ایک تجربہ کیا گیا کہ بغیر سوچے سمجهے جو پرانی رسموں یا چیزوں کو
followفالو کرتے ہیں
تو ابتدہ کہاں سے ہوتی ہیں
اس کے پیچهے کیا مضمرات ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوتا ہے،
تجربہ:-
ایک کمرے میں دس( 10 ) بندروں کو رکها گیا اور وہاں ایک سیڑهی کهڑی کی گئی چهت سے لگا کے . اس سیڑهی کے اوپر چهت کے پاس کیلوں کا گچها رکها گیا ظاہر ہے بندروں کی پسندیده غذا،
اب بندروں نے جیسے ہی کیلا دیکها جهٹ سیڑهی کے اوپر چڑهنے کی کوشش کرنے لگے اور سارے بندروں میں زورآزمائی شروع کہ کون پہلے لیتاہے، ادهر جیسے ہی پہلا بندر کیلے کی پاس پہنچا وہاں پہلے سے ایک پانی کا پائپ لگا تها ،
اس کو فل کهول دیا گیا اب جو بهی بندر اوپر جاتا پانی کے زور کی وجہ سے نیچے گر جاتا یہاں تک ہر بندر تهوڑی تهوڑی دیر بعد کوشش کرتا مگر انجام وہی ہوتا اور کیلے تک کوئی نہیں پہنچ پاتا کچه عرصہ بعد یہ ہوا کہ جب کوئی بندر اوپر جاتا تو جو پہلیے گرا تها وه ان بندروں کی ٹانگ پکڑ کر کهنچتا اور اوپر چڑهنے سے روکتا کچه عرصہ بعد اس میں سے ایک بندر کو بدل دیا گیا یعنی پرانے نو( 9 ) بندر نیا ایک، ساته ہی ساته کیلا ہٹا دیا گیا مگر وہ سارے بندر اسی طرح سیڑهی پہ چڑهتے اور پانی کی وجہ سے نیچے گرتے اور نیچے والے بندر اسی طرح اسکی ٹانگ کهچتے غرض آہستہ آہستہ تمام بندر بدل گئے پرانے کی جگہ نئے آگئے مگران کی کوشش وہی رہی کہ جو اوپر جانے کی کوشش کرتا اسکو روکتے یہاں تک سارے بندر بدل گئے مگر کرتے وہی رہےیعنی سیڑهی پہ چڑهنا اور دوسرے بندروں کا ٹانگ کهچنا اب نئے بندروں کو یہ نہیں پتا تها کہ وہ اوپر کیوں جارہے بس اسی طرح کرتے رہے
نتیجہ یہی سامنے آیا کہ پرانی رسموں کو بغیر سوچے سمجهے پورا کرتے رہتے ہیں ان کا انجام انہی بندروں جیسا ہے کہ ان کو پتہ نہیں بس بزرگوں کی رسومات اور بدعات کو follow
کرتے ہیں اور اس پہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اسکی ابتدا کیسے ہوئی کیا ہم صحیح کررہے ہیں یا نہیں بس بنی اسرائیل کی طرح انکار کرنا ہے اور اسی بات پہ اڑ جانا ہے کہ کیا ہمارے باپ دادا نے غلط کیا
سب کے لئے لمحہ فکریہ
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”