ہدایت

السلام علیکم 
"ہدایت”

إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا

بے شک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، یا تو وہ شکر گزار ہے اور یا ناشکرا-(القرآن : ٧٦/٣) 

یعنی اولًا اصل

فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گردوپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا، اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ 

"ہدایت کا قانون”

چونکہ اللہ تعالی نے ہماری موجودہ زندگی کو آزمائش کے اصول پر تخلیق کیا ہے لہذا وہ زبردستی انسانوں کو صحیح راستے کی طرف نہیں موڑتا، ورنہ آزمائش کا بنیادی تصور ہی ختم ہو جائے۔ پیغام اور پیغامبر کی ضرورت نہ رہے۔ زندگی اور موت کا سلسلہ بے معنی ہو جائے، بلکہ پوری کائنات کی تخلیق ہی بے مقصد ہو جائے۔

اللہ تعالی نے انسان کو ارادے اور انتخاب کی آزادی دے رکھی ہے، خیر و شر کی پہچان کی صلاحیت وجدانی طور پر ہمارے اندر رکھ دی ہے، اب اگر ہم اس صلاحیت سے کام نہ لیں اور اسے ضائع کر کے اندھے، بہرے بن جائیں تو اللہ تعالی ہمیں زبردستی ہدایت کی طرف نہیں لائے گا، ورنہ سزا و جزا کا تصور ہی بے معنی ہو جائے گا۔

ہدایت سے متعلق اللہ تعالی کا قانون تمام انسانوں کے لیے یہ ہے کہ وہ صرف اسے ہدایت دیتا ہے جو پہلے خود ہدایت کا طلب گار بنے۔ اس کا قانون اندھا، بہرہ (جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں) نہیں ہے کہ ایک شخص ہدایت چاہتا ہی نہیں، وہ اسے زبردستی ہدایت کے راستے پر لے آئے اور دوسرا شخص ہدایت کا طلب گار ہو اور وہ اسے گمراہ کیے رکھے۔ لہذا اللہ تعالی اپنے بندوں کو اسی وقت ہدایت دیتا ہے جب بندہ خودتہ دل سے ہدایت کا طلب گار بن جائے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے بقول یہ دروازہ صرف اسی کے لیے کھلتا ہے جو اسے کھٹکھٹاتا ہے اور جو اسے کھٹکھٹانے کی زحمت نہیں کرتا، اس کے لیے یہ کبھی نہیں کھلتا۔

قرآن مجید میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ قانون الٰہی نبیوں کی بیویوں، اولاد اور والدین تک کے لیے تبدیل نہیں ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور بیٹا، حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد ایک طرف، اور دوسری طرف فرعون کی بیوی، اس قانون کی واضح مثالیں ہیں۔ انتخاب کی اس آزادی کے متعلق اللہ تعالی سورہ دہر (اسکو سورہ انسان اور سورہ ہل اتٰی بھی کہا جاتا ہے) میں ارشاد فرماتا ہے 

"ہم نے انسان کو راہ سجھا دی ہے۔ اب وہ چاہے تو شکر گزاری کی روش اپنائے اور چاہے تو ناشکری کی۔” (3/76) 

پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے 

آمین یارب العالمین 

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی”

تبصرہ کریں