السلام علیکم
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے.
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
"قرآن رٹ لینا ۔ آسان
سمجھ لینا ۔ مشکل
سمجھ کر عمل کرنا ۔ مشکل ترین ہے
حفاظِ قرآن کا تصور صرف مدارس سے ہی کیوں مختص ہے؟
تمام معاشرے سے کیوں نہیں ؟
یہ 👆 سوال دعوت ہے کہ ہر مسلمان اپنے آپ سے یہ سوال پوچھے
ہمارا تجربہ ہے کہ قرآن رَٹ لینے سے سمجھ کر پڑھنا آسان ہے
اگر سمجھ کر پڑھ لیا جائے تو عمل کرنا بہت مشکل نہیں رہتا صرف اتنا ہی مشکل ہوتا ہے جتنا دنیاوی قوانین پر عمل کرنا
اصل مشکل صرف رویّئے اور نیّت کی ہے
قرآن کا نزول بطور آئینِ حیات ہوا تھا تاکہ اس پر عمل کیا جائے اور کسی چیز پر عمل پیرا ہونے کیلئے اسے سمجھ کر پڑھنا لازم ہوتا ہے
قرآن کی عزت یہ نہیں ہے کہ اسے مخمل کا غلاف چڑھا کر اُونچی جگہ پر رکھ دیا جائے اور صرف کسی مردے کو بخشنے کے لئے یا بیٹی کی رخصتی پہ اس کے سائے تلے رخصت کرنا یا کسی بیمار کو قرآن کی ہوا دینے کے لئے استعمال کیا جائے
بلکہ اسکی عزت یہ ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے
وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ۔
ترجمہ: اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو
(سورہ المزمل / آیت 4 )
اللَّه نے قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا حُکم دیا ہے
پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں کہ ٹھہر ٹھہر کر وہ چیز پڑھی جاتی ہے جسے ذہن نشین کرنا ہو
ایک غلط نظریہ یہ بھی ہے کہ جو لوگ کچھ نہ کر سکیں وہ قرآن کو طوطے کی طرح رَٹ لیں
کچھ لوگوں نے قرآن کو کسی کے مرنے پر فرفر پڑھنے کیلئے مُختص کر دیا ہے
قرآن کی تلاوت کارِ ثواب ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ طوطے کی طرح بغیر سمجھے پڑھا جائے
شاید قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ
ہماری نماز ہمیں بُرائی سے نہیں روک پاتی
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو ۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر بڑا [اچھا کام] ہے ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُسے جانتا ہے
(سورہ عنکبوت ۴۵)
حفظ کرنا بھی بہت اچھی بات ہے
اور یہ بھی حقیقت اپنی جگہ صحیح ہے کہ اگر حفاظ نہ ہوتے تو قرآن کے خلاف ہر دور میں کی گئی سازشوں کے باوجود اس کا مکمل درست حالت میں ہم تک پہنچنا بہت مُشکل تھا
اللَّه سُبحانُہُ و تعالٰی نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا
شاید اسی لئے ہزاروں مسلمانوں کو توفیق دی کہ اسے حفظ کر لیں ورنہ کوئی اور کتاب دنیا میں ایسی نہیں جسے کسی انسان نے حرف بہ حرف یاد کیا ہو۔
منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے
پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے
(علوی)
مگر اس کے ساتھ ساتھ اب وقت کی اشد ضرورت ہے کہ قرآن کو سمجھ کے پڑھا جائے
پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور قرآن کو اس طرح سمجھ کے پڑھیں کہ اس سے ہماری زندگی کا لائحۂ عمل مرتب ہوسکے
آمین یارب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
