حضرت سکینہ صلوات الله علیہ

السلام وعلیکم

‏‎بسم اللہ الرحمن الرحیم 

جب جناب سکینہ(س) اس دنیا میں تشریف لائيں تو ان کا نام رسول خدا(ص) کی والدہ ماجدہ سيدة آمنة بنت وهب کے نام پہ "آمنة” رکھا گیا البتہ وہ تاریخی کتابوں سکینہ کے لقب سے معروف ہیں اور یہ لقب انھیں ان کی والدہ نے عطا کیا۔جناب سکینہ(س) کی ولادت باسعادت اپنے دادا حضرت علی(ع) کی شہادت کے سات سال بعد سن (47هـ) میں ہوئی اور اس اعتبار سے سانحہ کربلا کے وقت جناب سکینہ کی عمر 14سال تھی۔

پاکستان اور ہندوستان میں امام حسین(ع) کی جن چار سالہ بیٹی کو "سکینہ(ع)” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ان کا نام جناب "رقیہ(ع)” ہے اور ان کی شہادت تقریبا چار سال کی عمر میں شام کے زندان میں نہایت مظلومیت کی حالت میں ہوئی تھی اور آج بھی ان کا روضہ مبارک رقیہ بنت امام حسین(ع) کے نام سے دمشق میں ہرعام و خاص کی زیارت گاہ ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں جناب رقیہ بنت امام حسین(ع) کو "سکینہ” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ باقی ممالک میں جناب آمنہ بنت امام حسین(ع) کو "سکینہ” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

بہرحال جناب سکینہ(آمنہ بنت امام حسین(ع)) اپنے بابا کی شہادت کے بعد اپنے بھائی امام زین العابدین(ع) کے زیر سایہ رہیں اور معصوم امام سے علم و معرفت اور تقوی کے جوہر اخذ کیے اور اسلام اور حسینی مشن کی نشر و اشاعت میں بھرپور کردار ادا کیا، اسیری کے زمانے میں آپ کے دیے گئے بعض خطبے بھی تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔

پانچ ربيع الأول 117هجری کو امام حسین(ع) کی شہزادی حضرت سيدة سكينة(ع) نے دنیا کے بے انتہا مصائب دیکھنے کے بعد اس دار فانی کو خیر باد کہا

ایک اور روایت کے مطابق پیدائش 

42 ھ ہے جس کے مطابق کربلا میں آپ اٹھارہ سال کی تھی

.سوال : واقعہ کربلا کے وقت جناب سکینہ ع کی عمر کتنی تھی ، جیسا کہ امام حسین ع ان کو بہترین خاتون کہہ کر پکارتے تھے ؟

جواب : ظاھر یہ ہی ہے کہ جناب سکینہ بنت الحسین ع کی عمر کربلا میں 18 سال تھی کیونکہ آپ کی ولادت 42 ہجری میں ہوئی تھی ۔

آیت اللہ صادق روحانی 

عربی متن 

كم كان عمر السيّدة سكينه بنت الحسين (عليهما السلام) في واقعة الطفّ :

السؤال : 

كم كان عمر السيّدة سكينه بنت الحسين (عليهما السلام) في واقعة الطفّ ، مع ملاحظة تسمية الحسين (عليه السلام) لها بخيرة النسوان ؟

الظاهر أنّ عمرها كان ثمانية عشر سنة لأنّ ولادتها مؤرّخة بسنة 42 من الهجرة النبويّة المشرّفة .

عامرعباس الغدیری جرارالمہدی 

آپ چشم دید گواہ تھیں اور اس کے علاوہ ہمارے اور اماموں کے زمانے بھی گزرے ہیں مگر شیعوں کے کتب خانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس وقت کے حکمرانوں کی بےجا پابندیوں کی وجہ سے اہلبیت ہمیشہ خاموش رہے ہیں اور ہمارے پاس جو بھی روایات زیادہ تر پہنچی ہیں وہ غیر کے طفیل پہنچی ہیں جب ہی اس میں بہت کچھ غلط بیانی شامل رہی ہے 

شیعہ تاریخ نویسوں کے توسط سے حضرت سکینہ کی کسی اولاد یا کسی اور شوہر کا نام ذکر نہیں ہوا ہے ۔

‏‎کچھ جگہوں پہ منقول ہے کہ سکینہ نے اپنے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن حسن سے شادی کی

‏‎جبکہ بعض مآخذ سکینہ کے شوہر کا نام ابو بکر (عبد اللہ) بن حسن لکھتے ہیں ۔گویا ابو بکر عبد اللہ کی کنیت تھی ۔ قاضی نعمان نے ذکر کیا ہے کہ سکینہ کی شادی عبد اللہ بن حسن سے ہوئی عبد اللہ بن حسن کربلا میں شہید ہو گئے۔

‏‎اسیری کے بعد اسرائے اہل بیت(ع) کا قافلہ مدینہ واپس آگیا۔ لیکن مدینہ واپسی کے بعد کے حالات تاریخی لحاظ سے کوئی واضح نہیں ہیں۔

عثمان بن عفان کی بیٹی کے ساتھ حضرت سکینہ کی باہمی گفتگو بھی شاید اسی زمانے کی ہے ۔ منقول ہے کہ ایک جگہ پر دوسری خواتین کی موجودگی میں عثمان کی بیٹی نے فخر سے کہا : میں شہید کی بیٹی ہوں ۔حضرت سکینہ نے کوئی جواب نہیں دیا یہانتک کہ مؤذن نے اذان دینا شروع کیا اور جب اس نے "اشہد ان محمد رسول اللہ” کہا تو آپ گویا ہوئیں کہ یہ تمہارا باپ ہے یا میرا باپ۔ عثمان کی بیٹی شرمندہ ہوئی اور کہا: بس ہے اس کے بعد میں آپ سے آمنے سامنے نہیں ہو سکتی۔

‏‎ [ 1. ابو الفرج اصفہانی،الاغانی،14/)

‏‎اس سے ظاہر ہوتا ہے مدینہ واپسی کے بعد آپ بنو امیہ کی کربلا میں انجام دینے والے جنایات کا پردہ چاک کرتی تھیں اور اہل مدینہ کے اذہان عمومی میں اس واقعے کی حقیقت کو اجاگر اور راسخ کیا کرتی تھیں۔ حضرت امام حسین(ع) کے متعلق ان کے کہے ہوئے مرثیے اور اشعار اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

‏‎ایک روایت کے مطابق ان کی یہ رفتار دیکھ کر حاکم مدینہ نے آپ کو آپ کی بہن فاطمہ اور پھوپھی حضرت زینب کے ہمراہ مدینہ سے جلاوطن کیا تھا ۔[. یحیی بن حسین بن جعفر ، اخبار الزینبیات 119]

بی بی سکینہ بنت حسین(ع) نے کوفہ میں ایک ایسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا کہ اہل کوفہ آپ (ع) کی بلاغت و فصاحت پر دنگ رہ گئے اس خطبہ نے لوگوں کے دلوں کو کاٹ ڈالا اور لوگ غم کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئے اس خطبہ کا لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر پڑا اور ان کو احساس ہوا کہ ان سے کتنا گناہ عظیم سرزد ہوا ہے

حوالہ جات: (حیات الامام الحسین (ع) جلد ۳، ص۲۳۰، سیرت سیدہ زینب الکبری(ع) ، تاریخ الحسین (ع)۔

( چار سال کی بچی اس طرح کا فصیح و بلیغ خطبہ نہیں دے سکتی)

حضرت سکینہ(ع) واقعہ کربلا کے وقت عاقل و بالغ تھیں اور ان کی نسبت اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن حسن سے طے ہو چکی تھی، آپ نے واقعۂ کربلا کے بعد لمبی عمر پائی۔

اگر آپ کی مراد برصغیر میں رائج ننھی بیٹی سکینہ ہے جن کی شہادت شام میں ہوئی تھی، تو عرض ہے کہ ان کا اصل نام سکینہ نہیں تھا، لیکن آپ واقعہ کربلا کے وقت تین سے پانچ سال کے درمیانتھیں، اور آپ کی شہادت شام میں ہوئی۔

سکینہ بنت الحسین: امام(ع) کی بیٹی جن کی والدہ رُباب ہیں۔

فاطمہ: امام(ع) کی بڑی بیٹی جن کی والدہ ام اسحق بنت طلحہ بن عبیداللہ 

رقیہ (س): مرحوم حائری کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ یزدگرد سوئم کی بیٹی شہربانو ہیں۔اور بعض روایات کے مطابق ان کا نام ام اسحق تھا۔( ربانی خلخالی، علی، ص22، بحوالہ جنات الخلود، ص197، 

اور بحوالہ معالی السبطین، ج2، ص214.

جنات الخلود، ص199؛ 

ابصار العین فی انصار الحسین، ص368؛ 

بحوالہ ربانی خلخالی، چہرہ درخشان امام حسین علیہ‌السلام، ص22)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی”

تبصرہ کریں