السلام وعلیکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شیعہ نظریات
اکثر سوال ہوتا ہے کہ مراجع یا مجتھدین کے فتوے میں فرق کیوں ہوتا ہے؟
اس پہ ایک عالم کا تفصیلی جواب:-
علماء و مجتھدین امام ع کے نائبینِ عمومی ہیں
نائبین عمومی اور نائبینِ خصوصی الگ ہوتے ہیں
نائبینِ خصوصی وہ ہوتے ہیں جو امام ع کی خدمت میں جاتے ہیں ان کے احکامات لیتے ہیں
نائبینِ عمومی یہ ہیں جو ان صفات پہ پورے اترتے ہیں جو امام ع نے بیان کی ہیں
اب اسکے بعد ہم ان سے جب استفادہ کرتے ہیں تو انکی حیثیت مجتھد کی ہوتی ہے بحیثیت مجتھد وہ دن کی نشرواشاعت کرتے ہیں دین کو سمجھتے ہیں دین کی تفہیم کرتے ہیں آیات سے حدیث سے۔۔۔
اور اسکے بعد وہ ان مسائل کو بتاتے ہیں جو استنباد کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں یہ ہوتے ہیں مجتھدین ۔۔
اب یہاں ایک نکتہ اور واضح کردیں کہ عام طور پہ مسلمان میں جو مجتھدین اور فقہا گزرے ہیں جیسے مسلمانوں میں عالمِ مجتھدین میں چار فقہا کا تذکرہ ہوتا ہے
امام شافعی، امام حنبل، امام ابو حنفیہ، امام مالکی
یہ لوگ مجتھدین ہیں ان لوگوں نے دین کو اپنے طور پہ سمجھا ہے اپنے اجتھاد سے اپنے قیاس سے اپنی کاؤشوں سے اور وہ پیش کردیا
اجتھاد عام طور پہ اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو کمی تبلیغات میں رہ گئی اسکو قیاس سے تدبر سے غور وخوص سے دیگر چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے پورا کردیا جائے
لیکن مکتبِ تشیعہ کا اجتھاد یہ نہیں ہے
مکتب تشیع کو یہ یقین ہے یہ اعتقاد ہے یہ ایمان ہے کہ تبلیغات میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے کلی تبلیغات پیغمبرِ اسلام ص کی طرف سے پوری پوری آئی ہیں کوئی کمی نہیں ہے اسکو پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہے صرف اتنی سی بات ہے کہ وہ جزیات کہ جن کا تذکرہ اس وقت نہیں ہوسکتا تھا یا ضرورت نہیں تھی ان کو کلیات میں سے اخذ کرلیا جائے وہ کلی تبلیغات جو پیغمبر اسلام ص سے ہم تک آئی ہیں قرآن کے ذریعے سے ہم تک آئی ہیں ان میں سے جزوی چیزوں کو نکال لینا
یہ ہے ہمارے ہاں کا اجتھاد
تو یہ جو علماء ہیں یہ اجتھاد اس معنوں میں کرتے ہیں کہ کلیات میں سے جزیات اخذ کرلیتے ہیں تو اس لئے ان کے ہاں اختلاف ہوجاتا ہے
مرجع کا مطلب جس کی طرف رجوع کیا جائے امام ع نے کہا انکی طرف رجوع کرنا ہے تو وہ مرجع ہوگئے اس اعتبار سے کہ ان کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے
اب رجوع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم انکو امام ع مان لیں یا امام ع کا نائبِ خاص مان لیں یا امام ع کا ایسا نمائندہ مان لیں جو براہ راست امام ع سے کوئی پیغام لا کے ہمیں دے رہا ہو
ایسا نہیں ہے
بلکہ ان میں عمومی صفات ہیں کہ وہ دین کی ان باتوں کو کہ جن کو عام لوگ نہیں سمجھتے وہ سمجھتے ہیں وہ ہمیں بتا دیتے ہیں اسی وجہ سے ان کے درمیان جو اختلاف ہوتا ہے وہ جزیات میں ہوتا ہے ہمارے ہاں مجتھدین کے درمیان کبھی کلیات میں اختلاف نہیں ہوتا کیونکہ کلیات کو سب مانتے ہیں جزیات میں ہوتا ہے اور جزیات میں بھی نہیں بلکہ در جزیات میں ہوتا ہے
مثال کے طور پہ کلیات میں ہے کہ
مسافر نماز کو آدھا پڑھے گا اگر رمضان کا مہینہ ہے تو اتنے روزے وہ نہیں رکھے گا جو سفر میں گزرے ہیں اسکی گنتی وہ بعد میں پوری کرے گا
یہ کلی مسئلہ ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں اس میں اجتھاد کی ضرورت ہی نہیں اس کے بعد آگے سوال بڑھتا ہے کہ ہم مسافر کس کو سمجھیں کون مسافر ہے؟
کتنا سفر طے کرے گا جو مسافر ہوگا اب یہاں پہ بات تو جزوی ہے مگر اس میں اختلاف نہیں کہ آٹھ فرسخ کا فاصلہ طے کرے گا تو مسافر ہوجائے گا یہاں تک کوئی اختلاف نہیں ہے
اب ہم اس سے آگے بڑھیں کہ وہ فاصلہ گنا کہاں سے جائے گا آیا گھر کے دروازے سے گنا جائے گا یا آیا شہر کی حدود ختم ہونے سے گنا جائے گا آیا وسطِ شہر سے گنا جائے گا اب یہ جزیات در جزیات آگئیں
اس میں مجتھدین کا اختلاف ہوسکتا ہے تو یہ اختلاف مراجع کا اور مجتھدین کا جزیات در جزیات ہوتا ہے اس سے دین کی کلیات کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور بنیادی جزیات پہ بھی فرق نہیں پڑتا ہے
والسلام
بیان:- ایک عالم
الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین ”
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”