السلام علیکم
"فزت ورَبّ الکَعبَہ”
”ربّ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔“
"آیت اللہ مکارم شیرازی کی ایک تحریر
کے کچھ حصے”
"رب الکعبة ” کی آواز میں غور وفکر”
یقینا ”فزت و رب الکعبہ” کی آواز کو تمام پیغاموں اور حضرت علی علیہ السلام کی شہادت میں پائے جانے والے معنی کی کنجی سمجھنا چاہئے۔ مرجع عالی قدر اور قرآن کریم کے بزرگ مفسر اس اہم فراز کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
کلمہ ”فوز ” جو کہ قرآن مجید میں عام طور سے لفظ”عظیم” کی صفت کے ساتھ ذکر ہوا ہے اور کسی کسی جگہ پر ”مبین” اور ”کبیر” کی صفت کے ساتھ ذکر ہوا ہے ، مفردات میں راغب کے بقول اس لفظ کے معنی کامیابی اور سلامتی کے ساتھ خیرات تک پہنچنے کے ہیں اور یہ اس وقت ہے جب آخرت کی نجات اسی میں ہو چاہے اس کی وجہ سے دنیوی اور مادی چیزیں ہاتھ سے چلی جائیں۔
مشہور روایات کے مطابق جس وقت محراب عبادت میں ظالم وجابر عبدالرحمن بن ملجم نے امام علی علیہ السلام کے فرق مبارک پر تلوار ماری تو آپ نے فرمایا : ”فزت و رب الکعبة” ۔ خدائے کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا (اور میرے سر کے خون سے میرے سعادت نامہ پر دستخط ہوگئے) !
جی ہاں کبھی کبھی پروردگار کا امتحان اس قدر سخت ہوتا ہے کہ سست ایمان کو بالکل ختم کردیتا ہے اور دلوں کو پلٹ دیتا ہے ، صرف سچے مومنین اس امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں جن کے پاس آرام وسکون کی نعمت ہوتی ہے اور قیامت میں بھی اس کے نتائج (تفسیر نمونہ ، جلد ٢٧ ، صفحہ ٣٣ ۔ ) سے بہرہ مند ہوںگے اور یقینا یہ بہت عظیم کامیابی ہے (تفسیر نمونہ ، جلد ٢٧ ، صفحہ ٣٤ ۔)۔
حضرت علی (ع) کی روح کا عالم ملکوت سے متصل ہوجانا
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نقطہ نظر سے ”فزت و رب الکعبة” کی آواز کے اہم ترین پیغام کو فرشتوں اور خدا کی ذات سے متصل ہونے میں تلاش کرنا چاہئے ، معظم لہ نے ایک حصہ میں فرمایا : یقینا جملہ ”مرصد للتلاقی” ((وداعی لکم وداع امری ء مرصد للتلاقی ! غدا ترون ایام … (نہج البلاغہ ، خطبہ ١٤٧)) سے ((جو شخص ملاقات کیلئے آمادہ او رمنتظر ہے))چاہے یہ ملک الموت سے ملاقات کے معنی میں ہو ، یا پروردگار سے ملاقات ہو ، معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی مقدس روح کا تعلق اس مادی اور بہت جلد ختم ہوجانے والی دنیا سے نہیں تھا بلکہ ان کا تعلق عالم ملکوت، خدا کے فرشتوں اور خدا کی ذات پاک سے تھا اور وہ ”ابن ملجم ” کی ضربت کو فوز عظیم اور پروردگار کعبہ سے ملاقات کا ایک مقدمہ سمجھتے تھے اور جملہ ”فزت و رب الکعبة” اس بات پر واضح ثبوت ہے اور اگر کچھ دنوں کیلئے پروردگار عالم کی حکمت کے مطابق ان کی پاک وپاکیزہ روح جسم کے اس پنجرہ ((پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ٥ ، صفحہ ٧١٧ ۔)) میں قید تھی تو وہ اس دنیا میں زندگی بسر کررہے تھے ، جس وقت یہ پنجرہ ٹوٹ گیا تو آپ نے اپنے دوست کی گلی و کوچہ میں جانے کیلئے اپنے ہاتھوں کو پھیلا دیا ( پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ٥ ، صفحہ ٧١٨ ۔٢٠)۔
ُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”
بہت اعلی ماشااللہ
پسند کریںLiked by 1 person