حضرت زینب بنت علیٌ

السلام علیکم

حضڑت زینب بنت علیٌ کی ولادت باسعادت کی پرمسرت موقع پہ ہماری اور ہماری فیملی کی طرف سے رسول اللہٌ، امام علیٌ و بی بی فاطمہٌ، خانوادہ رسولٌ خصوصاٌ ہمارے وقت کے امام عصر عج،

تمام مومنین و مومنات، مسلمین و مسلمات کو دل کی گہرائیوں سے ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہیں

خلق میں حضرت زینب کا بڑا رتبہ ہے

مرتبہ خالقِ اکبر نے عجب بخشا ہے

نہ کوئی مثل ہے انکا نہ کوئی ہم سا ہے

ثانئِ حضرت زہراٌ جو کہوں زیبا ہے

فاطمہٌ ہیں جو رسولِ عربی کی بیٹی

یہ بھی تو فضلِ خدا سے ہیں وحی کی بیٹی

آپ کا نام زینب ہے جو لغت میں "نیک منظر اور خوشبو دار درخت” کے معنی میں آیا ہے۔اور اس کے دوسرے معنی "زین أَب” یعنی "باپ کی زینت” کے ہیں.

متعدد روایات کے مطابق حضرت زینبؑ کا نام پیغمبر خداؐ نے رکھانیز کہا گیا کہ آپؐ نے علیؑ اور زہراؑ کی بیٹی کو وہی نام دیا جو جبرائیل خدا کی طرف سے لائے تھے. متاخر منابع میں سے جزائری نے خصائص الزینبیہ میں لکھا کہ رسول اللہ نے آپکا بوسہ لیا اور فرمایا:میری امت حاضرین کو غائبین کو میری اس بیٹی کی کرامت سے آگاہ کریں وہ اپنی جدہ خدیجہ کی مانند ہے۔

کیا شرف درگاہِ خالق سے ہوئے انکو عطا

جد رسولٌ دوجہاں باپ امامِ دوسرا

ماں بھی وہ ماں کہ لقب پانئِ مریم جسکا

بھائی حسنین سے امت پہ ہوئے جو کہ فدا

دم سے زہرا کے جو فردوس کی آبادی ہے

زینتِ خلدِ بریں یہ میری شہزادی ہے

حضرت زینبؑ کے بہت سے القاب ہیں من جملہ بعض مشہور القاب یہ ہیں:

عقیلۂ بنی ہاشم، عالمۃ غَیرُ مُعَلَّمَہ، عارفہ، موثّقہ، فاضلہ، كاملہ، عابدہ آل علی، معصومۂ صغری، امینۃ اللہ، نائبۃ الزہرا، نائبۃ الحسین، عقیلۃ النساء، شریكۃ الشہداء، بلیغہ، فصیحہ اور شریكۃ الحسین۔

حضرت زینب كبریؑ راتوں کو عبادت کرتی تھیں اور اپنی زندگی میں آپ نے کبھی بھی نماز تہجد کو ترک نہيں کیا۔ اس قدر عبادت پروردگار کا اہتمام کرتی تھیں کہ عابدہ آل علی کہلائیں۔آپ کی شب بیداری اور نماز شب دس اور گیارہ محرم کی راتوں کو بھی ترک نہ ہوئی۔ فاطمہ بنت الحسینؑ کہتی ہیں:

شب عاشور پھوپھی زینبؑ مسلسل محراب عبادت میں کھڑی رہیں اور نماز و راز و نیاز میں مصروف تھیں اور آپ کے آنسو مسلسل جاری تھے

حضرت زینبؑ صبر و استقامت میں اپنی مثال آپ تھیں۔ آپ زندگی میں اتنے مصائب سے دوچار ہوئیں کہ تاریخ میں آپ کو ام المصائب کے نام سے یاد کیا گیا ہے

صبر، خاموشی، تحمل، ضبط اور شکر خدا

ان خصائل میں ہیں بس زینب جوابِ فاطمہ

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

“سورہ طہ/47”

التماسِ دعا

“روبی عابدی”

تبصرہ کریں