جناب حضرت فاطمہ زہرا (س)کی تاریخ عالم میں مشہور اسمائے گرامی اور ان کی وجہ تسمیہ

اَلسَلامُ عَلَيْكُم

“جناب سیدہ سلام اللہ علیہا”

جناب حضرت فاطمہ زہرا (س)کی تاریخ عالم میں مشہور اسمائے گرامی اور ان کی وجہ تسمیہ

جو احادیث وروایات میں نقل ہوئی ہیں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (١) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (٢) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأبْتَرُ (٣)

ترجمہ :بے شک ہم نے آپ کو کو ثر عطا فرمایا لہذا آپ اپنے رب کیلئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں ۔یقینا آپ کا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔

“کوثر” فوعل کے وزن پر ہے یہ کثرت بیان کرنے کیلئے آتا ہے اور روایات میں کوثر کی تشریح خیر کثیر سے کی گئی ہے اس میں خیر کثیر کے مصداق کا تعین اگلی آیت ” إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأبْتَرُ ”سے ہو تا ہے ۔آپ کو کوثر عنایت ہوا چنانچہ آپ ابتر نہیں ہے بلکہ آپ کا دشمن ابتر ہے ۔یعنی کوثر سے مراد حضوراکرم ،سرور دوعالم کیلئے اولاد کثیر ہے جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے پھیلی ہے ۔

خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا (س)کی اسمائے گرامی تاریخ کے کتابوں میں مختلف انداز میں درج ہیں اور مورخین نے ان اسماء کی سند کیلئے احادیث کا بھی سہارا لیا ہے ۔ہم یہاں پر ان مشہور اسماء کا ذکر کریں گے جن پر اکثر مورخین کا اتفاق ہے ۔

ان اسماء مبارکہ کی تفصیل اور وجہ تسمیہ بیان کرنے سے پہلے حضرت امام جعفر صادقٌ کی وہ مشہور حدیث جسے اکثر مورخین نے اپنے کتابوں میں درج کیا ہے ۔جس میں امام  نے جناب سیدہ (س)کی مشہور نو (٩)نام ارشاد فرمایا ہے ۔

عن الامام الصادق علیه السلام قال :لفاطمة تعسة اسماء عندالله ،فاطمه والصدیقة والمبارکة والطاهرة والزاکیة والراضیة والمرضیة والمحدثة والزهرا۔

(١:سلوفاطمہ عن مصائبھا ص291٢:الدمعة الساکبہ ص241٣:نخبة البیان ص79)

ترجمہ :امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی نزدیک جناب فاطمہ (س)کی نو نام ہیں ۔فاطمہ ،صدیقہ ،مبارکہ ،طاہرہ ،زاکیہ ،راضیہ ،مرضیہ ،محدثہ اور زہرا ۔

مشہورومعروف اسمائے گرامی!!

١۔فاطمہ:-

فاطمہ ”فطم”سے ہے جس کی معنی چھڑانا ہے ۔یا”چھڑا دینے والی ”کی ہے ۔

(فرہنگ عامرہ ص 347)

فاطمہ کس چیز سے علیحدہ اور جدا ہے ۔اس کے بارے میں فریقین کی کتب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی ایک حدیث نقل ہو ئی ہے اور یہ حدیث مختلف طرق سے الفاظ کی ردو بدل کے ساتھ مروی ہے ۔

پہلاجو حضرت جابر ابن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ  اور ابوہریرہ مروی ہے وہ یوں ہے۔

عن جابر قال قال رسول الله:انما سمیت فاطمه لان الله فطمها ومحبیها عن النار

(موسوعة الکبریٰ ج 18ص372٢:کنزالعمّال ج 12ص109٣:شرح فقہ اکبر ص 133)

ترجمہ:حضرت جابر  سے روایت ہے کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا :بے شک (جناب سید ہ (س)کا) فاطمہ نام رکھا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جناب سید ہ (س)اور ان کی چاہنے والوں کو جہنم کی آگ سے چھٹکارا عطا فرمائے گا۔

جب کہ دوسرے بعض کتب میں ”ولدھا”یا ”ذریتھا”کا لفظ اضافہ ہے جیسا کہ کچھ کتب میں مولا علی علیہ السلام سے یہی حدیث یوں مروی ہے ۔

عن علی  قال قال رسول الله:ا تدرین لم سمیت فاطمه ،قلت :یا رسول الله لم سمیت فاطمة ،قال :ان الله عزوجل قد فطمها وذریتها عن النار یوم القیامة ۔ (سلو فاطمہ عن مصائبھا ص392٢:موسوعة سیرت اہل البیت ج9ص46٣:فضائل خمسہ من الصاح الستہ ص 155٤:ینابیع المودة ج2ص125٥:فاطمہ من المھد الیٰ الحدص50)

ترجمہ :حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا :میں بیان کروں کہ فاطمہ نام کیوں رکھا گیا ہے ،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسا کیوں رکھا ہے ،تو آپ نے فرمایا :بے شک اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے اولاد کو قیامت کے دن جہنم کی آگ سے بچا کے رکھے گا۔

٢۔زہرا:-

زہرا کی لغوی معنی پھول کی کلی ،گل ناشگفتہ کے ہیں ۔    (فرھنگ جدید ص225)

چونکہ جناب سیدہ (س)عزت وجمال وکمال سے موصوف تھیں ظاہر وباطنی نور کی مالکہ تھیں اس لئے زہرا لقب ہوا ۔

چنانچہ اس سلسلے میں بھی احادیث کی کافی تعداد آج بھی سیرت وتاریخ اور کتب احادیث میں موجود ہیں جس میں آپ کی نام ”زہرا”ہونے کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے ۔جیسا کہ بعض مورخین نے حضرت امام جعفر صادقٌ سے یہ حدیث اسی ضمن میں نقل کیا ہے۔

عن الصادق  قال:سمیت الزهرا لانها کانت اذا قامت فی محرابها زهرنورها لاهل السماء کما یزهر نور الکواکب لاهل الارض۔ (موسوعة سیرت اھل البیت ج9ص49٢:الدمعة الساکبہ ص243)

ترجمہ:حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :جب جناب سیدہ (س)محراب عبادت میں کھڑی ہو تیں تو آپ (س)کا نور آسمان والوں کو ایسے درخشاں کرتا جیسے ستاروں کی ضیا زمین والوں کو روشن کرتا ہے ۔

فاطمہ زہرا۔عرف عام میں بیشتر زہرا استعمال ہو تا ہے ۔لغت کے اعتبار سے زہرا کا لفظ درخشندہ ،روشن اور اس کے مترادف معنوں کا حامل ہے ۔یہ لقب ہر لحاظ سے ان کیلئے شایان شان ہے وہ مسلمان خاتون کا درخشندہ چہرہ ،معرفت کی تابندہ روشنی ،پرہیز گاری اور خدا پرستی کا روشن نمونہ ہیں ۔یہ درخشندگی کسی خاص لمحے یا معین دن کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ۔جس دن انہوں نے اپنا فرض نبھایا اس دن سے لیکر آج تک وہ اسلامی تربیت کی پیشانی پر گوہر کی مانند درخشندہ ہیں ۔”

(حیات فاطمہ (س)ص39)

٣۔بتول:-

جناب سیدہ (س)کی بلند پا صفات اور پسندیدہ اطوار کی بنا پر آپ کی متعدد القابات میں سے ایک اہم لقب بتول ہے ۔بتول لفظ ”بتل ”سے ہے جس کی لغوی معنی ”علائق ترک کرنے والی”کے ہیں۔

(فرہنگ عامرہ ص 85)

دوسری القابات کی طرح بتول نام ہو نے کے حوالے سے بھی متعدد احادیث کتالوں میں موجود ہیں

وقیل لانقطاعها عن الدنیا الی الله عزوجل

(لسان العرب ج1ص312)

تارک دنیا اور ہر وقت یاد الٰہی میں مصروف رہتی تھیں اس لئے جناب سیدہ (س) بتول کہلائیں۔

٤۔سیدہ:-

لفظ ”سید”ساد یسود اور سیادة سے مشق ہے ۔بمعنی شریف ،کریم ،حلیم ،رئیس ومطاع اور سردار ہے ۔    (فرھنگ جدید ص 262)

مثلاً سید القوم ،سید المرسلین ،سید السادت ۔چونکہ جناب سیدہ فاطمہ زہرا (س)اوصاف حمیدہ اورنفسانی کمالات کے لحاظ سے تمام خواتین میں اشرف وافضل تھیں اس لئے ”سیدہ”یا ”سیدة النساء العالمین ”کہا گیا ہے ۔

جیسا کہ مودة القربیٰ میں خود جناب سیدہ (س)سے مروی رسالتماب کی حدیث موجود ہے۔

عن فاطمة قالت قال  رسول الله:اما ترضین ان تکونی سیدة نساالعالمین اونسائی امتی ۔

(مودة القربیٰ مودة  11حدیث  7)

ترجمہ:جناب فاطمہ  (س)سے روایت ہے کہ رسول خدا  نے فرمایا :اے فاطمہ کیا تو اس بات پر خوش نہیں ہے کہ تمام عالم کی عورتوں کی یا براویتے میری امت کی عورتوں کے سردار ہو۔

٥۔طاہرہ:-

طاہرہ لفظ ”طہر ”سے مشتق ہے بمعنی پاکی وطہارت کے ہیں۔    (فرھنگ جدید ص 340)

طاہر اسمائے الٰہی میں سے ایک ہے یعنی امثال واضداد اور ممکنات وصفات مخلوقات سے پاک ومنزہ ۔

حضرت امام محمد باقر فرماتے ہیں کہ جناب سیدہ(س)اخلاق ذمیمہ سے پاک وطاہر ہو نے کی وجہ سے طاہرہ کہلائیں ۔یہاں پر ہم جناب جناب سیدہ (س) کی عصمت وطہارت سے متعلق ایک حدیث نقل کر کے موضوع سمیٹتے ہیں ۔

قال رسول الله:انا وعلی وفاطمة والحسن والحسین وتسعة من ولد الحسین وتسعة من ولد الحسین مطهرون ومعصومون ۔

(مودة القربیٰ)

رسول خدانے فرمایا :میں (محمد  )،علی ،فاطمہ سلام اللہ علیہا،اور حسن وحسین اور حسین کے پیداہونے والے نو(ائمہ)پاک وپاکیزہ ہیں۔

٦۔مبارکہ:-

مبارکہ کامعنی سعادت ،خوش بختی اور برکت کے ہیں۔    (فرھنگ جدید ص25)

آپ سلام اللہ علیہا مدینة العلم کی بیٹی ،باب مدینة العلم کی زوجہ اور سیدہ طاہرہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی پروردہ تھیں۔رسالت کی درخشاں فضائوں میں آنکھ کھولی ، فضیلت وعصمت وطہارت کے سایوں میں تربیت حاصل کی ۔اس لئے جامع کمالات کی مالکہ تھیں ۔جس کی بزرگی میں کسی کوشک ہو سکتا ۔ذریت

میں عطائے کوثر کی حقیقت تھیں کہ قدرت نے سادات عالم کی جدّہ امجد بنایا ۔علامہ صدوق نے کمال الدین میں لکھا ہے کہ توریت میں جناب سیدہ کا لقب مبارکہ ہے ۔

٧۔صدیقہ:-

صدیق کی مونث ہے ۔جس کے معنی بہت سچی اور جس کی عمل اور گفتار ایک جیسا ہے۔    (فرھنگ جدید ص353)

جس سے آپ کی عصمت کا ثبوت ملتا ہے لہذا اسی وجہ سے آپ کو معصومہ بھی کہ سکتے ہیں ۔

اس لقب سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو نوازا گیا ہے ۔ صدیق صیغہ ہے یعنی نہایت راست گفتار ۔رسول پاک  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا (س)کو اسی لقب سے پکا را ہے ۔کیونکہ جناب سیدہ (س) کی پوری زندگی صدق وراستی پر مبنی تھی ۔

حضرت عائشہ کہتی ہیں ”میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جناب سیدہ زہرا (س)سے زیادہ راست باز (سچا)کسی کو نہیں دیکھا۔

(کتاب نورنظر خاتم النبین ص116)

٨۔زاکیہ:-

زاکیہ اور بعض روایتوں میں زکیہ ہے ۔جس کے معنی چنا ہوا،پاک و پاکیزہ اور عبادت گزار کے ہیں ۔        (فرھنگ جدید ص 222)

حضرت امام صادق علیہ السلام کی مشہور حدیث جو ہم نے شروع میں ذکر کیا ۔اس میں زاکیہ ہے جس کی معنی پاک وپاکیزہ نفس والی ہے ۔طاہرہ اور زاکیہ میں فرق یہ ہے کہ طاہرہ وہ جسے فطرت نے پاک طنیت پیدا کیا ہو ۔زاکیہ کسبی چیز ہے جو کوشش اور مشاہدہ سے اپنے نفس کو پاک رکھے۔اگر گناہ صادر ہو اور طلب آمرزش کرے تو وہ زکیہ ہے ۔

جناب زہرا (س)کو زاکیہ ان کی فطری پاکبازی کی بنا پر کہا گیا ہے کہ ہر قسم کی نفسانی برائی ، غضب ، بخل ، حسد ، کینہ اور کبر و عجب سے پاک تھیں۔ان تمام صفات کا نہ ہونا یقینا کمال کی بات ہے ،اس بنا پر آپ کو طاہرہ کے ساتھ زاکیہ یا زکیہ بھی کہا گیا ہے۔

٩۔راضیہ:-

راضیہ کی لغوی معنی ”خوش ہونے والی”

(فرہنگ عامرہ ص 284)

سورہ غاشیہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

وجوه یومیذ لسعیها راضیة فی جنة عالیه

(سورة غاشیة  8-9-10)

ترجمہ :کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہونگے ۔اپنی کاوشوں پر راضی جنت عالیہ میں داخل ہونگے ۔

نفس راضیہ روز قیامت عیش مرضیہ میں ہوگا ۔راضیہ وہ جو کہ اللہ کی رضا سے پوری طرح راضی ہو۔جناب سیدہ  (س) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے”فاطمہ کی رضا میری رضا ہے”

(کتاب نورنظر خاتم النبین ص 117)

١٠۔مرضیہ:-

لغت میں مرضیہ کا معنی ہے” جس پر خوش ہو”    (فرہنگ عامرہ ص 569)

جیسا کہ ان دو نوں القاب ”راضیہ اور مرضیہ ”کے بارے میں روایت موجود ہے کہ

الراضیة و هی رضیت بما اوتیت والمرضیة هی التی رضی عنہ (کتاب نورنظر خاتم النبین ص 117)

ترجمہ:راضیہ وہ ہے جو رعطا ئے الٰہی پر راضی ہو اورمرضیہ وہ ہے جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات راضی ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

یا ایتها النفس المطمٔنة ارجعی الیٰ ربک راضیة مرضیة    (سورةالفجر آ یة 28)

اے نفس مطمٔنہ رکھنے والے اپنے رب کی طرف مراجعت کرو کہ تم اس سے راضی ہو اور تم اس سے راضی ہو ۔

١١۔محدثہ:-

لغت میں محدثہ کی معنی ”علم حدیث جاننے والے” کی ہے ۔    (فرہنگ عامرہ ص556)

امام صادق ںفرماتے ہیں کہ  جناب سیّدہ (س) کو محدثہ اس لئے کہتے ہیں کہ فرشتے جناب سیدہ (س) سے بات کیا کرتے تھے جس طرح حضرت مریم (س) سے بات کرتے تھے۔

اس کے علاوہ بھی کتابوں میں جناب سیدہ (س) کی کچھ اور اسماء گرامی ذکر ہوئے ہیں لیکن ان کی تفصیلات اور وجہ تسمیہ کے حوالے سے محدثین اور مورخین سب خاموش ہیں ،وہ اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔

١۔ منصورہ ٢۔ الحورا ٣۔ عذرا ٤۔تقیہ ٥۔امة اللہ ٦۔الحرہ ٧۔حصان ٨۔ حانیہ ٩۔نوریہ ١٠۔ مریم کبری ۱۱- عابدہ- ۱۲- ام ابیہا، ۱۳- ام الحسنین۔ وغیرہ ۔

وَالسَّلَامُ

عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا "

"روبی عابدی”

تبصرہ کریں