری (رہ)”
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ ۙ وَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ
"سورہ مائدہ /۱۳”
ہم (آیت الله مطہری) کہہ چکے ہیں کہ کربلا کی جو باعظمت تاریخ ہمیں ملی ہے اس میں لفظی تحریف بھی ہوئی ہے اور معنوی بھی۔
تحریف لفظی سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اس تاریخ کے جسم کو اپنی طرف سے ایسا لباس پہنادیا ہے کہ اس کا عظیم اور روشن چہرہ دھندلا گیا ہے اور اس کا حسن ماند پڑگیا ہے اس سلسلے میں میں نے کچھ مثالیں بھی عرض کردی ہیں
"معنوی تحریف”
بد قسمتی سے ہم نے اس تاریخی حادثے میں معنوی تحریف بھی کی ہے اور معنوی تحریف لفظی تحریف سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے
اس بڑے حادثے کی جو تاثیر جاتی رہی ہے اس کا سبب تحریفات لفظی نہیں تحریفات معنوی ہیں
یعنی تحریفات لفظی سے تحریفات معنوی کے بری اثرات زیادہ رہے ہیں
تحریف معنوی کیا ہے؟
کسی ایک جملے میں تو ہم کوئی لفظ نہ گھٹائیں نہ بڑھائیں لیکن جب ہم اس کے معنی مطلب بیان کریں تو اس طرح کریں کہ جملے کے حقیقی اور اصل معنی کے بالکل خلاف یعنی الٹے معنی ہوجائیں اس بات کی وضاحت کے لئے صرف ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں
جس زمانے میں مدینہ کی مسجد بنائی جارہی تھی عمار یاسر غیر معمولی طور پر خلوص سے محنت کیا کرتے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے
(یہ بیانات مسلم ہیں)
کہ پیغمبر اکرمٌ نے فرمایا تھا:-
یا عمار! تقتلک الفئة الباغیة
اے عمار! تمھیں باغی اور سرکش جماعت قتل کرے گی
(سیرۂ حلبی جلد ۲ صفحہ ۷۷)
اس کا اشارہ اِس قرآنی آیت کی طرف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو دھڑے ایک دوسرے سے لڑیں اور ان میں سے ایک سرکشی پر آمادہ ہوتو تمہیں چاہئے کہ تم دوسرے دھڑے کی مدد کے لئے سرکش اور باغی دھڑے کو دباؤ اور اسکی اصلاح کرو۔
پیغمبرٌ کے اس جملے سے جو آپٌ نے عمار یاسر کے بارے میں فرمایا تھا انکی منزلت بڑھ گئی تھی۔
اسی لئے جنگ صفین میں جو عمار یاسر حضرت امیر المومنینٌ کے لشکر میں موجود تھے تو اس لشکر کو بھی بزرگ اور حق پہ سمجھا جانے لگا تھا لیکن جن کے ایمان کمزور تھے انکو جب تک عمار قتل نہیں ہوگئے اطمینان نہیں ہوپایا تھا کہ وہ علیٌ کے لشکر میں جو کام کررہے ہیں وہ حق ہے؟
جس دن عمار معاویہ کے ہاتھوں علیٌ کے لشکر میں قتل ہوگئے تو چاروں طرف شور مچ گیا کہ پیغمبرٌ کی حدیث پوری ہوئی۔
اس بات کا مکمل ثبوت کہ معاویہ اور اس کے ساتھی باطل پر ہیں یہ ہے کہ یہ عمار کے قاتل ہیں اور پیغمبر اکرمٌ پہلے خبر دے چکے تھے کہ
"یا عمار! تقتلک الفئة الباغیة
اے عمار! تمھیں باغی اور سرکش جماعت قتل کرے گی ( مسند ابن حنبل جلد ۲ صفحہ ۱۹۹)
اور اس کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے
"وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ ۚ
اور اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں جھگڑا کریں تو تم سب ان کے درمیان صلح کراؤ اس کے بعد اگر ایک دوسرے پر ظلم کرے تو سب مل کر اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرنے والا گروہ ہے یہاں تک کہ وہ بھی حکم خدا کی طرف واپس آجائے
(سورہ الحجرات / ۹)
معاویہ نے یہاں ایک معنوی تحریف کر ڈالی کیونکہ وہ یہ تو کہہ نہیں سکتا تھا کہ پیغمبرٌ نے ایسی بات نہیں کہی ہے اسلئے کہ وہاں کم از کم تقریباً پانچ سو آدمی ایسے تھے جو گواہی دے رہے تھے کہ پیغمبرٌ سے یہ جملہ سنا ہے۔
شامیوں نے معاویہ پر اعتراض کیا کہ عمار کو ہم نے مارا ہے
معاویہ نے ان لوگوں کو جواب دیا کہ
"تم غلط سمجھ رہے ہو یہ صحیح ہے کہ پیغمبرٌ نے فرمایا تھا کہ عمار کو ایک باغی گروہ ایک سرکش دستہ قتل کرے گا ”
شامیوں نے کہا کہ:- لیکن عمار کو علیٌ نے نہیں مارا ہمارے فوجیوں نے مارا ہے
معاویہ نے کہا، نہیں، عمار کو تو علیٌ نے قتل کیا ہے جو انہیں یہاں لائے اور ان کے قتل ہونے کے اسباب پیدا کیئے۔۔۔۔۔
عمرو عاص کے دو بیٹے تھے ایک اسی کے طرح دنیا دار اور دنیا پرست تھا اور دوسرا اس کے مقابلے میں مومن اور ایمان دار جوان تھا اور باپ سے متفق نہیں تھا
اس کا نام عبدالله تھا
ایک صحبت میں وہ موجود تھا لوگوں نے یہی معنوی مغالطہ پیش کیا
عبدالله نے کہا:- کیا بکتے ہو، کیسی غلط سلط باتیں کرتے ہو،
چونکہ عمار علیٌ کے لشکر میں تھے اس لئے علیٌ نے انہیں قتل کیا؟
وہ سب بولے:- ہاں
اس نے کہا:-
تو پھر اس منطق سے شید الشہداء حمزہ کو بھی رسول اکرمٌ نے شہید کیا کیونکہ حمزہ پیغمبر اکرمٌ کے لشکر میں تھے اور قتل ہوئے؟
معاویہ سخت ناراض ہوکر عمرو عاص سے کہنے لگا اپنے اس بےادب لڑکے کو کیوں نہیں روکتے؟
اسے کہتے ہیں معنوی تحریف۔۔۔۔۔
"جاری ہے”
والسّلام
علی من اتبع الہدی
"روبی”