استغفار کی حقیقت

السلام علیکم

“استغفار کی حقیقت”

اکثر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ذکر استغفار چند مرتبہ کہہ دینے سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اسی لئے اپنے اعمال کو کنٹرول کرنے کے بجائے مسلسل استغفار کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں

ایک دن ایک شخص امام علی علیہ السلام کے محضر میں بغیر توجہ کے کہنے لگا

استغفراللہ

امام علیٌ خاص انداز میں اسکی طرف دیکھنے لگے اور فرمایا

کیا تمھیں پتہ ہے حقیقی استغفار کیا ہے؟

حقیقی استغفار کی چھ شرائط ہیں

۱- ماضی میں انجام پانے والے گناہوں پہ نادم اور پشیمان ہونا

۲- حقیقی اور مضبوط ارادہ کرنا کہ آئندہ ان گناہوں کو انجام نہیں دیں گے

۳- اگر ان گناہوں میں لوگوں کے حقوق ضائع کیئے ہیں تو ان حقوق کو ادا کرنا

۴- اگر ان گناہوں میں واجبات کو ترک کیا ہو تو ان واجبات کو انجام دینا

۵- حرام مال سے بننے والے حصوں کو حرام سے پاک کرنا

۶- عبادت اور بندگی کی سختیوں کو برداشت کرنا جس طرح حرام لذتوں کو محسوس کیا تھا

اگر کسی کی توبہ اور استغفار میں یہ شرائط موجود ہوں تو وہ حقیقی استغفار ہیں

تو پھر اس صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں

“اَستَغفِرُاللہَ رَبّیِ وَاَتُوبُ اِلَیہِ“

اگر یہ سب پڑھ کے ہم مایوسی کا شکار ہوئے ہیں تو ہم یقین کرلیں کہ ہمارے اندر ایسی توبہ کی صلاحیت موجود ہے

لیکن شیطان ہم کو وسوسہ کرکے اس حقیقت سے دور کرنا چاہتا ہے

اقتباس

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا "

"روبی عابدی”

تبصرہ کریں