آزمائش کا مفہوم

 الہی آزمائش کا مفہوم:

جس چیز کو اردو زبان میں ” آزمائش” اور ” آزمانا” کہا جاتا ہے، وہ چیز قرآن مجید میں مختلف الفاظ میں آئی ہے-

مثال کے طور پر” ابتلاء” ” بلاء” ” فتنہ، اور تمحیص” 

پروردگار قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ میں نے انسانوں کو پیدا کیا تاکہ ان کی آزمائش کروں کہ ان میں سے کون بہتر عمل انجام دیتا ہے- اور ارشاد فرماتا ہے:

ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْمَوْتَ وَٱلْحَيَوٰةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْغَفُورُ

اس نے موت و حیات کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں حَسن عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے اور وہ صاحب عزّت بھی ہے اور بخشنے والا بھی ہے [سورہ ملک/2] 

اللَّه کی طرف سے آزمائش اور امتحان کا ہماری آزمائش اور امتحان سے کافی فرق ہے- ہماری آزمائش زیادہ تر پہچان حاصل کرنے اور ابہامات اور جہالت کو دور کرنے کے لئے ہوتی ہے-

[مکارم شیرازی، ناصر، تفسير نمونه، ج 1، ص 527، دارالکتب الاسلامیة، طبع بیست و یکم، 1365 شمسی.] 

کہیں طوق و سلاسل ہیں کہیں زہر ہلاہل ہے

ہمیں ہر آزمائش میں الٰہی سرخ رُو رکھنا

(آتش بہاولپوری)

لیکن اللَّه کی آزمائش و امتحان میں تربیت، پرورش اور کمال حاصل کرنے کا زمینہ پایا جاتا ہے- اور وہ پرورش اور کمال کو انسانوں کے لئے وجود میں لاتا ہے،

چنانچہ حضرت ابراھیم (ع) جیسے انبیائے الہی سخت اور ناقابل برداشت آزمائشوں اور امتحانات کے بعد ہی عالی ترین مقامات پر فائز ھوئے ہیں-

وَإِذِ ٱبْتَلَىٰٓ إِبْرَٰهِۦمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٰتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّى جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى ٱلظَّٰلِمِينَ

اور اس وقت کو یاد کرو جب خدانے چند کلمات کے ذریعے ابراہیم علیہ السّلام کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنا رہے ہیں. انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت؟ ارشاد ہوا کہ یہ عہدۂ امامت ظالمین تک نہیں جائے گا [بقره / 124]

پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے 

آمین یارب العالمین 

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی عابدی”

تبصرہ کریں