واسع کے معنی

السلام وعلیکم

‏‎بسم اللہ الرحمن الرحیم

واسع کے معنی

اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ واسِعُ الْمَغْفِرَةِ

سورہ النجم آیت 32”

بے شک آپ کا پروردگار وسیع مغفرت والا ہے

(سورہ کا ایک حصہ)

واسع کے معنی ہیں کشادگی کسی چیز کا فراع ہونا زمان مکان یا حالت بتانے کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے

اسی و س اورع سے ایک اور لفظ ہے جو قرآن میں استعمال ہوا اور وہ ہے وُسع و پہ پیش ہے یہ سورہ البقرہ کی آخری آیت میں آیت نمبر 286 میں استعمال ہوا ہے

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَاۚ۔۔۔۔

اللہ کس نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا . “

سورہ الطلاق آیت 7”

لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَاۚ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا

صاحبِ وسعت کو چاہئے کہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کے رزق میں تنگی ہے وہ اسی میں سے خرچ کرے جو خدا نے اسے دیا ہے کہ خدا کسی نفس کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ہے جتنا اسے عطا کیا گیا ہے عنقریب خدا تنگی کے بعد وسعت عطا کردے گا

مثلا اگر کسی کے پاس سو روپے ہیں تو اللہ تبارک وتعالی ایک سو ایک سو ایک روپے کا حساب اس سے نہیں مانگے گا جس کے پاس کم ہے اسکی آزمائش کم کے ذریعے اور جس کے پاس زیادہ ہے اسکی آزمائش زیادہ کے ذریعے ہے

اہم بات جو یاد رکھنے والی ہے جس کی طرف قرآن بار بار توجہ کراتا ہے وہ یہ کہ چاہے ہمارے پاس زیادہ ہے چاہے کم ہے چاہے کوئی چیز ہمیں ملی ہے جس نے ہمیں خوش کردیا چاہے ہم سے کوئی چیز واپس لے لی گئی ہے جس سے ہمیں پریشانی ہوئی ہے یہ تمام حالتیں آزمائش ہیں

ہم لوگ جب کوئی پریشانی آئے تو اسکو تو آزمائش سمجھتے ہیں لیکن کوئی چیز دنیا کی عطا ہوجائے تو سمجھتے ہیں یہ اللہ کا کرم ہے اسکو آزمائش نہیں سمجھتے

اور وہاں پہ ہم زیادہ خطا کرجاتے ہیں اللہ نے جن لوگوں کو دنیا زیادہ عطا کی ہے وہاں پہ ہم کو مستی بھی زیادہ نظر آئے گی اللہ کی نافرمانی کے آثار بھی زیادہ دکھائی دیتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ جن کے پاس کم ہے وہ گناہ نہیں کرتے جن کے پاس مال و دولت زیادہ ہے وہ اصلا سمجھتے ہی نہیں

سمجھتے ہیں کہ یہاں بھی اللہ کا کرم ہے آگے بھی اللہ کا کرم ہے اسکو قرآن نے رد کیا ہے

اللہ کا کرم اس پہ ہے کہ جو اسکو عطا ہوا ہے اسکو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرے اور ایسا استعمال نہ کرے کہ جس سے اللہ ناراض ہوجائے

سورہ بقرہ کی آیت نمبر 286 میں لفظ آیاوسع ۔۔۔۔اس وسع سے مراد ہے طاقت زیادہ سے زیادہ طاقت۔

اللہ تبارک تعالی کسی کے ذمہ کوئی ایسا کام نہیں لگاتا جو اسکی پوری طاقت سے بڑھ کر ہو وہی کام اللہ طلب کرے گا اس سے جو اسکی طاقت میں ہے جس کو وہ انجام دے سکتا ہے یہ ضرور ہے کوئی ایسا کام طلب کیا جائے جو انسان محنت کرکے پہنچ جائے

وسع سے مراد طاقت ہے

ایک اور معنی وسع

خود وسعت والا کشادگی والا اس آیت کے بارے میں بعض نے کیا ہے وہ بھی خوبصورت معنی ہے

اللہ کوئی بھی تکلیف کسی انسان کو کوئی بھی حکم کوئی بھی ذمہ داری اللہ نہیں لگاتا ال وسع سوائے یہ کہ اس ذمہ داری پہ عمل کرنے کا نتیجہ وسعت ہے

وسعت کون سی؟

اللہ کے ثواب کی۔

ایمان کے دراجات کے بلند ہونے کی اللہ کے قریب ہونے کی اس کا قلب نیکیوں کے لئے جب وہ نیکیاں انجام دیتا ہے تو اس کا قلب مزید بڑا ہوجاتا ہے مزید وسعت پیدا ہوجاتی ہے کہ جس سے وہ اور نیکی انجام دے سکتا ہے

یہ دنیا میں نتیجہ ہے اور آخرت میں نتیجہ اللہ کی نعمتوں کی وسعت اسکو ملے گی ایک معنی یہ کیا گیا ہیں

لیکن ہم اگر غور کریں تو جو وسع کو طاقت کہا گیا تھا انتہائی طاقت زیادہ سے زیادہ طاقت،

وہاں بھی یہی کشادگی والا معنی ہے یعنی جتنی اسکی بڑی طاقت ہے جتنی اسکی وسیع طاقت ہے اتنی ہی اللہ اسکی ذمہ داری لگاتا ہےیہ دونوں معنی چاہے طاقت لیا جائے یا کشادگی یہ دونوں ایک ہی بنیادی معنی کی طرف پلٹتے ہیں اگر کہا جائے کہ طاقت سے زیادہ اللہ نہیں دیتا تو جتنی اسکی طاقت کی وسعت ہے جہاں تک اسکی طاقت کی پہنچ ہے اس سےزیادہ اللہ طلب نہیں کرتا

دوسرا تھا اللہ جو بھی ذمہ داری لگاتا ہے اسکا نتیجہ وسعت ہوتی ہے نعمتوں کی وسعت دراجات کی وسعت قلب کی وسعت یعنی انسان کی زیادہ نیکیاں کرنے کی صلاحیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور زیادہ وسیع ہوجاتی ہے اسی و س ع سے لفظ واسع آیا ہے کہ جو سورة النجم کی آیت نمبر 32 میں آیا

للَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ واسِعُ الْمَغْفِرَةِ

سورہ النجم آیت 32”

بے شک آپ کا پروردگار وسیع مغفرت والا ہے

(سورہ کا ایک حصہ)

واسعکہتے ہیں صاحبِ وسعت کو یہاں پہ وسعت وہی اللہ تبارک تعالیکی ایک صفت بتانے کے لئے استعمال ہوا ہے واسع یعنی وسعتوں والا

اور یہاں پہ اسکے فورا بعد مغفرت آیا ہے یعنی واسع مغفرت والا

یعنی تمھارے گناہ جتنے بھی ہوں اللہ کی رحمتاللہ کی مغفرت ان سے بڑی ہے

کسی چیز کو کہا جاتا ہے یہ چیزوسیع ہے یعنی یہ باقی چیزوں کو اپنے اندر سماء سکتی ہے

واسع مغفرہ

یعنی اسکی مغفرت اتنی وسیع ہے کہ تمھارے گناہ اسکی حد سے باہر نہیں ہیں کہ جن کو اللہ کی مغفرت نہ پہنچ سکے اور خاص طور پہ اللہ کی رحمت کے بارے میں اسکی مغفرت بھی رحمت کا ہی ایک جلوہ ہے

رحمت کے بارے میں اللہ فرماتا ہے

وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍۚ

میری رحمت ہر شے پر وسیع ہے

سورہ الاعراف /۱۵۶کا حصہ

اور میری رحمت ہر چیز پر وسعت کیئے ہوئے ہے یعنی واسع ہے ہر چیز کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے اور ہم تصور نہیں کرسکتے اور نہ کریں ورنہ مایوس ہوجائیں گے اور مایوسی ہمیں غلط طرف لے جائے گی جتنے بھی ہمارے گناہ ہیں جان لو کہ اللہ کی رحمت ان سے واسع ہے اگر پلٹ آئیں گے اگر توبہ کرلیں گے تو اللہ تبارک تعالی حتماً ہمیں معاف کردے گا

وسع

صاحبِ وسعت صاحبِ کشائش (کشادگی) صاحبِفراخاللہ کی صفتیا حالت بیان کرنے کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے

اقتباس

الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

"آمین یا رب العالمین "

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی عابدی

تبصرہ کریں