السلام وعلیکمبسم اللہ الرحمن الرحیم
“پلِ صراط”
قرآن مجید کی آیات اور روایات میں پل اور صراط سے مراد، "راه” ، "مسیر” ، "اسلوب” ، "مذھب” ھے ، دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ لوگوں کو جاننا چاہئے کہ جو مذہب اور مسیر انھیں حقیقی اور ابدی سعادت تک پہنچا دے گا ، وه صرف ایک مذہب اور ایک مسیر ھے جس کی خاص خصوصیات اور صفات ہیں۔ اور وه پروردگار کا دین ( دین اسلام ) ھے ، اور صرف اس راه پر چلنے سے نجات اور فلاح مل سکتی ھے ، دوسری جانب اس راه کی صفات ، خصوصیات اور باریکیوں کی حقیقی معرفت سے غفلت ، انحراف اور گمراھی میں پڑنے کا موجب ھے۔
پس "پل صراط” جس کی تفسیر روایات میں "شمشیر سے تیز” اور "بال سے باریک” ھوئی ھے ، وه ایک عمیق ، اور منظم راستہ ھے جس کی شروعات خدانے اسی دنیا میں قرار دی ہیں ۔ اور یہ راه آخرت تک جاری ھے پس جو لوگ چاھتے ھیں کہ صراط اور پل سے بہ آسانی گزر جائیں انھیں اسی دنیا میں ہوشیار رھنا چاھئے کھ وه اسی راه پر چلیں اور اس سے الگ نہ ہوں۔
اور ایک گھڑی تعبیر کے مطابق قیامت میں پل صراط ، اسی دنیاوی پل صراط کا مظہر اور جلوه ھے جسے امام ۔۔۔ سے تعبیر کیا گیا ھے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "صراط خداکی معرفت کا راستہ ھے جو دو صراط پر مشتمل ھے ایک صراط دنیا میں ھے اور ایک صراط آخرت میں ھے” دنیا میں صراط وه امام ھے جس کی اطاعت کرنا واجب ھے لیکن آخرت میں صراط وه پل ھے جسے جہنم کے اوپر لگایا گیا ھے اور جو بھی دنیا میں دنیا کے صراط سے صحیح طورپر گزرے گا یعنی اپے امام کو پہچان لے گا وه آخرت میں بھی صراط سے آسانی سے گزر جائے گا اور جو دنیا میں اپنے امام کو نہیں پہچان پائے گا آخرت میں پل پر اس کے قدم ڈگمگائیں گے اور وه جہنم کی آگ میں گرجائے گا ۔ (معانی الاخبار ، ص ۳۲۔ میزان الحکمۃ ، ج ۵ ص ۳۴۶۔ ” ماده صراط”۔)
امام صادق علیہ السلام سوره فجر کی آیت نمبر ۱۴ ” ان ربک لبالمرصاد ” (بیشک تمھارا پروردگار ظالموں کی تاک میں ھے۔) کے ذیل میں فرماتے ھیں "مرصاد” وه پل ھے جو اس راستے پر بچھا دیا گیا ھے جو جہنم سے گزرتا ھے۔ اگر کسی کی گردن پر مظلوم کا حق ہوگا تو وه حق اسے گزرنے نھیں دےگا ۔ ( بحار الانوار ، ج ۸ ص ۶۶۔)
البتہ امام صادق کا یہ بیان "مرصاد” کے مصادیق میں سے ایک مصداق کو بیان کرتا ھے۔ کیونکہ "کمین گاه” صرف قیامت سے متعلق نہیں ھے اور مشہور پل صراط نہیں بلکہ خدا اس دنیا میں بھی ظالموں کی گھات میں بیٹھا ھے۔ ( تفسیر نمونہ، ج ۲۶ ص ۴۵۸۔)
پل صراط ایک حقیقت ھے کہ قرآن مجید (اس کے علاوه سوره مریم کی آیت نمبر ۷۱ ۔۔۔ ۷۳۔ ثم لنحن اعلم بالذین ھم اولی بھا صلیا ، و ان منکم الا واردها کان علی ربک حتما مقضیا ، چم ننجی الذین اتقوا و نذر الظالمیں فیھا جثیا ” پھر کم ان لوگوں کو بھی خوب جانتے ھیں جو جہنم میں جھونکے جانے کے زیاده سزاوار ہیں ، اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ھے جس ے جہنم کے کنارے حاضر نہ ہونا ہے کہ یہ تمھارے رب کا حتمی فیصلہ ھے اس کے بعد ہم متقی افراد کو نجات دے دیں گے اور ظالمیں کو جہنم میں چھوڑدیں گے۔” بھی پل صراط کی جانب اشاره ھے۔ ( ، تفسیر نمونھ ج ۱۳ / ص ۱۲۱، ۱۱۷۔)
اور روایات میں اس کی جانب اشاره کیا گیا ھے اور اسکی خصوصیات اور صفات بیان کی گئی ھیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جہنم کے اوپر ایک ایسا پل ھے جو بال سے باریک اور شمشیر سے تیز ھے۔ (میزان الحکمۃ ، ض ۵ ص ۳۴۶۔ ماده صراط )
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : (پل) صراط پر تمھارے درمیان سب سے زیاده ثابت قدم وه ھے جس کی میرے اھل بیت علیہم السلام سے زیاده محبت ہو (بحار الانوار ج ۸ ص ۶۹۔)
الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین ”
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”