السلام علیکم
جینڈرڈاٹ کام نامی ویب سائت پہ ڈاکٹرز اس کے متعلق کہتے ہیں کہ In general, men store less fat than women and possess more bone and muscle mass – giving them a more substantial physical presence.
Studies have found many similarities but also differences in brain
structure, neurotransmitters, and function
Cosgrove, Kelly P.; Mazure, Carolyn M.; Staley, Julie K. (2007). "Evolving Knowledge of Sex Differences in Brain Structure, Function, and Chemistry”
دوسری عبارت۔
In adults, men’s brains are an average of 11–12% heavier than women’s brains
O’Brien, Jodi (2009). Encyclopedia of Gender and Society.
Several meta-studies by Richard Lynn between 1994 and 2005 found mean IQ of men exceeding that of women by a range of 3–5 points.
Lynn, Richard (1999). "Sex differences in intelligence and brain size: A developmental theory”
دوسری عبارت
A psychological study was conducted where about 1200 high school graduates were recruited to take tests looking at each of their verbal, reasoning, spatial abilities, and general scholastic knowledge.[64] Male and female performances were compared through these tests. As a result of this testing, it was discovered that males had a higher mean score on all four tests than the mean score of the females who participated in the study
Allik, J., Must, O., & Lynn, R. (1999)
تیسری عبارت
Jackson and Rushton found males aged 17–18 years had average of 3.63 IQ points in excess of their female equivalents.
ntelligence 34
چھوتی عبارت
A 2005 study by Helmuth Nyborg found an average advantage for males of 3.8 IQ points.
Nyborg, Helmuth (2005). "Sex-related differences in general intelligence g, brain size, and social status”. Personality and Individual Differences 39
پانچویں عبارت
One study investigated the differences in IQ between the sexes in relation to age, finding that girls do better at younger ages but that their performance declines relative to boys with age.
Personality and Individual Differences 36:
چھٹی عبارت
A study from 2007 found a 2-4 IQ point advantage for females in later life.
Keith, Timothy Z.; Reynolds, Matthew R.; Patel, Puja G.; Ridley, Kristen P. 2008 inteligence 36
ساتویں عبارت
Irwing (2012) found a 3 point IQ advantage for males in g from subjects aged 16–89 in the United States.
Irwing, Paul (2012). "Sex differences in g: An analysis of the US standardization sample of the WAIS-III”. Personality and Individual Differences 53
درج بالا عبارتوں سے جو متعدد مایرین نفسیات کی سالوں پہ محیط تحقیق کے بعد ہمارے پیچ نظر ہیں نہ صرف یہ کہ اس بات پر دلالت کرتیں ہیں کہ مرر عورت کے مقابلہ میں نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی و دماغی اعتبار سے قوی ہے(واضح رہے کہ یہ عمومی ہے) بلکہ اس سے تو مولا علی علیہ اسلام کہ علم کی وسعت کے بھی دریچے کھلتے ہیں اور انسان یہ ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کی یہ ہستیاں واقعی اللہ ذولجلال کی منتخب کردہ ہیں۔
اب رہا میراث کا مسئلہ تو یہ ملحدین کی تو کوئی شریعت ہے ہی نہیں نہ کوئی دین کہ وہ اس پر اعتراض کی جرات کرے۔کیونکہ کسی سانسن نے تو میراث کے قانون آج تک متعین نہیں کئے۔میراث کا قانون تو دین ہی محیا کرتا ہے اور اس میں حق بھی۔ ان کی تو ہر ادا ہی نرالی ہے۔ خیر ہم قول معصوم علیہ اسلام سے میراث میں مرد کے مقابلہ میں آدھا حصہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ اسلام نے جنگجو مجاہدوں کی ذمہ داری عورتوں سے اٹھا لی ہے اور باز نا دانستہ جرم جن میں دیت دینا پڑتی ہے عورت کی سزا دوسرے کی شرکت کے ساتھ معاف کردی ہے۔لہذا ترکہ میں عورت کا حصہ کم رکھا ہے۔
اختصار وقت کی وجہ سے مزید تبصرہ نہیں کرتا۔ اور آپ اہل علم احباب پہ مولا امام جعفر الصادق علیہ السالام کا صرف فرمان پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں حق سمجھنے کی توفیق بخشے بحق محمد و آل محمد ﷺ
یہ ذہن میں رہے کہ اسلوب قرآن کے مطابق خلقت انسانی میں مرد و عورت بطور عنوان میں کوئی تفاوت نہیں، چناچنہ سورہ نساء کی پہلی آیت میں ارشاد رب العزت ہوتا ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے
اور سورہ اعراف کی آیت 189 میں اس مضمون کی آٰیت بایں ہے:
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا
وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا کہ اس سے چین پائے
اب پتا یہ چلا کہ بعنوان خلقت عورتوں اور مردوں میں کوئی تفاوت نہیں۔ اور وہ عقل جس سے انسان جنت کماتا ہے اور خدا کی اطاعت کرتا ہے ممکن نہیں کہ خدا اس میں مردوں کو زیادہ حصہ دے اور عورتوں کو کم حصہ دے اور دونوں کے حساب میں برابری رکھے۔ یعنی بالفاظ دیگر خدا خلقت اس انداز سے کرے عورتوں کی اور پھر اس خلقت کے بعد اس عادت کو ہی ان کی جنت سے دوری کا ذریعہ بنائے، یہ عقلا و نقلا دونوں اعتبار سے باطل ہے۔
لہذا ادھر مطلقا عقل کی بات نہیں ہورہی جس سے انسان خدا کی عبادت میں مدد لیتا ہے بلکہ ادھر معاشرتی عنوان سے جو مخصوص عورتوں کی تدابیر و فکر ہوتی ہے اس کی مذمت ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر ہمارے قارئین اصل خطبہ کی طرف مراجعت کریں تو یہ عنوان جلی خود دیکھ سکتے ہے جو شیخ راضی بایں قرار دیتے ہے:
بعد فراغه من حرب الجمل، في ذم النساء
مولائے کائنات ع کے خطبہ میں سے اقتباس جب وہ جنگ جمل سے فارغ ہوئے عورتوں کی مذمت میں۔
چنانچہ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ جناب عائشہ نے امام علی ع پر خروج کیا اور اس خروج کو انصاف پسند علماء نے تحسین کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ اس پر خطائے اجتہادی کی مہر ثبت کی اور بعض نے اس بغاوت سے تعبیر۔ اور یہ ایک عورت کا ہی کردار تھا جو اتنے سارے لوگوں کے قتل کا باعث بنا چناچنہ اس قسم کی عورتوں کی قدح میں امام علی ع نے یہ الفاظ (بالفرض صحت) فرمائے۔
ادھر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادھر ہر عورت کی بطور جنس و استغراق مذمت ہے یا خاص صفات کی حامل عورتوں کی مذمت کی جارہی ہے تو جواب یہ دیا جائے گا کہ تواریخ میں بہت ساری ایسی شخصیت گذری ہیں جن کے مرتبہ تک بڑے بڑے اولیاء بھی نہیں پہنچ سکیں لیکن ان کا تعلق صنف نازک سے تھا۔ ان میں سے بعض اہم شخصیات یقینا ہمارے قارئین جانتے ہوں گے جن میں سرفہرست سیدہ فاطمہ، سیدہ خدیجہ، سیدہ آسیہ، سیدہ مریم علیھن السلام ہیں جن کی جلالت و عظمت پر کوئی کلام نہیں تو کیا ان پر بھی بالعموم ناقص الایمان کا انطباق کیا جائے گا تو جواب ہر ذی شعور یہی دے گا کہ جی نہیں تو ہم یہی کہتے ہیں کہ جب استثنات موجود ہیں تو اس کو عمومی قرار دینا صحیح نہیں۔
اب ہماری اس بات کی موئید امام علی ع کی اس ہی نہج البلاغہ میں موجود وہ کلام ہیں جن میں امام علی ع نے کافی مردوں کو عقل سے عاری تصور کیا۔ چناچنہ نمونہ کے طور پر بعض اقوال امیر المومنین ترجمہ کے ساتھ پیش خدمت ہیں:
أَيُّهَا الشَّاهِدةُ أَبْدَانُهُمْ، الْغَائِبَةُ عَنْهُمْ عُقُولُهُمْ،
اے وہ قوم جس کے بدن حاضر ہیں اور عقلین غائب۔
نہج البلاغہ خطبہ 96 (ترجمہ ذیشان حیدر جوادی اعلی اللہ مقامہ)
ادھر آپ تمام دیکھ سکتے ہیں کہ مردوں کو خطاب کرکے کہا گیا کہ ان کی عقلیں غائب ہیں اور طرفہ یہ ہے کہ عورتوں کو تو فقط ناقص العقل کہا گیا تھا لیکن مردوں کی عقلوں کو غائب کہا گیا تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکلا جائے کہ سارے مرد مراد ہیں؟ جی نہیں، آئے ایک اور مثال دیکھتے ہیں:
أَيَّتُهَا النُّفُوسُ الْمخْتَلِفَةُ، وَالْقُلُوبُ الْمُتَشَتِّتَةُ، الشَّاهِدَةُ أَبْدَانُهُمْ، وَالْغَائِبَةُ عَنْهُمْ عُقُولُهُمْ، أَظْأَرُكُمْ
اے وہ لوگو جن کے نفس مختلف ہیں اور دل متفرق، بدن حاضر ہیں اور عقلیں غائب۔
نہج البلاغہ خطب 131 (ترجمہ ذیشان حیدر جوادی اعلی اللہ مقامہ)
چنانچہ ان دو مثالوں سے پتا چلا کہ جس طرح اس میں عقل کے غائب ہونے کو تمام مردوں پر قیاس کرنا غلط ہے اسی طرح اس خطبہ میں اس کو تمام عورتوں پر قیاس کرنا غلط ہے۔
جب ہم اس خطبہ کے مصادر کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہم شیخ عبدالزھرا الکعبی کی گرانقدر کتاب مصادر نهج البلاغة واسانيده جو دار الاضواء بیروت کی چھاپ ہے اس کے جز دوم ص 87 سے مصادر خطبہ کو دیکھتے ہیں اور اس خطبہ کے شواہد نقل کئے جن میں الکافی کی ایک روایت کو نقل کیا جس کی سند اور متن (کا ایک حصہ) یوں ہے:
5 – عدة من أصحابنا، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن أبيه، عمن ذكره، عن الحسين ابن المختار، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال: قال أمير المؤمنين (عليه السلام) في كلام له: اتقوا شرار النساء
الكافي – الشيخ الكليني – ج ٥ – الصفحة ٥١٧
اس کی سند میں عمن ذکرہ یعنی مجہول راوی ہے اور روایت قابل احتجاج نہیں۔
اس کے علاوہ خطیب عبدالزھرا نے اس خطبہ کے بعض مطالب کی نسبت تذكرة الخواص سے بھی دی تو تحقیق کے بعد اس روایت کو تذكرة الخواص، صفحہ 308، طبع مكتبة الثقافة الدينية میں دیکھا جس کے الفاظ یہ رہے:
إن النساء نواقص الحظوظ نواقص العقول
اسی طرح اس روایت کی نسبت علامہ ذیشان حیدر جوادی نے المسترشد للطبری الشیعی (جو قم کی چھاپ ہے) کی طرف بھی دی ہے تو جب اس کی طرف رجوع کیا تو یہ قول ہمیں بایں سند ملا:
– وروى الشعبي (2)، عن شريح بن هاني
اور صفحہ 418 پر یہ عبارت جاکر ملتی ہے
والنساء نواقص العقول
تو جب تعمق و تدقق سے کام لیا تو اس قول کی نسبت بھی مولا علی ع کی طرف کرنا صحیح نہیں کیونکہ اول تو پوری سند کا بیان ہی نہیں ہوا (جو روایت کے ارسال پر دال ہے) اور دوسری بات یہ ہے کہ شعبی شیعہ علم رجال میں جو وقعت رکھتا ہے وہ اہل علم کے سامنے پوشیدہ نہیں۔
خیر ہمارا جواب سندی اعتبار سے ایک استقلالی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ اصل بات مضمون کی تھی جس کو مان بھی لیا جائے تو اس کے وہ معنی مراد نہیں لئے جاسکتے جسے ہمارے بعض احباب گرداننا چاہتے ہیں، البتہ بات جب عقیدے کی دھلیز پر آئی تو مجبورا سند کا کام لینا پڑا۔
لہذا خلاصہ جواب یوں بنا کہ:
1، بعض علماء کے نزدیک اس خطبہ کا انتساب امام علی ع کی جانب کرنا اشکال سے خالی نہیں
2، اگر صحت خطبہ کو تسلیم کربھی لیا جائے تو ادھر تمام عورتیں کی بات نہیں بلکہ فقط اس تاریخی تناظر میں جن خاتون کا ایک کلیدی کردار تھا جنگ برپا کرنے میں، ان جیسی خواتین کی مذمت و قدح ہیں۔والسّلام علی من اتبع الہدی”روبی”