تولا/ تولٰی

السلام علیکم

(کچھ دن پہلے تبرہ / تبریٰ پہ تھوڑا لکھا تھا تو چند احباب نے تولا پہ لکھنے کے لئے کہا )

تولا/ تولیٰ

تولا [تولی] لغت میں دوست رکھنے اور ولی قرار دینے کے معنی میں ہے اور تبرا [تبری] دشمن رکھنے اور بیزاری کرنے کے معنی میں ہے۔

شیعہ فقہ میں تولی، تبری کے ہمراہ، فروع دین کا جزو اور فقہی واجبات میں سے ایک ہے۔

[حر عاملی، وسائل الشیعة، ط آل البیت (30 جلدی) ج16، ص176۔]

تولا و تبرا اصطلاح میں، اسلامی احکام کے فروعات سے خدا کے دوستوں کو دوست اور خدا کے دشمنوں کو دشمن رکھنے کے معنی میں ہے۔

تولی کا مفہوم کے مختلف مراتب و مصادیق ہیں،

جیسے: پروردگار ، رسول خدا(ص) اور ائمۂ اہل بیت(ع) کی ولایت پر یقین رکھنا اور اس کو قبول کرنا؛انبیاء(ع)، ائمۂ اہل بیت(ع) سے محبت (مودت) کرنا؛مؤمنین اور اولیاء اللہ (خدا کے دوستوں) سے محبت کرنا۔

شیعہ تعلیمات کے مطابق تولی کے معنی کسی سے محبت کرنے اور کسی سے دوستی کرنے،

اورپیغمبر(ص) اور ائمہ(ع) کی ولایت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور ان کی ولایت کی تصدیق و پیروی کرنے کے ہیں اور درحقیقت اس سے مراد خدا کی راہ میں دوستی کرنا ہے۔

یہ لفظ عام طور یہ لفظ تبری کے ساتھ آتا ہے جس کے معنی خدا کی راہ میں دشمنی کرنے کے ہیں۔

فضل بن روزبہان کہتے ہیں:

اہل سنت کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ رسول اللہ(ص) اور اہل بیت نبی(ص) کا تولّا واجب اور ان کے دشمنوں سے تبرا ہر مؤمن پر واجب ہے اور جو انہیں اپنے امور میں صاحب تصرف نہ مانے اور ان کے دشمنوں سے تبرا [اور بیزاری کا اظہار] نہ کرے، وہ مؤمن نہیں ہے۔[فضل اللّه بن روزبهان، وسیلة الخادم الی المخدوم، ص300]

علم اخلاق میں بھی تولی اور تبری اور ان کے آداب کا جائزہ لیا گیا ہے۔

خواجہ نصیر الدین طوسی نے اخلاق محتشمی میں ایک باب کو حب و بغض اور تولی و تبری کے لئے مختص کردیا ہے

یہ اصل، اسلامی معاشرہ اور حکومت اسلامی اور تمام مسلمانوں کی حقیقی زندگی میں بہت موثر کردار کی حامل ہے۔

لفظ تولّیٰ یا (تولّا) ایک کلامی اصطلاح ہے۔ لفظ تولی تبری کا متضاد ہے۔

مذہب شیعہ کی اصطلاح میں لفظ "تولیکے معنی پیشوایان دین، اہل بیت رسول(ص) کی دوستی اور ان کی ولایت تسلیم کرنے کے ہیں۔

شیعہ تعلیمات میں "‌تولی‌اور "تبرینیک اعمال کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے اور ان دو کے نہ ہونے کی صورت میں کوئی بھی عمل مقبول نہیں ہے؛

شیعہ تعلیمات کے مطابق تولی کے معنی کسی سے محبت کرنے اور کسی سے دوستی کرنے، اور

پروردگار،پیغمبر(ص) اور ائمہ(ع) کی ولایت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور ان کی ولایت کی تصدیق و پیروی کرنے کے ہیں اور درحقیقت اس سے مراد خدا کی راہ میں دوستی کرنا ہے

تولی تبری کے ہمراہ، جس کے مفہوم اس کے متضاد مخالف ہے:

یہ واجبات میں ہے؛

[نوری، مستدرک الوسائل الشیعة، ج16، ص176]

اہم ترین واجبات میں سے ہے؛

[أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ الْحُبُفِياللَّهِوَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ؛ ترجمہ: بہترین عمل اللہ کی راہ میں محبت اور اللہ کی راہ میں دشمنی ہے۔.

[مشکاة الانوار فی غررالاخبار، ص125۔]

ایمان کو عملی صورت دینے والا عمل اور ایمان کا اہم ترین رکن؛

[محاسن برقی ج1 ص165]

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله عليه وآله: إِنَّ أَوْثَقَ عُرَى الْإِيمَانِ الْحُبُفِياللَّهِوَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ تَوَالِي وَلِيِّ اللَّهِ وَتَعَادِي عَدُوِّ اللَّهِ۔

ترجمہ: رسول خدا(ص) نے فرمایا:

ایمان کا قابل اعتماد ترین دَستَہ {يا مُٹھّيا) االلہ کی راہ میں دوستی اور اللہ کی راہ میں دشمنی ہے؛ [کہ] اللہ کے دوستوں سے دوستی کرو اور اللہ کے دشمنوں سے دشمنی کرو۔

[الحدائق الناضرة ج18، ص423]

اور ان امور میں سے ہے جو محتضر (جانکنی کی حالت میں جانے والے انسان) اور میت کو تلقین کئے جاتے ہیں۔[کاشف الغطاء، کشف الغطاء، ج2، ص251۔]

اس سلسلے میں قرآن کی روشنی میں

رسول اللہ(ص) اور اہل بیت(ع) کی محبت و دوستی نیز مؤمنین کی باہم محبت و دوستی ان مفاہیم میں سے ہے جن پر قرآن مجید میں تاکید ہوئی ہے اور یہاں نمونے کے طور پر بعض آیاتکا حوالہ دیا جاتا ہے:

اہل بیت(ع) کی دوستی اجر رسالت کے طور پر متعارف ہوئی ہے:

"قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىۗ…

ترجمہ: کہئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوا صاحبان قرابت کی محبت کے"۔[سورہ شوری آیت 23۔]

خدا، رسول خدا(ص) اور اولو الامر کی ولایت قبول کرنا:

"إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ

ترجمہ: تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پیغمبر اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکٰوۃ (و خیرات) دیتے ہیں"۔[سورہ مائدہ آیت 55۔]

اس کے علاوہ سورہ ممتحنہ آیت 13۔سورہ بقرہ آیت 165۔سورہ بقرہ آیت 165۔

اسلامی متون میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔

بہت سی احادیث میں ائمۂ اہل بیت(ع) اور بطور خاص حضرت علی(ع) کی محبت واجب قرار دی گئی ہے۔

سید ہاشم بحرانی نے 95 حدیثیں اہل سنت کے منابع سے[بحرانی، غایة المرام، ج6، ص46ـ71] اور 52 حدیثیں شیعہ منابع سے[بحرانی، غایة المرام، ج6، ص72ـ91] علی(ع) اور دوسرے ائمہ(ع) کے محبین اور پیروکاروں کی شان و فضیلت میں نقل کی ہیں۔

زیارت عاشورا سمیت دیگر زیارت ناموں میں اللہکے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی کے لئے ایک اساس نامہ اور منشور درج کیا گیا ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:

"إذا أردت أن تعلم أن فيك خيرا فانظر إلى قلبك، فإن كان يحب أهل طاعة الله ويبغض أهل معصيته ففيك خير والله يحبك وإن كان يبغض أهل طاعة الله ويحب أهل معصيته فليس فيك خير والله يبغضك، والمرء مع من أحب"۔

اگر جاننا چاہو کہ تم اچھے انسان ہو [یا نہیں تو] اپنے قلب پر ایک نگاہ ڈالو اور دیکھو کہ اگر تمہارا دل محبت کرتا ہو ان لوگوں سے جو اللہ کے مطیع و فرمانبردار ہیں اور اللہ کے نافرمانوں سے بيزار ہو اور انہیں دشمن سمجھتا ہو تو جان لو کہ تم اچھے انسان ہو اور اللہ بھی تم سے محبت کرتا ہے اور اگر تم اہل اطاعت کو دشمن رکھتے ہو اور اور اس کے دشمنوں سے محبت کرتے ہو تو جان لو کہ تمہارے اندر کچھ بھی نہیں ہے اور خدا بھی تمہیں دشمن رکھتا ہے؛ اور انسان ہمیشہ اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔[کلینی، الکافی، ج2، ص127۔]

اس پہ بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر وقت کے پیش نظر اس کو مختصر کرتے ہوئے یہی پہ اختتام کرتے ہیں

پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

"آمین یا رب العالمین "

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی عابدی

تبصرہ کریں