السلام علیکم
“مومن اور منافق”
بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُہُمۡ وَإِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡہِمۡ ءَايَـٰتُهُ ۥ زَادَتۡہُمۡ إِيمَـٰنً۬ا وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ ◌ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَـٰهُمۡ يُنفِقُونَ ◌ [الانفال:٢–٣]
ترجمہ: حقیقی مومن تو وہی ہیں کہ جب الله کا ذکر کیا جاتا ہے تو انکے دل لرز جاتے ہیں اور جب انھیں اسکی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو انکے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے، اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں. جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ھم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
عالمہےفقطمومنجانبازکی میراث
مومن نہیں جو صاحب ادراک نہیں ہے
(علامہ اقبال)
حدیث میں مذکور ہے جب کوئی مومن بولنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے رکتا ہے بات کو اپنے دل میں دھراتا ہے
اگر اسے اس بات میں نیکی اور بھلائی نظر آئے تو وہ اس بات کو کر دیتا ہے
اور اگر اسے اس میں حرام اور برائی دکھائی دے تو وہ بات کرنے سے رک جاتا ہے۔
’’مؤمن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے کہ اگرکچھ کھائے تو پاکیزہ عمدہ (پھلوں کارس) ہی کھاتی ہے اوراگرہضمکرے تو بھی پاکیزہ اورعمدہ (شہد ) دیتی ہے۔”
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہِمردِ مومنسےبدل جاتی ہیںتقدیریں
(علامہ اقبال)
مؤمن کامل وہی ہےجواپنےاندراعلیٰ اخلاق کی تکمیل کرے،
خیر اورسلامتی کا حریص ہو،
اللہکی مخلوق کوکثیرنفع اورکم اذیت دینے والا ہو۔
اسکے ظاہرو باطن سے پاکیزہ حرکات و سکنات اورنیک کام ہی سرزد ہوںاور اسکا وجود اس دنیا پر رحمت
اور تماممخلوق کے لیے نفع مندہو۔
اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کیادا دلفریباسکینگہدلنواز
نرمدمگفتگو ،گرمدمجستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل پاک باز
(علامہ اقبال)
مومن کا دِن تو روشن ہوتا ہی مگر رات روشن تر ہوتی ہے ۔
منافق کا صرف دِن روشن ہوتا ہے اور رات تاریک
بلکہ تاریک تر۔
کافرکییہپہچانکہآفاقمیں گمہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
(علامہ اقبال)
منافق کا قول ۔ دِن کی روشنی میں داد پاتا ہے ۔ اِسی لیے اِسے اچھے قول اور اچھے عمل کے لیے صرف دِن کی ضرورت ہوتی ہے ۔
رات کا گواہ صرف خدائے واحد ہوتا ہے ۔
اور منافق کا خدائے واحد کے ساتھ تعلق لاشریک نہیں ہوتا
اِسی لیے وہ رات کو خدا اور اُس کے قول کی جانب پشت کر کے سو جاتا ہے ۔
اگر وہ جاگبھی رہا ہو تو اُس کے نصیب سو رہے ہوتے ہیں
کیونکہ وہ جاگتے میں اندھیری رات میں اندھیر ہی مچاتا ہے ۔
پروردگار ہم سب کو سچا مومن بننے کی توفیق دے
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی"
جزاك اللهُ
پسند کریںLiked by 1 person