تبراء

پرانی تحریر وقت کی ضرورت کے تحت دوبارہ پوسٹ کررہے ہیں

آج کل جو چیز بہت عام نظر آتی ہے وہ ہے تبراء کے بارے میں غلط فہمی تولا اور تبراء فروع دین میں شامل ہے مگر ہم کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ تبراء ہے کیا اس پہ ایک تحریر:-

“تبراء “

سوال:- تبرّا سے کیا مراد ہے؟

جواب: تبرّأ ‘‘ بَرَأَ سے مشتق ہے جس كا لغوى مطلب ’’ عيب يا نقص سے دور ہونا ‘‘ ہے ۔ براءت يا تبرأ كسى سے كراہت يا نفرت كے جذبات سے دورى اختيار كرنا ہے ۔ تبرّأ كے بغير ايمان وجود ميں نہيں آتا ۔

البتہ تبرّأ كا ايك معاشرتى معنى ہے اور

ايك وہ معنى ہے جو قرآن و اہل بيت ع نے پيش كيا ہے ۔

تبرّأ كى اہميت كا اندازہ يہاں سے لگا ليں كہ قرآنِ كريم ميں سورہ مومنون، سورہ كافرون ، سورہ منافقون كى طرح مكمل ايك سورہ ’’ سورہ براءت‘‘ كے نام سے نازل ہوئى ہے جسے سورہ توبہ بھى كہا جاتا ہے ۔

سورہ براءت ہمارے پاس سب سے مضبوط اور قوى منبع ہے جس ميں تبرّأ كے تمام اصول اور ضوابط ذكر كيے گئے ہيں ۔

تبرّأ اور گالى ميں فرق ہے ۔

’’ گالى ‘‘ بنو اميہ كى سيرت و سنت ہے

جبكہ ’’ تبرّأ‘‘ يعنى اظہارِ براءت و دورى ’’ قرآن و چہاردہ معصومين عليہم السلام ‘‘ كى سيرت ہے ۔

اس ليے تبرّأ كے نام پر گالياں ، فحش گوئى ، گھٹيا الفاظ كا قرآن و اہل بيت ع سے كوئى تعلق نہيں ہے بلكہ يہ بنو اميہ كى ايجاد ہے ۔

جبكہ نفرت كا اظہار ، برائى سے دورى ، مكروہ چيزوں سے پرہيز ’’ تبرّأ‘‘ كا حقيقى معنى ہے ۔

قرآن كريم ميں تبرّأ كے درج ذيل تين اصول وارد ہوئے ہيں :

الف : برائى اور قابلِ نفرت چيز كو پہچاننا ،

تعصّب اور معرفت ميں فرق ہوتا ہے ۔ تبرّأ اگر تعصّب كى بناء پر ہے تو بذاتِ خود يہ ايك بيمارى ہے ۔

اگر تبرّأ معرفت كى بنياد پر تو يہ اس كا اسلوب قرآنى اور سنّتِ اہل بيت عليہم السلام كے مطابق ہو گا ۔

اس ليے سب سے پہلے برائى ، ظلم ، قابلِ نفرت چيزوں كو پہچاننا ضرورى ہے ورنہ تبرّأ نہيں بلكہ تعصّب وجود ميں آتا ہے جسے اصول كافى (ج ۲، ص ۳۹۳ ) ميں امام على ع نے منافقت كا جزء قرار ديا ہے ۔

تبرّأ كى معرفت كا سب سے بہترين منبع سورہ توبہ ہے ۔

ب : تبرّأ كے مختلف درجات ہيں ۔ كبھى تبرّأ ہاتھ سے ہوتا ہے جس كا مطلب ہے كہ برائى يا قابلِ نفرت چيز كو ہاتھ سے ختم كر دو ،

كبھى تبرأ زبان سے ہوتا ہے جس كا مطلب يہ ہے كہ قابلِ نفرت چيز كى زبان سے مذمت كى جائے اور

كبھى تبرّأ دل سے ہوتا ہے جس كا مطلب ہے كہ دل سے اس چيز كى نفى كى جائے جو برائى يا قابل نفرت چيز ہے ۔

تبرّأ كا آغاز ’’دل‘‘ سے ہوتا ہے ۔ انسان كے پاس جب برائى و پستى كى معرفت آ جاتى ہے تو اس كا دل اس شىء سے نفرت كرنے لگ جاتا ہے ۔

جب معرفت كا درجہ طے ہو تو خود بخود زبان ميں جنبش آتى ہے اور انسان زبان سے قابلِ نفرت چيز كا انكار كرتا ہے ۔

البتہ زبان سے مذمت سے مراد فحش گوئى يا گالياں نہيں ہيں كيونكہ يہ خود برائى اور قابل تبرّأ ہے ۔

بلكہ زبان سے مذمت كرنے سے مراد ’’ قرآن كريم كا طريقہِ تبرّأ ہے

’’ جو كہ لعنة اللّٰہ على الظالمين ، لعنة اللّٰہ على الكاذبين ہے ۔ تبرّأ كا قرآنى اسلوب ’’ لعنت كرنا ‘‘ ہے ۔ ’’ لعنت ‘‘ گالى نہيں ہے بلكہ بد دعا ہے جس كا لغوى مطلب بنتا ہے ’’ رحمت سے دور ‘‘ ۔ لعنة اللّٰہ يعنى اللّٰہ كى رحمت سے دور ۔

پھر جس كو رحمت سے دور قرار ديا جا رہا ہے اسے

اس طرح ذكر كرتے ہيں جيساكہ شبِ قدر كے اعمال مخصوصہ ميں سے ہے كہ سو مرتبہ يہ پڑھا جائے :

’’ اللہم العن قتلةِ أمير المؤمنين ع ‘‘

۔ اے پروردگار ! امير المومنين عليہ السلام كے قاتلوں كو رحمت سے دور كر دے ۔

جب انسان زبان سے بيزارى اور نفرت كا اظہار كر ديتا ہے تو عملا اس كو ختم كرنے كا اقدام كہلاتا ہے جوكہ حقيقى اور عملى تبرّأ ہے ۔

ج : عملى تبرّأ ايمان كو حقيقى پيمانے پر وجود ديتا ہے اسى ليے قرآنِ كريم نے ايمان كے ہمراہ عملِ صالح كو ذكر كيا ہے ۔ جو عملى تبرّأ نہيں كرتا اسے قرآن و روايات مومن نہيں كہتيں ۔ قرآن و روايات ميں درج ذيل چيزوں سے عملى تبرّأ ضرورى ہے :

اللّٰہ كے دشمن

رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليہ وآلہ وسلم كے دشمن

آئمہ معصومين عليہم السلام كے دشمن

طاغوت سے تبرّأ

شرك و كفر سے تبرّأ

منافقت و جہالت سے تبرّأ

ظلم و جھوٹ سے تبرّأ

ہر برائى سے تبرّأ

یہ نکتہ قابل غور و توجہ ہے کہ علمائے شیعہ کی روش ابتداء ہی سے ـ کم از کم دشمنوں سے تبرّا کے سلسلے میں ـ حضرت علی علیہ السلام کی سیرت کے مطابق اس اصول پر مبنی رہی ہے کہ مسلمانوں کی وحدت اور ان کے درمیان روابط کی تقویت اور اسلامی مذاہب کی تقریب و اتحاد کی ضرورت کی رعایت کی جائے۔

گذشتہ اور معاصر شیعہ اکابرین ـ جیسے شیخ مفید،و سید مرتضی اور شیخ طوسی، نیز میرزا حسن شیرازی، میرزا محمد حسین نائینی، آیت الله حاج آقا حسین بروجردی اور امام سید روح اللّٰہ موسی خمینی اور موجودہ زمانے کے مراجع تقلید کی سیرت و روش اور فقہی احکام و فتاوی میں اس سلسلے میں بہت سے شواہد ملتے ہیں۔ ایسی احادیث و روایات بھی کم نہیں ہیں جن میں دوسرے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور بدگمانی کی فضا قائم کرنے سے باز رکھا گیا ہے چنانچہ یہ احادیث [اور زمانے کے حالات و واقعات: دشمنان اسلام کی نت نئی سازشیں اور امت کے اختلاف کو بنیاد بنا کر اس کے دشمنوں کی ریشہ دوانیاں، جو سب طشت از بام ہوئی ہیں] شیعہ علماء اور مراجع کی اس روش میں مؤثر رہی ہیں۔

ہو تبرا تو اہتمام سے ہو

کیوں فقط لفظ اور کلام سے ہو

انکے کردار سے ہو بے زاری

کیا ضروری ہے ان کے نام سے ہو

تم برا بولو بڑوں کو ان کے

ظاہرا” تھوڑا احترام سے ہو

کچھ پلٹ کر نہ کہیں وہ کہدے

ذکر اچھوں کا نہ دشنام سے ہو

شوق دشمن کو جلانے کا کہیں

ختم اپنوں پہ نہ آلام سے ہو

ہو نہ انداز دشمنی ایسا

جسکو نسبت بلاد شام سے ہو

تیرا انداز دشمنی افروز

منسلک سیرت امام سے ہو

(افروز)

ان باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم کو تبراء کردار سے کرنا ہے نام پہ لعنت بھیجنا آئمہ ع کی سیرت نہیں

اسی لئے کہا کہ کردار پہ لعنت کرنا ہے شخصیات پہ نہیں شخصیات پہ لعن کرکے ہم خود اسکو محدود کررہے ہیں جبکہ کردار پہ کرنے سے اس جیسے کردار والے قیامت تک لعن کے مستحق ہوں گے

اب فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے کہ آئمہ ع کی سیرت پہ چلنا ہے یا بنو امیہ کی ؟

پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

"آمین یا رب العالمین ”

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی عابدی”

تبصرہ کریں