“مومن کی صفات”

السلام علیکم

“پوسٹ نمبر 1”

“مومن کی صفات”

روی ان رسول اللَّه صلی اللَّه علیہ وآلہ وسلم قال:

یکمل الموٴمن ایمانہ حتی یحتوی علیہ مائة وثلاث خصالٍ:

فعل وعمل و نیة وباطن وظاہر

فقال امیر المؤمنین علیہ السلام:یا رسول اللَّه صلی اللَّه علیہ وآلہ وسلم ما المائة وثلاث خصال؟

فقال صلی اللَّه علیہ وآلہ وسلم:یا علی من صفات المؤمن ان یکون جوال الفکر،جوہری الذکر،کثیراً علمہ عظیماً حلمہ،جمیل المنازعة ۔۔

(بحار الانوار ،ج/ ۶۴ باب علامات المومن،حدیث/ ۴۵ ،ص/ ۳۱۰)۔

ترجمہ: :پیغمبر اکرم صلی اللَّه م علیہ وآلہ وسلم نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ

مومن کامل میں ایک سو تین (۱۰۳) صفتیں ہوتی ہیں

اور یہ تمام صفات پانچ حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں

صفات فعلی،

صفات عملی،

صفات نیتی

صفات ظاہری

اور

صفاتِ باطنی

اس کے بعد امیر المومنین علیہ السلام نے عرض کیا کہ

اے اللَّه کے رسول وہ ایک سو تین صفات کیا ہیں؟

حضرت نے فرمایا:

‎”اے علیْ مومن کے صفات یہ ہیں کہ

وہ ہمیشہ فکر کرتا ہے اور علی الاعلان اللَّه کا ذکر کرتا ہے،

اس کا علم ،حوصلہ وتحمل زیادہ ہوتا ہے

اور دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتا ہے

(یہاں ہم ابھی مومن کی دس صفات بیان کررہے ہیں باقی آئندہ)

1- مومن کی پہلی صفت ” جوال الفکر“ ہے

یعنی مومن کی فکر کبھی جامد وراکد نہیں ہوتی وہ ہمیشہ فکر کرتا رہتا ہے اور نئے مقامات پر پہونچتا رہتا ہے۔

2- مومن کی دوسری صفت”جوہری الذکر“ہے:

بعض نسخوں میں” جہوری الذکر “بھی آیاہے ۔

ہماری نظر میں دونوں ذکر کو ظاہر کرنے کے معنی میں ہے۔

3- مومن کی تیسری صفت” کثیراً علمہ“ ہے ۔

یعنی مومن کے پاس علم زیاد ہوتا ہے

4- مومن کی چوتھی صفت”عظیماً حلمہ“ ہے

یعنی مومن کا علم جتنا زیادہ ہوتا ہے اس کا حلم بھی اتنا ہی زیاد ہوتا ہے

5- مومن کی پانچوین صفت”جمیل المنازعة“ہے

یعنی اگرمومن کو کسی کے کوئی بحث یا بات چیت کرنی ہوتی ہے تو اس کو نرم لب و لہجہ میں انجام دیتا ہے اورجنگ و جدال نہیں کرتا

ہو حلقہ ٫ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

(علامہ اقبال)

6- مومن کی چھٹی صفت”کریم المراجعة“ ہے

یعنی وہ کریمانہ اندز میں ملتا جلتا ہے

7- مومن کی ساتویں صفت”اوسع الناس صدراً“ ہے

یعنی اس کا سینہ سب سے زیادہ کشادہ ہوتا ہے

8- مومن کی آٹھویں صفت”اذلہم نفساً“ ہے

عربی زبان میں ”ذلت“ کے معنی فروتنی اور” ذلول “کے معنی رام ومطیع ہونے کے ہیں۔

لیکن اردو میں ذلت کے معنی رسوائی کے ہیں بس یہاں پر یہ صفت فروتنی کے معنی میں ہے۔

یعنی مومن میں بہت زیادہ فروتنی پائی جاتی ہے اور وہ لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا ہے سب چھوٹوں بڑوں کا احترا م کرتا ہے اور دوسروں سے اپنے احترام کی توقع نہیں رکھتا۔

9- مومن کی نویں صفت”اذلہم نفساً“ ہے۔

مومن کا ہنسنا بھی مودبانہ ہوتا ہے

10- مومن کی دسویں صفت ”اجتماعہ تعلماً“ہے۔

یعنی مومن جب لوگوں کے درمیان بیٹھتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ تعلیم و تعلم میں مشغول رہے۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

(علامہ اقبال)

“باقی آئندہ “

جاری ہے

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا

"روبی عابدی”

 

تبصرہ کریں