ہماری کوتاہیاں

السلام علیکم

“ہماری کوتاہیاں “

ہم نہی عن المنکر تو بہت جوش و خروش سے کرتے ہیں

مگر امر بالمعروف کی کوشش نہیں کرتے

جبکہ نہی عن المنکر سے پہلے امر بالمعروف ہے

ہم لوگوں میں برائی پہلے تلاش کرتے ہیں

کسی کی اچھائی کی تعریف کرتے ہوئے حسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں

حالانکہ ہم اس بات پہ یقین رکھیں کہ امربالمعروف کرنے لگیں

تو نہی عن المنکر پہ خودبخود عمل ہوجائے گا

جسکی تعریف کریں گے وہ خود اپنےکو سنوارنے کا کام کرے گا

دوسری اہم بات ہم کو دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آجاتا ہے

مگر اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا

اسی لئے بہت تاکید ہے اپنی اصلاح پہلے کریں

قرآن میں ہے

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْۗ

خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرلے۔ (سورہ الرعد آیت 11 کا حصہ)

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

“علامہ اقبال”

ہمارا کام اپنی اصلاح اپنے گھر والوں کی اصلاح پہلے ہے

مگر ہم ہاتھ میں ڈنڈا لے کے سڑکوں پہ پہلے نکلتے ہیں

اصلاح کا بیڑا اٹھانے۔

ہمیں اپنے علاوہ سب میں کھوٹ نظر آتا ہے

اس میں سب سے اہم بات جو ہم اکثر بھول جاتے ہیں

وہ یہ کہ جس طرح حج صاحب استطاعت پہ واجب ہے

اسی طرح زکوة کا نصاب ہو تو واجب ہے

جہاد بھی سب پہ واجب نہیں

خمس بھی ان پہ واجب ہے جن کے پاس بچت ہوتی ہو

اسی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی سب پہ واجب نہیں ہے

جو شرائط کو پورا کرتا ہے صرف ان پہ واجب ہے

شرائط کیا ہیں؟

پہلی بات اس مسئلے کا مکمل علم رکھتے ہوں جس پہ بات کرنے جارہے ہیں

دوسری بات یہ یقین ہو کہ ہمارے منع کرنے سے وہ شخص رک جائے گا یا اجتناب کرے گا

تیسری بات جب یہ عمل کیا جائے تو جو کرنے والا ہے اسکو اپنی عزت، مال اور جان کا خطرہ نہ ہو کوئی مفسدہ نہ ہو

چوتھی چیز ہے اسکو نہ کیا جائے جو اپنے گناہ پہ شرمندہ یا پشیمان نہ ہوتا ہو

یہ سب شرائط ہونے کے بعد بھی یہ ان پہ واجب ہے

جو علماء ہیں یا جو طالب علم ہیں

ان سب پہ زیادہ ذمہ داری ہے اس پہ عمل کرنے کی ۔

اور الگ الگ طریقے ہیں اس کو انجام دینے کے۔

آنکھ کے اشارے سے

ہاتھ کے اشارے سے

اور آخری زبان سے

پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

"آمین یا رب العالمین ”

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا

"روبی عابدی”

تبصرہ کریں