باطنی اصلاح

السلام علیکم باطنی اصلاح کے تین اصول

قرآن مجید میں باری تعالیٰ نے جہاں پر ظاہری اعتبار سے ایمان والوں کی اصلاح کی ہے وہاں باطنی طور پر پائی جانے والی بیماریوں کا بھی تدارک کیا ہے۔

1 ۔کثرتِ گمان سے اجتناب

ارشاد باری تعالیٰ ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ

(الحجرات : 12)

’’اے ایمان والو! کثرت گمان سے بچو۔ بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں‘‘

ظن اور گمان انسان کی باطنی بیماری ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم ظن اور گمان کے عادی بن جاؤ اور اس طرح دوسروں کے بارے ایسے خیالات اور نظریات رکھنا شروع کردو جن کے وہ حامل نہیں ہیں۔ اس سے نتیجہ اپنے لئے گناہوں کو اکٹھا کرو گے کیونکہ ظن شیطان کی طرف سے بھی ہوتا ہے۔ شیطان ایمان والے کے دل میں دوسرے مسلمان کے متعلق بدگمانی کا وسوسہ ڈالتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس وسوسے کو اپنے دل میں جگہ نہ دیں بلکہ اس کی جگہ اپنے مسلمان بھائی کے متعلق نیک گمان رکھنا چاہئے اور اس پر قائم رہنا چاہئے۔ کیونکہ حسن ظن سے متعلق حدیث میں آتا ہے۔

يقُوْلُ اللّٰهُ اَنَا عِنْدَ ظَنّ عَبْدِیْ بِیْ فَلْيَظُنُّ بِیْ مَاشَآءَ

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جس کا وہ مجھ سے ظن رکھتا ہے۔ اب بندے کی مرضی ہے جیسا چاہے مجھ سے ظن رکھے‘‘

اگر کوئی شخص نیکی میں مشہور ہو تو اس کے متعلق بدگمانی کرنا جائز نہیں ہے اور جو اعلانیہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو اور فسق میں مشہور ہو اس کے متعلق بدگمانی کرنا جائز ہے۔

2 ۔جاسوسی کرنے کی ممانعت

وَلَا تَجَسَّسُوا

’’اور جاسوسی نہ کیا کرو‘‘

اسلام میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی جاسوسی کرنا اور اس کی پوشیدہ باتوں کا سراغ لگانے سے منع کیا گیا ہے بلکہ آقا علیہ السلام نے مسلمان کی پردہ پوشی کرنے کاحکم دیا ہے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا

مَنْ سَتَرَ مُسْلِماً سَتَرَهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَة

’’جو مسلمان اس دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی کرے گا‘‘

3 ۔  غیبت کرنے کی ممانعت

وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ

(الحجرات : 12)

’’نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو۔ کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ جسے تم ناپسند کرتے ہو‘‘

غیبت کیا ہے؟: غیبت سے مراد ایسی برائی یا عیب جو ایک شخص میں پایا جاتا ہو اور اس شخص کو ذلیل کرنے کے لئے وہ عیب یا برائی اس کی عدم موجودگی میں بیان کی جائے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیبت ایسی برائی یا عیب ہے جو حقیقت میں ایک شخص میں موجود ہے اگر وہ برائی یا عیب موجود نہ ہوتا تو پھر اس کے متعلق ایسی بات کرنا بہتان یا تہمت آتا ہے۔ غیبت انسان کے اعمال کو لکڑی کی طرح راکھ بنا دیتی ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ 

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

ذکرک اخاک بمايکرا

’’اپنے بھائی کا ایسا ذکر جس کو وہ ناپسند کرے‘‘۔ ۔ ۔ 

صحابہ کرام نے عرض کی اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں وہ غیبت ہے پھر صحابہ کرام نے عرض کی اگر وہ بات اس میں نہ پائی جاتی ہو تو اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح تم نے اس پر بہتان باندھا۔

غیبت کا کفارہ: 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا

’’غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس کے لئے استغفار کرو جس کی تم نے غیبت کی ہے”

موجودہ دور میں ہمارا یہ شیوہ بن گیا ہے کہ جہاں پر دو چار آدمی اکھٹے مل بیٹھتے ہیں وہ غیبت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ گھنٹوں تک اس گناہ میں شامل رہنے کے باوجود بھی اس کا احساس تک نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس گناہ سے کتنی تاکید کے ساتھ منع فرمایا ہے اور اس کے عذاب کو بھی بتادیا کہ غیبت کرنا اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے مترادف ہے جسے کھانا تم ناپسند کرتے ہو۔

پس درج بالا آیت میں اصلاح احوال کا قرآنی ضابطہ بیان ہوا ہے کہ معاشرے میں موجود ان برائیوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ ساری باتیں معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شب و روز کے معاملات پر نظر ثانی کریں کیونکہ آج ہماری نجی محفلوں میں، آپس میں دوستوں کے ہمراہ ان برائیوں میں مشغول رہتے ہیں اور قطرہ قطرہ اپنے نامہ اعمال کو گناہوں سے لبریز کررہے ہیں۔

آج کے دور میں ہمارا وطیرہ بن گیا ہے کہ ہم دوسروں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کی ذاتی زندگی سے متعلق بھی یہی کوشش ہوتی ہے حالانکہ ان کی ذاتی زندگی سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اگر ویسے ہی کسی سے متعلق کسی بات کا پتہ چل جائے تو ممکن حد تک پردہ پوشی کرو تاکہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہاری پردہ پوشی کرے۔ پس ان تمام گناہوں سے بچنے کی ضرورت ہے جو ہمارے لئے جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں۔

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی”

تبصرہ کریں