“خلوص و محبت ”
جذبات اور احساسات کیا ہوتے ہیں؟
کسی کو نہیں پتا ہوتا
وہی جانتا ہے جو اس کیفیت سے گُزرتا ہے۔
ہم سب اپنی اپنی زندگی کی الجھنوں سے تو واقف ہوتے ہیں لیکن کسی دوسرے کے دُکھ درد کو سرسری دیکھ کر اپنی نگاہیں جھُکا کر چلتے بننے میں ہی اپنی عافیت جانتے ہیں
ہمیں شاید اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب اس کرب کی یہی حالت ہم پہ خود آتی ہے۔
اپنے زخموں کو دیکھ کر اپنی تکلیف کا احساس ہونا کچھ عجیب نہیں بلکہ عجیب کسی کو تکلیف میں دیکھ کراپنی انسانیت والی آنکھ بند کرنا ہوتا ہے۔
کبھی خلوص و محبت کے پھول کھلتے تھے
اب اختلاف کے موسم گھروں میں رہتے ہیں
(اعجاز)
ہم اپنے ہاتھوں سے انسانیت کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں اور پھر دوسروں کو نصیحت کرنے کے لئے موضوع
’’انسانیت‘‘
ہی منتخب کرتے ہیں۔
یہ ہوتی ہے انسانیت؟
ہر گز نہیں بلکہ یہ انسانیت کی تذلیل کا وہ جُرم ہے جسے ہم عبادت سمجھ کر کرتے ہیں
اور جب ہمیں احساس ہوتا ہے تب تک انسانیت مر کر امر ہو چکی ہوتی ہے
اور ہم نئے عزم کے ساتھ انسانوں کو پھر سے بے وقوف بنانے کے لئے آنسو بہانے نکل پڑتے ہیں۔
اگر کبھی غلطی سے کسی کے احساس کو اپنا سمجھنے لگیں تو ایکٹینگ کا لیبل لگتا ہے،
کیونکہ یہی دنیا ہے
کسی کے خلوص کو کبھی خلوص نہیں سمجھتی،
اسکو ہمیشہ شک اور دهوکا یا مطلبی سمجھا جاتا ہے .
کیوں؟
کہاں سے ملے گا اسکا جواب؟
کون دے گےاسکا جواب؟
خلوص اور محبت کیسے خالص نظر آئے؟
وفا، خلوص و محبت ضرور ہوں گے کہیں
کبھی ملیں تو تبرک سمجھ کے لے آنا
(اتباف ابرک)
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
“التماسِ دعا ”
"روبی عابدی”
