"خواتین”

السلام وعلیکم
‎بسم اللہ الرحمن الرحیم 

 سب سے پہلے تو جواب ہے ہاں پردے کی شرعی پابندی کے ساتھ ایک مسلمان عورت کو اجازت ہے کہ بغیر کسی شرعی تکلیف کے وہ مردوں کے مجمع میں خطاب کر سکتی ہے 

اسکی مثال میں سب سے پہلے ایران کہ پارلیمنٹ کا حوالہ دیں گے کہ اس میں خواتین شامل ہیں اور وہ خواتین منتخب ہوکے آئی ہیں اور ظاہر ہے لوگ یوہی انتخاب نہیں کر دیتے جب تک کینڈیڈیٹ اپنا مدعا بیان نا کرے اگر منع ہوتا تو آیت اللہ ضرور اسکو منع کرواتے اب آجاتے ہیں اسلام کی تعلیمات پہ تو ذرا لمبا ہوگا مگر پڑھ ضرور لینا سب شکریہ 

"”اسلام نے عورت کو معاش و معاشرت، قانون و سیاست اور تعلیم و تربیت کے ہر میدان میں عظیم مرتبہ و مقام عطا کیا ہے عورت اور مرد کے قانونی تشخص میں کوئی تفریق روا نہیں رکھی جا سکتی۔ اسلام میں عورت کی حیثیت صرف گھر کے اندر بند رہنا ہی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی، ریاستی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے میدان میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسلام میں خواتین اور مردوں کو ایک دوسرے کا اس طرح مددگار ٹھہرایا گیا ہے کہ سماجی و معاشرتی دائرہ میں معروف کے قیام اور منکر کے خاتمے، مذہبی دائرہ میں اقامت صلوۃ، اقتصادی دائرہ میں نظام زکوٰۃ کے قیام، اور سیاسی دائرہ میں اﷲ اور اس کے رسول صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی اطاعت کے ذریعے ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دیں

ریاست مدینہ کے قیام کے ساتھ ہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت  سے عورت کے حق رائے دہی کو قانونی بنیاد فراہم فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی سنت  پر عمل کرتے ہوئے خلفاء نے بھی اپنے اپنے ادوار میں خواتین کی رائے کی ریاستی معاملات میں شمولیت یقینی بنائی۔ بلکہ اسلام ہی نے عورت کو پہلی مرتبہ مقننہ میں نمائندگی دی بطور سیاسی مشیر کے لیا انتظامی ذمہ داریوں پر تقرری دی ریاست کی دفاعی ذمہ داریوں پر متعین کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود عورتوں کے ساتھ مختلف معاملات میں مشورہ فرمایا کرتے تھے جس کی مثال صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت ام سلمہ سے مشاورت سے پیش کی جا سکتی ہے اور پھر آپ کے مشورہ پر عمل کیا اس سے مختلف امور میں صائبۃ الرائے خواتین سے مشاورت کا اصول مستنبط ہوتا ہے۔آپ کی اس تعلیم پر خلفا بھی عمل پیرا رہے اسلامی معاشرے میں خواتین کو صرف مجلس شوریٰ کی رکنیت کا حق ہی حاصل نہیں تھا بلکہ وہ مختلف انتظامی ذمہ داریوں پر بھی فائز رہیں۔ مثلًا عمرنے شفا بنت عبد اﷲ عدویہ کو بازار کا نگران مقرر کیا تھا۔ وہ قضاء الحسبہ (Accountability court)اور قضاء شوق (Market Administration) کی ذمہ دار تھیں۔ > حضرت سمراء بنت نہیک اسدیہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ مبارک پایا تھا اور کافی عمر رسیدہ تھیں وہ جب بازار میں سے گزرتیں تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیتی تھیں ان کے پاس ایک کوڑا تھا جس سے ان لوگوں کو مارتی تھیں جو کسی برے کام میں مشغول ہوتے۔ححضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور مبارک میں عورتیں جہاد میں برابر حصہ لیتی تھیں، آپ نے عورتوں کو جہاد میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ عورتوں کی یہ حیثیت اسلامی معاشرے میں ان کے فعال کردار اور نمایاں مقام کی مظہر ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سلیم اور کچھ انصاری خواتین کے ہمراہ جہاد فرماتے تھے۔ یہ خواتین پانی پلاتی تھیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔‘‘اسلامی معاشرے میں عورت ایک مفتیہ، مبلغہ بھی ہوتی تھیں اور اسی طرح ایسی خواتین کا ذکر بھی ملتا ہے کہ جنہوں نے تلوار پکڑ کر عملًامیدان جہاد میں شرکت کی صفیہ بنت عبدالمطلب ع نے غزوہ خیبر میں یہودی کو قتل کیا۔اسلام نے عورت کو آزاد حیثیت دی اسے ہر کام کرنے اور اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے مواقع دیئے، حضرت اسماء بنت ابی بکر نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کا منصوبہ بنایا۔ وہتخطیط سازی کرتی اور خود کھانا پہنچاتی معلوم ہوا کہ عورتیں زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کرتی تھیں۔ اسلام نے ان خواتین کوعظیم القابات دے کر ان کی عظیم حیثیت کو معاشرے میں مضبوط کیا۔ صحابیات سفارتکاری کا کام بھی سر انجام دیتی تھیں۔ جیسا کہ حضرت عثمان نے ام کلثوم بنت علی ابن ابی طالب کو ملکہ روم کی طرف خوشبو، مشروبات اور کچھ تحائف دے کر ثقافتی مشن پر روانہ کیا الغرض حکومتی، سیاسی، قانونی ہر طرح کے معاملات میں عورتوں کے ساتھ مشاورت کی جاتی تھی یہ عظیم منصب اور حیثیت اسلام نے عورت کو عطا کی۔ "” 

یہ ہمارا بیان نہیں ہے یہ آیت اللہ خامنہ ای کی تقریر کا خلاصہ ہے 

صدق الله علي العظيم

الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔ 

"آمین یا رب العالمین ”

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی”

تبصرہ کریں