السلام علیکم
“زیارت عاشورہ کے آخر میں لعنت کے بارے میں”
بعض محققین نے زیارت عاشورا کے بعض عبارات کو معصومین سے منسوب ہونے میں شک و تردید کا اظہار کیا ہے۔
سید مرتضی عسکری اور محمد ہادی یوسفی غروی، عبارت
"اَللَّهُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظَالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی وَ ابْدَأْ بِهِ أَوَّلاً ثُمَّ (الْعَنِ) الثَّانِی وَ الثَّالِثَ وَ الرَّابِعَ اللَّهُمَّ الْعَنْ یزِیدَ خَامِساً وَ الْعَنْ عُبَیدَ اللَّهِ بْنَ زِیادٍ وَ ابْنَ مَرْجَانَةَ وَ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ شِمْراً وَ آلَ أَبِی سُفْیانَ وَ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ إِلَی یوْمِ الْقِیامَةِ”
کو معصومین(ع) سے منقول نہیں سمجھتے
اور اس بات کے معتقد ہیں کہ ابن قولویہ کی کتاب کامل الزیارات جس میں پہلی بار زیارت عاشورا کو نقل کیا گیا ہے، اس میں یہ عبارت موجود نہیں ہے۔
زیارت عاشورا کے بارے میں ابتدائی منابع کے پیش نظر زیارت عاشورا کے لعن والے حصے :
« وَابْدَأْ بِهِ اَوَّلاً ثُمَّ الثَّانِىَ وَالثَّالِثَ والرَّابِعَ اَللَّهُمِّ الْعَنْ یَزیدَ خامِساً»
کے بارے میں دو نظریات پائے جاتے ہیں:
١۔ زیارت عاشورا کی پوری عبارت من جملہ مذکورہ لعن اس کا حصہ ہے ۔ بالکل یہی عبارت “ مصباح المتھجد” میں آئی ہے: «اللهم خص أنت أول ظالم باللعن منی و ابدأ به أولا ثم الثانی ثم الثالث و الرابع اللهم العن یزید خامسا».[شیخ طوسی، مصباح المتهجد، ص 776، مؤسسة فقه الشیعة، بیروت، 1411ق]
۲۔ کامل الزیارات میں نقل کے لئے متن کے پیش نظر بعض افراد نے اس زیارت کو مذکورہ لعن کے بغیر قبول کیا ہے۔ زیارت عاشورا کا جو متن “ کامل الزیارات” میں پایا جاتا ہے وہ اس عبارت کے بغیر ہے کہ:
« وَابْدَأْ بِهِ اَوَّلاً ثُمَّ الثَّانِىَ وَالثَّالِثَ والرَّابِعَ اَللَّهُمِّ الْعَنْ یَزیدَ خامِساً»
بلکہ اس زیارت کا متن یہ ہے کہ:
“ اللهم خص أنت أول ظالم ظلم آل نبیک باللعن ثم العن أعداء آل محمد من الأولین و الآخرین اللهم العن یزید و أباه.”
[ابن قولویه، کاملالزیارات، ص 177، مرتضویه، نجف اشرف، 1356ق.]
اس بنا پر ابن قولویہ کے نقل کے مطابق زیارت عاشورا کے متن میں درمیانی عبارت، یعنی:
« وَابْدَأْ بِهِ اَوَّلاً ثُمَّ الثَّانِىَ وَالثَّالِثَ»
نقل نہیں کی گئی ہے البتہ اس میں یزید اور معاویہ پر لعن ذکر کی گئی ہے
آغاکمال حیدری کہتے ہیں کہ یہ جملے اضافہ ہیں کیونکہ یہ ائمہ کی پالیسی کے خلاف ہے
سوال:
کیا آپ جانتے ہیں زیارت عاشورہ میں اول ثانی ثالث اور رابع سے مراد کون کون لوگ ہیں؟
جواب :
اول سے مراد قابیل ہیں اور دوسرے سے مراد قاتل زکریا ہیں ثالث سے مراد وہ ہیں جنہوں نے ناقۂ صالح کی ٹانگیں کاٹی تھی اور رابع سے مراد ابن ملجم
عام طور پر اس شکل میں ردو بدل ہوتا رہتا ہے اور آخیربعض پیغامات میں یہ ہے کہ کتب شیعہ میں عام طور سے دو منابع ہیں جہاں ذکر کیا جاتا ہے
مگر وہ بات جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں وہ یہ کہ یہ بات کہاں سے آئی
کتاب استبصار میں شیخ طوسی رح نے بیان کیا ہے کہ عباسی خلیفہ کے دور میں احمد اور انکے ساتھیوں کو برا بھلا کہتے تھے اور شیخ طوسی کا ہی زمانہ ہوگا لگ بھگ
کہ وہ برا بھلا کہتے تھے صحابہ کو۔۔
کتاب مصباح شیخ طوسی میں اس کی گواہی ملتی ہے
“اقتباس”
(یہ سوال ہم نے بھی آیت اللہ سیستانی کے بیٹے سے نجف میں کیا تھا انہوں نے بھی اس حصے کو زیارت کا حصہ قرار نہیں دیا انہوں نے کہا کہ اگر اس کو مانا بھی جائے گا تو اسمیں
پہلے سے مراد قابیل اور دوسرے سے مراد قاتل زکریا، ثالث یعنی تیسرے سے مراد وہ ہیں جنہوں نے ناقۂ صالح کی ٹانگیں کاٹی تھی اور رابع یعنی چوتھے سے مراد ابن ملجم ہے)
واللہ اعلم
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”