“مومن کی صفات”

السلام وعلیکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام وعلیکم‏

“مومن کی صفات”

“پوسٹ نمبر 2”

گذشتہ سے پیوستہ ۔

حدیث :

” ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مذکر الغافل ،معلم الجاہل،لا یوذیومن یوذیہ ولا یخوض فیما لا یعینہ ولا یشمت بمصیبة و لا یذکر احداً بغیبة ۔ ۔ ۔ ۔ “ [بحارالانوار،ج/ ۶۴ ص/ ۳۱۰]

ترجمہ :

مومن وہ انسان ہے جو غافلوں کو آگاہ کرتا ہے ،جاہلوں کو تعلیم دیتا ہے ،جو لوگ اسے اذیت پہونچاتے ہیں وہ ان کو اذیت نہیں پہونچاتا،…

جو چیز اس سے مربوط نہیں ہوتی اس میں دخل نہیں دیتا،اگر اس کو نقصان پہونچانے والا کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو وہ اس کے دکھ سے خوش نہیں ہوتا،غیبت نہیں کرتا۔

حدیث کی شرح :

11- مومن کی گیارہویں صفت”مذکر الغافل“ہے

یعنی مومن غافل لوگوں کو متوجہ کرتا ہے غافل اسے کہا جاتا ہے جو کسی بات کو جانتا تو ہو مگر اس کی طرف متوجہ نہ ہو جیسے جانتا ہو کہ شراب حرام ہے مگر اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔

12- مومن کی بارہویں صفت”معلم الجاہل “ہے

یعنی مومن جاہلوں کو تعلیم دیتا ہے اور جاہل نا جاننے والے کو کہا جاتاہے ۔

غافل کو متوجہ کرنے ،جاہل کو تعلیم دینے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں کیا فرق ہے؟

ان تینوں واجب کوکبھی بھی ایک نہیں سمجھنا چاہئے۔

”غافل “اس کو کہتے ہیں جو حکم کو جانتا ہو مگر اس کی طرف متوجہ نہ ہو (موضوع کو بھول گیا ہو)مثلاًجانتا ہو کہ غیبت کرنا گناہ ہے لیکن اس سے غافل ہو کر غیبت میں مشغول ہو جائے ۔

بہت خواب غفلت میں دن چڑھ گیا

اٹھو سونے والو پھر آئے گی رات

(سخی لکھنوئی)

” جاہل“اس کو کہتے ہیں جو حکم کو ہی نہ جانتا ہو

جیسے وہ یہ ہی نہیں جانتا کہ غیبت حرام ہے۔

” امر بالمعروف ونہی عن المنکر“یہ اس مقام پر ہے جہاں موضوع اور حکم کے بارے میں علم ہو یعنی نہ جاہل ہو اور نہ ہی غافل۔

ان سب کا حکم کیا ہے؟

” غافل “یعنی اگر کوئی موضوع سے غافل ہو اور وہ موضوع مہم نہ ہو تو واجب نہیں ہے کہ ہم اس کو متوجہ کریں جیسے نجس چیز کا کھانا لیکن اگر موضوع مہم ہو تو متوجہ کرنا واجب ہے جیسے اگر کوئی کسی بے گناہ انسان کا خون اس کو گناہ گار سمجھتے ہوئے بہا رہار ہو تو اس مقام پر اس کو متوجہ کرنا واجب ہے۔

” جاہل“جو احکام سے جاہل ہو اس کو تعلیم دینا واجب ہے۔

نشہ ہے، جہل ہے، شر ہے، اِجارہ داری ہے

ہماری جنگ، کئی مورچوں پہ جاری ہے

(محشر بدایونی)

” امر بالمعروف ونہی عن المنکر“اگر کوئی انسان کسی حکم کے بارے میں جانتا ہو غافل بھی نہ ہو اور پھر بھی گناہ انجام دے تو ہمیں چاہئے کہ نرم لب و لہجہ میں امر ونہی کریں۔

یہ تینوں واجب ہیں مگر تینوں کے دائروں میں فرق پایا جاتا ہے ۔

عوام میں جو یہ کہنے کی رسم ہو گئی ہے کہ

”موسیٰ اپنے دین پر اور عیسیٰ اپنے دین پر“

یا یہ کہ

” ہمیں اور تم کو ایک قبر میں نہیں دفنایاجائے گا“

بے بنیاد بات ہے۔ہمیں چاہئے کہ آپس میں ایک دوسرے کو متوجہ کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرسے غافل نہ رہیں۔

یہ ہمارا ہی کام ہے کسی دوسرے کا نہیں۔

روایت میں ملتا ہے کہ سماج میں گناہگار انسان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کشتی میں بیٹھ کر اپنے بیٹھنے کی جگہ پر سوراخ کرے اور اب جب اس کے اس کام پر اعتراض کیا جائے تو جواب دے کہ میں تو اپنی جگہ پر سوراخ کررہا ہوں تو ایسے انسان کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ اس سوراخ کے نتیجہ ہم سب مشترک ہیں کیونکہ اگر کشتی میں سوراخ ہوگا تو ہم ڈوب جائیں گے ۔

روایت میں اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ اگر بازار میں ایک دوکان میں آگ لگ جائے اور بازار کے تمام دکاندار اس کو بجھانے کے لئے اقدام کریں تو وہ دوکاندار ان سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمھیں کیا مطلب یہ میری اپنی دکان ہے،کیونکہ اس کو فورا جواب ملے گا کہ ہماری دکانیں بھی اسی بازار میں ہیں ممکن ہے کہ آگ ہماری دکان تک بھی پہونچ جائے۔

یہ دونوں مثالیں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فلسفہ کی صحیح تعبیر ہیں۔اور اس بات کی دلیل کہ یہ ہم سب کا فریضہ ہے یہ ہے کہ سماج میں ہم سب کی سرنوشت مشترک ہے ۔

(باقی آئندہ)

اللَّه تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

"آمین یا رب العالمین ”

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی عابدی ”

پوسٹ 1-

تبصرہ کریں