روحانیت کے سفر میں اپنے مرجع تقلید آیت الله سیستانی سے نجف میں ملاقات کا منظر اور انکی نصیحتیں۔

السلام علیکم 
روحانیت کے سفر میں اپنے مرجع تقلید آیت الله سیستانی سے نجف میں ملاقات کا منظر اور انکی نصیحتیں۔

ستمبر 26-2017 

محرم 5

نجف میں پہچنے کے دو دن بعد ہمارے گروپ لیڈر نے بتایا کہ ہم لوگ کل جائیں گے آیت الله سیستانی سے ملاقات کے لئے یہ سن کے جو دل کی حالت تھی وہ بیان نہیں کرسکتے 

(اس وقت یکایک خیال آیا کہ جب نائب امام سے ملنے پہ ہماری یہ حالت ہے تو امام عج سے ملنے پہ پتہ نہیں یہ دل ہی نہ بند ہوجائے)

ہم سب کو بتایا گیا کہ آپ لوگ اپنی ہر چیز ہوٹل میں رکھ کے جائیں پرس، بیگ، سیل فون، انگوٹھی، پین وغیرہ  

ہم لوگ ہوٹل سے روانہ ہوئے حرمِ امام علی ع کے صحن سے ہوتے ہوئے ایک گلی کی طرف روانہ ہوئے

جس میں دونوں طرف دوکانیں تھیں تھوڑی دور جانے کے بعد ایک جگہ گلی میں سیکیورٹی سے گزرنے کے بعد دوبارہ چلنا شروع ہوئے تھوڑی دیر کے بعد ایک جگہ جوتے چپل اتار کے گھر میں داخل ہوئے وہاں دوبارہ سیکیورٹی چیک پوسٹ پہ رکے یہاں سے مردوں کو الگ بھیجا گیا اور خواتین کی الگ چیکنگ ہوئی۔ خواتین کی زیادہ چیکنگ نہیں ہوئی۔ 

 ہمارے ساتھ ہماری بیٹی اور داماد بھی تھے داماد نے بتایا کہ مردوں کی ناخن کی بھی چیکنگ ہوئی اور جس کے تھوڑے سے بھی ناخن بڑھے ہوئے تھے اسکو کاٹا گیا (کیوں اسکی وضاحت بعد میں پتہ چلی) 

پھر ہم لوگ ایک کمرے میں پہنچے وہاں کرسیاں لگی ہوئی تھیں اور چاروں طرف گارڈز کھڑے تھے ان کرسیوں پہ پہلے خواتین کو پیچھے کی طرف بٹھایا گیا پھر آگے مردوں کو بیٹھایا گیا یہ سب ہمارے گروپ کی ہی لوگ تھے تھوڑی دیر بعد ایک بہت ہی نورانی شخصیت کمرے میں داخل ہوئی ان کی عمر لگ بھگ ۵۵ سال ہوگی گروپ لیڈر نے تعارف کرایا کہ یہ آیت الله سیستانی کے بیٹے ہیں وہ کمرے میں پیچھے کے دروازے سے اندر چلے گئے اور تھوڑی دیر میں ہی اپنے ساتھ آیت الله سیستانی کو لے کے دوبارہ کمرے میں داخل ہوئے ان کو دیکھ کے بےساختہ منہ سے سبحان الله نکلا آج تک صرف تصویروں میں ہی دیکھا تھا تصویر سے بالکل ہی مختلف اور بارعب شخصیت نظر آئی، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نور کا ایک ہالا بنا ہوا ہے ان کے چاروں طرف، 

 ہم سب کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے کمرے میں ہوا کا ایک معطر جھونکا آیا ہو 

پن ڈراپ سائیلنس تھا ان کے ساتھ ان کے گارڈز بھی تھے وہ پاس سے گزرتے ہوئے سامنے دیوار کے ساتھ نشست پہ جا کے بیٹھے 

ان کے ساتھ ہمارے گروپ لیڈر بھی بیٹھے تھوڑی دیر تک وہ آپس میں دعا سلام کرتے رہے پھر آیت الله سیستانی ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور سب سے پہلے انہوں نے سلام کیا وہ عربی میں بات کرنا شروع ہوئے گروپ لیڈر نے اس کو انگلش میں ترجمہ کر کے بتانا شروع کیا 

آیت الله سیستانی 

السلام علیکم ورحمة الله و برکاته 

سب سے پہلے آپ سب کا شکریہ کہ ہم سے ملنے آئے ہم معذرت خواہ ہیں کہ آپ سب کو اتنی تلاشیوں سے گزرنا پڑا مگر یہ ہماری مجبوری ہے کیونکہ یہ یہاں کی حکومت کے انتظامات ہیں 

آپ سب امت مسلمہ ہماری تہجد کی نماز کی دعاؤں میں شامل ہوتے ہیں دنیا میں جہاں جہاں شیعانِ حیدر کرار ہیں ہم ان سب کے لئے دعاگو ہیں پروردگار سب کی پریشانیاں دور کرے آمین 

آپ لوگوں کو کچھ نصیحتیں ہیں 

آپ لوگ کینڈا اور امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اس لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت پہ بہت گہری نظر رکھیں کوشش کریں کہ بچوں کو اپنے ہم مذہب بےبی سیٹر کے پاس چھوڑیں کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ وہاں زیادہ تر خواتین بھی جاب کرتی ہیں اس لئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کیونکہ چھوٹے بچوں کا ذہن بہت نازک اور کچی لکڑی کی طرح ہوتا ہے اور استعماری قوتیں وہیں پہ یہ کام شروع کرتی ہیں کہ بچوں میں اپنی تعلیمات متعارف کرواتی ہیں 

بچوں کو جب تک بالغ نہ ہوجائیں زبردستی نماز روزےاور دوسرے احکامات پہ مجبور نہ کریں بلکہ خود نماز پڑھیں تو انکو کم از کم اپنے سامنے بیٹھائیں تاکہ وہ آپ کو دیکھ کے خود اسطرف راغب ہوں کیونکہ زبردستی کرنے سے وہ نماز روزے اور دوسرے احکامات سے دور ہوں گے اسکو اپنے اوپر بوجھ سمجھیں گے آپ خود اپنے کو پابند کریں تو بچے والدین سے سب سے پہلے سیکھتے ہیں 

دوسری اہم بات آپ لوگ بچوں کو اپنی مادری زبان ضرور سیکھائیں ساتھ ساتھ عربی بھی ہو تو بہتر ہے یہ بات خاص طور پہ اردو بولنے والوں کے لئے نصیحت ہے کیونکہ اردو میں جتنی کتابوں کے ترجمہ ہوئے ہیں انگلش میں موجود نہیں ہیں جب بچے اردو سیکھیں گے تو اپنی کتابوں سے بھی استفادہ حاصل کریں گے اور آگے چل کے شاید وہی اسکو انگلش میں ترجمہ کریں 

اسکے علاوہ ہم سب کو امام عج کے ظہور کے لئے تیار رہنا ہے اب وقت دور نہیں۔ 

ہم سب کو دعا کرنا چاہئے کہ جلد از جلد امام عج کا ظہور ہو اور ہم سب ان کی نصرت کرسکیں۔ آمین

اپنی آنکھیں ہر وقت کھلی رکھیں کسی بھی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں، تحمل اور صبر کا دامن نہ چھوڑیں اپنے میں اتحاد پیدا کریں 

واجبات پہ زیادہ فوکس کریں 

ایسا نہ ہو کہ واجبات کو پسِ پشت ڈال کے مستحبات پہ لگ جائیں 

ہماری دعائیں ہمیشہ آپ سب کے ساتھ اور تمام مسلمانوں کے لئے رہیں گی ان شاءالله ۔۔۔ 

یہ باتیں ختم ہونے کے بعد ان سے ہاتھ ملانے کا سلسلہ شروع ہوا پہلے تمام مردوں سے ہاتھ ملایا ( اس وقت پتہ چلا کہ سب کے ناخن کیوں کاٹے گئے تھے کیونکہ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ ناخن کے ذریعہ زہر ان کے جسم تک پہچایا جاسکتا ہے کیونکہ مردوں سے ہاتھ ملاتے ہیں) 

اس کے بعد خواتین کی باری آئی تو ان کے ہاتھ پہ انکی ہی عبا کا کپڑا ڈالا گیا اور خواتین نے ان کے ہاتھ پہ ہاتھ پھیرا اور دوسرے ہاتھ سے انہوں نے سب کے سروں پہ ہاتھ پھیرا اس وقت اگر کسی کو کوئی سوال پوچھنا تھا تو ان سے پوچھا 

ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ حرم میں نماز کی امامت کے لئے نہیں جاتے؟

اس پہ انہوں نے جواب دیا کہ 

ہم اس لئے نہیں جاتے حرم میں کہ جب وہاں جائیں گے تو لوگ مرقدِ امام ع کی طرف سے توجہ ہٹا کے ہمارے احترام میں کھڑے ہوں گے اور ہماری طرف متوجہ ہوں گے یہ بات ہم کو برداشت نہیں کہ لوگوں کی توجہ امام ع کے روضہ سے ہٹے یہ بات ہم برداشت نہیں کرسکتے۔۔۔  

ان سوال جواب کے بعد ہم سب ایک ایک کرکے ان سے رخصت ہوکے دوسرے کمرے میں آئے تو وہاں ایک شخص نے ہم سب کو آیت الله کی طرف سے تحفہ میں ایک ایک امامِ زمانہ کے نام کا سکہ دیا۔ یوں ہم لوگ ملاقات سے فیض یاب ہوکے واپس اپنے ہوٹل پہنچے ۔۔۔

اس کے بعد جب ہم واپس آگئے تو ہمارے گروپ لیڈر نے بتایا کہ جس گھر میں ہم لوگ گئے تھے وہ کرایہ کا مکان ہے انہوں نے بتایا کہ انکے ایک دوست نے جب سنا کہ یہ کرایہ کا مکان ہے تو انہوں نے مالک مکان سے بات کی کہ وہ یہ خرید کے آیت الله کو گفٹ کردیں یہ بات جب آیت الله سیستانی کو پتہ چلی تو انہوں نے کہا کہ کیا مالک مکان کو ہم سے کوئی پریشانی ہے؟ 

یا کوئی اور وجہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہم کہیں اور رہیں گے مگر اس طرح کا کوئی تحفہ نہیں چاہئے ہم کیسے کوئی مکان تحفہ میں لے لیں جبکہ ہمارے لاکھوں مقلد بےسرو سامانی کی حالت میں ہیں 

ایک دفعہ کسی نے تحفہ کے نام پہ کچھ پیسے دیئے اور شرط رکھا کہ یہ آپ خود اپنے اوپر استعمال کریں گے اتنا سننے پہ آیت الله سیستانی نے وہ پیسے واپس کردیئے کہ مجھے اس شرط پہ کوئی گفٹ نہیں چاہئے۔ 

جس گھر میں ہم لوگوں کی ان سے ملاقات ہوئی وہ کوئی محل نما نہیں تھا بلکہ ایسا مکان تھا جس کی دیواروں پہ پلستر بھی نہیں تھا۔ 

یہ سب دیکھ کے اندازہ ہوا کہ ہمارے مرجع کتنے عظیم انسان ہیں اور علم کی بلندیوں پہ ہیں ان کی نظر ہر طرف ہے دنیا کے حالات سے بھی بےخبر نہیں ہیں 

آخیر میں یہی دعا ہے کہ پروردگار ہمارے تمام مراجع اکرام کی حفاظت فرما اور ان کا سایۂ تا قیامت ہمارے سروں پہ قائم رہے۔ 

 آمین یا رب العالمین! 

والسلام 

روبی عابدی

(اس تحریر کو فورورڈ

‏(Forward )

کیا جاسکتا ہے بغیرکسی ردوبدل کے ۔ شکریہ)

تبصرہ کریں