السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ہم بہت جلدی کسی بھی مرجع پہ جس کے ہم مقلد نہ ہوں اس کو تنقید کا نشانہ بنا دیتے ہیں جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا۔۔
وہ مراجع اکرام ایک ہی جیسی تعلیمات حاصل کرتے ہیں مگر انکے کام کرنے اور سمجھنے کا طریقہ کار الگ الگ ہوتا ہے مگر ان میں سے کوئی غلط نہیں ہوتا۔ ان میں سے کون ہماری ریکوارمنٹ پہ پورا اترتا ہے اور کس طرح؟
اس کو سمجھنے کے لئے ایک دنیاوی مثال پیش ہے مثال کے طور پہ ہم کو اپنے گھر میں کچھ صحیح کروانا ہے یا ایک زمین ہے اس پہ مکان تعمیر کرنا ہے اب ہم نے چار الگ الگ آرکیٹیٹ کو بلایا سب سے کہا ہم کو گھر کا نقشہ بنا کے دو اب ان چاروں نے ایک ہی تعلیم حاصل کی ہے مگر چاروں کے نقشے مختلف ہوں گے اب اس میں سے جو ہماری ریکوارمنٹ پہ پورا اترے گا ہم اس نقشہ کو اپروف کریں گے جبکہ باقی تین نے بھی کچھ غلط نہیں بنایا کیونکہ تعلیم ایک ہی ہے مگر سب کے کام کرنے کا انداز مختلف ہوگیا، بالکل اسی طرح مختلف مراجع کی بات ہے سب نے ہی قرآن و حدیث سے ہی استبداد حاصل کیا اور سمجھا مگر پھر بھی ان میں کچھ کی سوچ اور کام کا معیار مختلف ہوگا کیونکہ سب نے اپنی سمجھ بوجھ کے ساتھ سمجھا ہے،
خدارا ایک دوسرے سے جتنے بھی اختلافات ہوں ہم کو متحد ہونا ہے دشمن ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے پہ لگا ہوا ہے جب ہی ہمارے مراجع اکرام بہتر حکمتِ عملی پر چلتے ہوئے اس طرح کا فتویٰ دیتے نظر آتے ہیں کہ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے بجائے صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ ہم نے جتنی جانیں گنوائیں ہیں اس کے بعد بھی ہماری آنکھیں نہ کھلیں تو تف ہے ہم پہ،
خدارا نظریاتی اختلافات صرف گھروں (یعنی اپنی محفلوں ) تک محدود رکھیں۔ گھر سے باہر نکل کے وہ اختلاف ایک فتنہ بن جاتا ہے۔ اور فتنہ پوری نسل انسانی کو برباد کر دیتا ہے ہم کو نسلِ انسانی کی آبیاری کرنا ہے اسکو برباد نہیں کرنا۔
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”