السلام علیکم
"ہر روز نيا قدم اٹھانا چاہيے”
ايک وجودکے زندہ ہونے کي بہترين علامت اس کا نشو و نموکرنا ہے، نشوو نمو کا اگر ايک لمحہ متوقف ہوجائے تو موت نزديک ہوجاتي ہے، اور جب کوئي زندہ موجود نشيب اور انحطاط کي طرف بڑھتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کي موت کاآغاز ہوجاتا ہے۔ اور يہ قانون انسان کي مادي اور معنوي زندگي بلکہ پورے معاشرے پر حاکم ہے(غور کريں) اس نکتے کو ذہن ميں رکھتے ہوئے ملاحظہ کريں کہ اگر ہم ہر دن قدم گے نہ بڑھائيں ،اور تقوي، اخلاق ادب، پاکيزگي ، رشد ، سے بہرہ مند نہ ہوں، اور ہر سال گزشتہ سال کا افسوس کرتے رہيں تو يقينا ہم ايک بڑے نقصان کا شکار ہوگئے ہيں ، اور ر استہ بھول کر غلط راستہ پر چل پڑے ہيں، ہميں اس خطرے کا شدت سے احساس کرنا چاہيے
ہمارے امام اورہادي اميرالمومنين (عليہ السلام ) نے اس سلسلہ ميں بہترين بات ارشاد فرمائي ہے:
"من استوي يوماہ فھومغبون و من کان في نقص فالموت خير لہ “
"اگر کسي کي زندگي کے دد دن ايک جيسے رہے تو وہ دھوکے کا شکار ہوگيا ہے” (کيونکہ اس نے اپني زندگي کے سرمايے کو گنوا کر کوئي تجربہ حاصل نہيں کیا، حسرت اور اندوہ کے سوا کچھ نہيں کمايا) (بحار الانوار)
جو آدمي مسلسل نقصان کا شکار ہے اس کے لئے موت بہتر ہے،اس لئے کہ موت کم از کم مسلسل نقصان کو روک ديتي ہے! اسي لئے يہ ايک بڑي نعمت شمار ہوتي ہے! (بحارالانوار)
اگر عرفاء اور صالحين روزانہ ”مشارطہ“، ”مراقبہ“ ، ”محاسبہ“ اور ”معاقبہ“ کواپنے لئے لازم سمجھتے ہيں تو اس کي وجہ يہ ہے کہ حق کا راستہ تلاش کرنے والے غافل نہ ہوں اور اگر ان کے کام اور اعمال ميں کوئي نقص و عيب ہو تو اس کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہوجائيں، اور اس طرح روزانہ انوار الہيہ کے افق کو اپنے لئے وسيع کريں، اور اہل بہشت کي طرح صبح و شام ايک نئي عطاء اور بخشش کے منتظر رہيں: ” ولھم رقھم فيھا بکرة وعشياُ“(مريم)لہذا اپنے حالات سے غافل مت رہنا ، تاکہ زندگي کي تجارت ميں عمر کے نفيس سرمائے کو سستے داموں نہ بيچ ڈالو،اس لئے کہ ہر انسان ايک عظيم فائدہ حاصل کرسکتا ہے جيسا کہ قران مجيد کا ارشاد ہے:
"ان الانسان لفي خسر“ (العصر)
نقصان کا شکار مت ہونا
اپنے نفس کے محاسبہ سے بے خبر نہ رہنا ! ہر مہينے ہر دن اپنا حساب
کرتے رہو، قبل اس کے کہ کوئي تمہارے حساب کو آجائے
"آیت اللہ مگارم شیرازی”
پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے
آمین یارب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”