”دل ایک اسفنج“

ہم سب نے اسفنج (sponge) تو دیکھا ہے۔

اس کی خاصیت ہوتی ہے کہ

اسے جس قسم کے بھی محلول میں ڈال دیں

یہ اس محلول کو اپنے اندرجذب کر لیتا ہے۔

اور پھر جب اسے نچوڑا جاتا ہے تو جو کچھ اندر ہو،

وہ سب باہر نکال دیتا ہے۔

اگر صاف شفاف پانی ہو گا تو صاف پانی ہی نکلے گا۔

اور اگر گندہ اور بدبودار پانی ہو گا

تو وہ گندہ، بدبودار پانی ہی نکلے گا۔

انسان کا دل ❤️ بھی ایک اسفنج کی مانند ہے۔

ہماری روز مرّہ زندگی میں ہمارا دل بہت کچھ اپنے اندر جذب کرتا چلا جاتا ہے۔

لیکن جب ہم کسی مشکل میں کسی آزمائش میں

اور کسی فتنے میں مبتلا ہوتے ہیں

تو ہمارا دل نچڑتا ہے

اور جو کچھ دل میں ہوتا ہے وہ نکل کر سامنے آ جاتا ہے۔

اگر دل نے حسد، بغض، نفرت اور کینہ جیسی بیماریوں کو اپنے اندر جذب کیا ہو گا

تو کسی فتنے کے موقع پہ یا کسی آزمائش کے موقع پہ یہی کچھ باہر آئے گا

اور اگر دل نے آداب، اخلاق اور اللَّه کے دین کے ساتھ اخلاص کو جذب کیا ہو گا

تو آزمائش پڑنے پر یہی موتی سامنے آئیں گے۔

ہماری دعا ہے کہ

پروردگار ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے مزین فرما

تاکہ ہم کسی بھی فتنے اور آزمائشوں میں سرخرو ہو سکیں

آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا

"روبی عابدی”

تبصرہ کریں