وقت کی للکار

السلام علیکم

جو کچھ دنیا میں خواتین کے ساتھ ہورہا ہے افسوس کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے

یہ رسم تو زمانہ قدیم سے رائج ہے اسلام اسکو ہی ختم کرنے آیا اور بہت حد تک اس پہ قابو بھی پایا گیا مگر یہ انسان جو انسانیت پہ دھبہ ہیں وہ اپنی پرانی خباثت کیسے چھوڑ سکتے ہیں وہ خباثت جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں دب گئی تھی دوبارہ سر اٹھانے لگی اور اب تک پتہ نہیں کتنے خاندان اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں مگر انسانیت خاموش ہے

ہم اس وقت بیدار ہوں گے جب یہ ہمارے گھروں تک پہنچیں گے

مگر

نہیں

ہم تو تب بھی بیدار نہیں ہوں گے

ہاں دنیا کے سامنے فریاد کریں گے

ہمدردی جمع کریں گے اور اپنی پرانی روش پہ دوبارہ گامزن ہوجائیں گی

کیوں

کیونکہ ہم میں انسانیت جو مر گئی ہے ، جو اسکا علم لے کے آگے بڑھتا ہے اسکو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے کیونکہ اسلام کو جو نہیں پہچانا۔

اسلام تو انسانیت کا درس لے کے آیا تھا مگر ہم نے اپنے اندر کے انسان کو ہی مار ڈالا

ہم فقط آدمی رہ گئے ہیں چلتی پھرتی لاشیں

صحیح کہا ہے کسی نے

آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

کس کے سامنے فریاد کریں

نہیں

اب فریاد کا وقت نہیں اب عمل کا وقت ہے

آیئے ہم سب اس کے لئے آواز بلند کریں

اس ظلم اس بربریت کے خلاف جو انسان کو پستی کی دلدل میں لے جارہا ہے

اپنے انسان کو بیدار کریں خدارا بیدار ہوجائیں

معاشرے کی آواز بننا ہے جس کو جس طرح موقع ملے آواز اٹھائیں

قلم سے زبان سے ہاتھ سے ۔۔۔

مگر آواز اٹھانی ہے

یہ تو تسلیم کرتے ہیں نا ہم کہ یہ دنیا مردوں کی ہے تو عورت کو کمزور بھی مردوں نے بنایا ہے مگر اب وقت ایسا ہے کہ عورت کو اپنا مقام لینا ہوگا اپنی کمزوری کو ختم کرنا ہوگا

مگر ایک سوال :-

عورت کی اس کمزوری کو دور کرنے میں مرد کتنا ساتھ دیں گے؟

کوئی نہیں دے گا

کیا کوئی اپنے گھر سے یہ کام شروع کرے گا؟

نہیں سب دوسرے کے گھر سے ابتدا کرنا چاہتے ہیں اپنے گھر سے نہیں جس دن ہم نے آغاز اپنے گھر سے کیا اسی دن دنیا عورت کو تسلیم کرنا شروع کردے گی

اسکی کمزوری کو ختم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو بے راہ یا بے حیائی یا گمراہی میں ڈال دیا جائے

عورت کی کمزوری کو اسطرح ختم کریں جیسے ہمارے آئمہ نے درس دیا کہ انکے گھر کی خاتون جب مقابلہ پہ آئیں تو زینب بن گئی جن کی للکار سے یزید بھی خوفزدہ ہوگیا

عورت کو ایسا ہونا چاہئے کہ زمانے کا یزید بھی اس کے سامنے ٹھہر نہ سکے

والسلام علی من اتبع الہدیٰ

"روبی عابدی”

تبصرہ کریں