السلام علیکم
ولادت با سعادت حضرت عباسٌ کے پرمسرت موقع پہ ہم
اور ہماری فیملی رسول اللہٌ، خانوادہ رسولٌ، علیٌ و فاطمہٌ و ام البنینٌ ، خصوصاً امام عصر عج
تمام مومنین و مومنات مسلمین و مسلمات کو ہدیۂ تہنیت پیش کرتے ہیں
ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے
"قمرِ بنی ھاشم”
قمرِ بنی ھاشم یعنی بنی ھاشم کا چاند۔۔
ھاشم خاندان میں صرف تین شخصیات کو قمرِ بنی ھاشم کا لقب ملا ہے
۱- عبداللہ مناف ابن ھاشم انکو قمرِ بنی ھاشم کے علاوہ قمرِ بطحہ بھی کہا جاتا تھا
۲- عبد اللہ ابن عبد المطلب ( رسول اللہ ص کے والد)
۳- حضرت عباس علمدارع
حضرت عباس ع کو قمرِ بنی ہاشم اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ بہت حسین اور جمیل تھے اور مورّخین نے آپکے حسن و جمال کو اس طرح نقل کیا ہے :
“کان العباس وسیما جمیلا یرکب الفرس المطہم و رجلاہ یخطان فی الارض و یقال لہ قمر بنی ہاشم”۔
عباس اتنے خوبصورت اور حسین تھے کہ جب بلند قامت گھو ڑ ے پر سوار ہوتے تو انکے پاؤں زمین پر خط دیتے ہوے جاتے تھے اور انکو لوگ بنی ہاشم کا چاند کہتے تھے ۔
حضرتِ عباس(ع) کی مشہور ترین کنیتیں اور القابات:-
”ابوالفضلُ”،”ابو القاسم”،”طیار”،”الشہید”
”سقّا”، "بَطَلُ العَلقَمی:(علقمہ کا پہلوان) "،”عبد صالح”،”علمدار”،”کبش الکتیبہ”:
وہ لقب ہے جو سپہ سالاری کے زمرے میں اعلی ترین رتبے کے حامل سپہ سالار کو دیا جاتا ہے جس کی بنیاد حُسنِ تدبیر اور شجاعت و دلاوری نیز ماتحت افواج کو محفوظ رکھنے جیسے اوصاف ہوتے ہیں”
”سپہ سالار”،”حامی الظعینہ”
(خواتین کا حامی)
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا أبَا الْقاسِمِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَبّاس بنَ عَلِيٍ”.
(ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے قاسم کے باپ سلام ہو آپ پر اے عباس فرزند علی(ع).
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْعَبْدُ الصّالِحُ الْمُطيعُ للهِ وَلِرَسُولِهِ وَلاَِميرِالْمُؤْمِنينَ وَالْحَسَنِ والْحُسَيْنِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ”.
(ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے خدا کے نیک بندے اے اللہ، اس کے رسول، امیرالمؤمنین اور حسن و حسین علیھم السلام، کے اطاعت گزار و فرمانبردار…”
"جب قلم لکھنے لگا حضرتِ عباس کا نام
پھول بن بن کے کھلا حضرتِ عباس کا نام
نام عباس کا عباس نہیں ہو تا اگر
بلقین ہوتا وفا حضرتِ عباس کا نام”
"ریحان”
"کس قدر تیری وفا کے چرچے ہیں اقوام میں،
تھی وفا بے نام ورنہ، تو وفا کا نام ہے”
"السلام علیک یا ابوالفضلِ العباس ع”
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا ”
تحقیق: “روبی عابدی”