اخلاق

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم

“اخلاق”

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

سقراط کی مجلس میں ایک شخص آیا ، اس نے بہت قیمتی لباس زیب تن کر رکھا تھا اوراسے اسی بات کا یقین تھا کہ سقراط اس کے لباس فاخرہ کی وجہ سے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔

لیکن حیرت کا مقام تو یہ تھا کہ سقراط نے اسکی رتی برابر بھی پرواہ نہیں کی تھی

لیکن یہ ضرور کہا تھا کہ

اے اجنبی کلام کرو زبان سے بولو تاکہ تم پہچان لئے جاؤ کہ تم کیا ہو ؟

زبان کی اہمیت تو ہے ہی لیکن بولنے والے کے الفاظ اور بھی اہم ہیں ۔ کیونکہ اخلاقیات صرف کردار کا ہی نام نہیں بلکہ طرز عمل کے ساتھ ساتھ اچھی باتوں سے منسلک ہونا بھی ہے ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی فرد ہو یا کوئی بھی قوم سب سے پہلے اس کے پاس کوئی نظریہ ہوتا ہے اسکے بعد اس پر عمل کی نوبت آتی ہے ۔

اس لئے حضرت علی علیہ اسلام کا فرمان ہے کہ

انظر إلى ما قال و لا تنظر إلى من قال

"یہ دیکھو کہ کیا کہا جا رہا ہے، یہ نہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے۔“

(غرر الحکم و درر الکلم صفحہ 58 حدیث نمبر 612/ صفحہ 438 میں حدیث نمبر 100337 ، ابن ادریس حلّی "السّرائر الحاوی لتحریر الفتاوی”مقدّمہ صفحہ 41، پہلی جلد، بابتیمّم و احکام صفحہ 135، تیسری جلد مجوس بابوراثت۔)

کیونکہ اچھی بات کا کرنا کسی ایک خاص طبقے یا کسی خاص مذہب سے مشروط نہیں ہے ۔

یہ تو اچھی تعلیم و تربیت کی وجہ سے ہی ممکن ہوتا ہے ۔

مگر جس معاشرے میں تمام اخلاقی، تہذیبی، مذہبی اور سیاسی اقدار ناپید ہوجائیں

وہاں ’’کیا کہا‘‘ کے بجائے “کس نے کہا” کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

اس لئے اسلام سمیت باقی سب مذاہب میں اچھے اخلاق کی بہت تاکید ہے اور قول و فعل میں تضاد کی بہت سخت ممانعت کی گئی ہے ، کیونکہ ان سب سے معاشرتی برائیاں پیدا ہوتی ہیں ۔

زبان تو ایک ایسا تالا ہے جس کے پیچھے تمام خزانے چھپے ہیں ، یہ کھل جائے تو معلوم ہو جاتا ہے

کہ دکان میں سونا ہے یا کوئلہ ۔؟

ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہترین اخلاق کا مجسم پیکر تھے

مگر ہم اپنے اخلاق کی بہتری کے لئے کچھ نہیں کرتے ۔

افسوس ہے کہ ہم امت محمدی ہونے کا دعوی کرتے ہوئےبھی آج اخلاق کی اہمیت کو بہت حد تک بھلا چکے ہیں ،

ہمیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم اپنی باتوں سے ،

اپنے رویے اور طرز عمل سے دوسروں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں ،

ان کا دل توڑ رہے ہیں ،

ہم یہ سب کرتے ہوئے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ تلوار کا لگایا ہوا زخم بھر جاتا ہے ،

لیکن زبان کے لگائے ہوئے زخم روح پر نشان چھوڑ جاتے ہیں ۔

ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ

ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے

“ساحل”

آج کل اس رویے کی بہت ترویج ہورہی ہے کہ انسان کا اخلاق جیسا بھی ہو بس وہ پروفیشنل ہو جبکہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ

اگر ایک بندہ بہت پروفیشنل بھی ہے لیکن اس کو اخلاقیات چھو کر نہیں گذری تو اسکا پروفیشنل ہونا بھی مارکیٹ میں کوئی ویلیو نہیں رکھتا ۔

کیونکہ پروفیشنل لائف میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا تعلق براہ راست اخلاقیات سے ہے

جیسے کوئی وعدہ خلافی کرے ، کام چوری کرے ، کسی ادارے کو نقصان پہنچا کر چھوڑ دے یا برے کردار کا حامل ہو یا لوگوں سےبات کرتے ہوئے بدتمیزی کرے یا بدزبانی کرے ،

ایسی صورت میں اسکا سارا پروفیشنل ازم دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے اور صرف بدزبانی ہی سامنےآجاتی ہے ۔

یہی حالت روزمرہ زندگی میں بھی نظر آتی ہے

کیونکہ ایک بندہ کتنی اچھی شکل و صورت کا مالک ہو اور آپ اس کی ظاہری شخصیت سے متاثر ہو رہے ہوں اور وہ کوئی ایسی سطحی بات کر دے کہ آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ کاش اس شخص سے نہ ہی ملے ہوتے اوراس نے اپنے منہ سے کوئی لفظ بھی نہ نکالا ہوتا تو کم ازکم اسکی عزت اور اپنی پسندیدگی کا بھرم تو قائم رہ جاتا ۔

اخلاقیات کی کمی کا تعلق ان پڑھ یا تعلیم یافتہ سے بھی نہیں ہے

کیونکہ کئی اعلی تعلیم یافتہ افراد اتنی مغلظات بکتے نظر آتے ہیں کہ ان سے بہتر کم تعلیم یافتہ لیکن تہذیب یافتہ افراد ہیں ،

کیوں کہ تعلیم کا تو کوئی قصور نہیں بات صرف اس تعلیم کو درست استعمال نہ کرنے کی ہے ۔

سو اگر قابلیت کا مقابلہ اخلاقیات سے کیا جائے تو ہمیشہ اخلاقیات کا پلڑا ہی بھاری ہو گا ،

ہم میں سے کون ایسا ہے جو گناہوں سے مبرا ہے لیکن اچھا وہی ہے جو کسی غلطی سے نصیحت پکڑ کے آئندہ کے لئے بہتری پیدا کر لے ۔

پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

"آمین یا رب العالمین ”

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی”

تبصرہ کریں