خدا پرستی

السلام علیکم
کسی بھی قوم کا زوال دراصل اس کی فکری پسماندگی ہوتی ہے۔وہی تحریکیں اور قومیں بقا و ترقی کے مراحل طے کرتی ہیں جن کی فکر زندہ رہتی ہے، جو تجدید و اجتہاد کی راہ پر چلتی ہیں، فکر و تحقیق کے میدان میں پیش پیش رہتی ہیں اور بدلتے حالات میں اپنا سوچا سمجھا لائحہ عمل تیار رکھتی ہیں۔

اگر کوئی قوم سوچنا، تحقیق کرنا اور نئی نئی معلومات جمع کرنا چھوڑ دے تو وہ جمود میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ جمود کا لازمی نتیجہ انحطاط ہوتا ہے، اور انحطاط کا نتیجہ آخر کار کسی دوسری قوم کی ماتحتی ہوتا ہے۔ پھر جب کسی دوسری قوم کا غلبہ ہوتا ہے تو لامحالہ وہ محض سیاسی اور معاشی حیثیت ہی سے غالب نہیں ہوتی بلکہ سب سے بڑھ کر اس کا غلبہ فکری حیثیت سے ہوتا ہے یعنی اس کی تہذیب مغلوب قوم کی تہذیب پر غالب آجاتی ہے۔ اس کے بعد مغلوب قوم کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی تقلید کرنا شروع کردیتی ہے۔ اور یہ تقلید اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ مغلوب قوم کی انفرادیت ختم ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ فنا بھی ہوسکتی ہے۔ 

چنانچہ نہ جانے کتنی قومیں اس طرح فنا ہوچکی ہیں اور ان کی تہذیب محض تاریخ کا سرمایہ بن چکی ہے۔

فطری قانون یہ ہے کہ جو قوم عقل و فکر سے کام لیتی اور تحقیق و انکشافات کی راہ میں پیش قدمی کرتی ہے۔ اس کو ذہنی ترقی کے ساتھ ساتھ مادی ترقی بھی نصیب ہوتی ہے اور جو قوم تفکر و تدبر کے میدان میں مسابقت کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ وہ ذہنی انحطاط کے ساتھ ساتھ مادی تنزل میں بھی مبتلا ہوجاتی ہے۔ چونکہ غلبہ نتیجہ ہے قوت کا اور مغلوبیت نتیجہ ہے کمزوری کا، اس لیے ذہنی و مادی حیثیت سے درماندہ اور ضعیف قوموں کی درماندگی اور ضعف میں جس قدر اضافہ ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ غلامی اور محکومیت کے لیے موزوں ہوتی چلی جاتی ہیں اور ذہنی اور مادی دونوں حیثیتوں سے طاقتور قومیں ان کے دماغ اور ان کے جسم دونوں پر حکمرانی کرنے لگتی ہیں۔ اور ذہنی غلبہ دراصل فکری اجتہاد اور علمی تحقیق کے میدان میں تیز تر پیش رفت سے قائم ہوتا ہے-
مندرجہ بالا تعریف سے تحدید دین کا 

جو مفہوم واضح ہوتا ہے اور اس کے بعد تحریک اسلامی کو جن محاذ پر کام کرنے کی ضرورت ہے، وہ اس طرح ہیں:

(۱) عصر حاضر میں امت مسلمہ نے قرآن کو کتاب تلاوت اور کتاب ثواب بنا دیا ہے۔ تجدیدی کام یہ ہے کہ قرآن کو دوبارہ لوگوں کے لیے ہدایت و نصیحت اور فکر و تدبر کی کتاب بنایا جائے۔

(۲) موجودہ زمانے میں امت نے عبادت پر مسائل کو ترجیح دی ہے۔ ضرورت ہے کہ صحیح تصور عبادت کو نمایاں کیا جائے جس میں عابدین کے خشوع والے عنصر کو ابھارا جائے۔

(۳)امت مسلمہ نے عشق رسولؐ و آئمہ کو اتباع رسولؐ و آئمہٌ کے ہم معنی سمجھ لیا ہے۔ اتباع رسولؐ و آئمہ کے صحیح قرآنی مفہوم کو امت میں بیدار کیا جائے۔

(۴) مسلمانوں کی اکثریت نے خدا پرستی کے بجائے اکابر پرستی کو رائج کرلیا ہے، اس کھلی گمراہی کو ختم کرکے مسلمانوں کے اندر سچی خدا پرستی عام کرنے کی ضرورت ہے۔

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی”

تبصرہ کریں