شبِ نیمۂ شعبان

السلام علیکم

آیۃاللہ محمد علی اسماعیل پور قمشہ ای کا بہت ہی خوبصورت پیغام شبِ پندرہ شعبان کے لئے!!!

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یا ایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا ؛

حضرت مھدی صاحب الزمان علیہ السلام و عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہوئے اور آپ سبھی شب بیداری کرنے والوں اور شب نیمہء شعبان کی عظیم سنت کو زندہ رکھنے والوں کو سلام پیش کرتے ہوئے ؛

اما بعد ؛ یہ حقیر عرض کرتا ہے کہ

اولا؛ وہ لوگ جو اجتماعی یا انفرادی طور پر اس شب کو احیاء کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ،وہ اس چیز کا شکر ادا کریں کہ خداوند متعال نے رکاوٹوں کو دور کیا ہے اور سلامتی اور امنیت کہ جو سب سے بڑی نعمت ہے انہیں عطا فرمائی ہے اور ان کو معنویت کے دسترخوان پر جگہ دی ہے ،ادا کریں ۔

ثانیا؛ یہ جان لیں کہ خدا وند عز وجل کا ذکر چاہے جس انداز میں بھی ہو روح کی غذا ہے اور دوسرے عالم میں پرواز اور بلندی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔اور یا اللہ اور سبحان اللہ اور اس جیسے اذکار خدا کے فرشتوں کی خوراک ہے اور رکوع و سجود بھی اسی نوعیت کے ہیں ۔

ثالثا؛توجہ رکھیں کہ پوری عمر میں اور جہاں کہیں بھی ممکن ہو بقدر امکان اس شب کے احیاء سے محروم نہ رہیں ،اس لیے کہ یہ وہی چیز ہے کہ جس کے بارے میں خداوند متعال نے اپنے عظیم الشان پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ رات کا زیادہ حصہ قیام اور قرآن کی تلاوت میں گذاریں ۔رات کی یہ نشو ونما طالبان کمال اور بلند انسانی مقامات کے لیے بہت محکم راستہ ہے ؛

ان ناشئۃ اللیل ھی اشد وطئا و اقوم قیلا ؛

خاص کر طلاب اور علماء کے لیے کہ جو آئندہ تمام امور یا بعض امور میں لوگوں کے دینی پیشوا بننا چاہتے ہیں ۔یہ اس لیے ہے کہ خود نجات پا کر دوسروں کو بھی شیطانی دسیسہ کاریوں اور ہلاکتوں سے نجات دلائیں ؛

انا سنلقی علیک قولا ثقیلا ؛

اگر اس چیز کی بنیاد تہذیب نفس اور اس شب میں توجہات الہی کے ہمراہ نہ ہو اور اگر انسان لغزشوں کے موقعے پر اپنے نفس کے امر کی اصلاح اور صفائے فہم کے در پے نہ ہو تو ہلاکت کے بھنور میں پھنس جائے گا،اور ان لوگوں میں شمار ہو گا جو یہ سوچتے ہیں کہ ان کا کام اچھا ہے لیکن وہ گمراہوں میں سے ہیں ؛

الذین ضل سعیھم فی الحیاۃ الدنیا و ھم یحسبون انھم یحسنون صنعا

خدا وند متعال ہمیں اور آپ کو اس عظیم مصیبت سے محفوظ رکھے ۔

ورابعا: اس زمانے میں کہ جب دشمنان دین ہر وسیلہ اختیار کرتے ہیں تا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خاص کر لڑکے اور لڑکیوں کو دینی واجبات اور محرمات سے غافل کر دیں اور نیکی کی ہدایت کرنے والوں اور برائی سے روکنے والوں کا خون بغیر کسی جرم اور خطا کے بہائیں ،یاد رکھیں کہ صرف مستحبات موکدہ کو انجام دینا ہی نجات کا راستہ نہیں ہے ۔بلکہ یہ مقدس مجالس ترک محرمات اور انجام واجبات کے لیے راستہ ہموار کریں ،اور دعا ،ذکر اور شب زندہ داری مسئلے کا ایک رخ ہے ۔

خداوند متعال کو ہمیشہ اور ہر جگہ مسجد سے لے کر گھر تک ،اور بازار اور ادارے میں اور عدالت میں ہر جگہ اپنے اعمال پر حاضر و ناظر جانیں۔

اور باخبر رہیں کہ ترک واجبات اور انجام محرمات روح کی ہلاکت کا سبب ہوتا ہے اور مستحبات کا بجا لانا روحانی درجات کے بلند ہو نے کا زریعہ ہوتا ہے ۔

(آیۃاللہ محمد علی اسماعیل پور قمشہ ای )

❤️ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا بَقِيَّةَ اللهِ فِي أَرْضِهِ وَ حُجَّتَهُ عَلَى خَلْقِهِ ❤️

تا بگیری انتقام مادر قامت کمان

العجل یا منتقم یا حضرت صاحب زمان

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا

"روبی عابدی"

تبصرہ کریں