السلام علیکم
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا
“علامہ اقبال”
اگر دیکھا جائے تو جسمانی غلامی اتنی نقصان دہ اور معیوب نہیں جتنی ذہنی غلامی ہے۔
جسمانی غلامی سے تو آزادی مل سکتی ہے لیکن ذہنی غلامی نسلیں برباد کر دیتی ہے
کیونکہ اگر کسی قوم کی فکر اور سوچ آزاد ہو تو وہ کبھی بھی شکست تسلیم نہیں کرتی، اور موقع پاتے ہی خود کو آزاد کرالیا کرتی ہے
جبکہ کسی قوم کا ذہنی غلامی میں مبتلاء ہوجانا اسکے اندر سے سوچنے تک کی صلاحیت کو ختم کر کے رکھ دیتا ہے۔ یہ بےچارے غلام یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم آزاد سوچ کے مالک ہیں۔
غلامی کی بدترین شکل یہی ذہنی غلامی ہے
جب غلاموں کو اپنی زنجیروں سے پیار ہو جائے
اس ذہنی غلامی نے مسلمانوں کو قرآن اور حدیث کے مطابق سوچنے کی صلاحیت سے دور کرکے رکھدیا کہ وہ حالات کا قرآن و حدیث کی روشنی میں تجزیہ(analysis) کرتے
دنیا کی کوئی بھی قوم اسی وقت تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے جب تک اسکا اپنے افکار و نظریات، عقیدے اور اصولوں کے ساتھ گہرا تعلق رہتا ہے۔
چنانچہ اگر آج بھی ہم اپنی منزل کو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اصولوں اور اپنی بنیادوں کی طرف لوٹنا ہوگا جب تک ہم یہ پتہ نہیں لگا لیتے کہ موجودہ دور کے بارے میں قرآن و حدیث کیا کہتے ہیں تب تک ہم صورت حال کو بالکل نہیں سمجھ سکتے۔
اللہ تعالی امت مسلمہ خاص طور پہ امت شیعہ کو دین کی سمجھ عطا فرمائے اور ہم سب کو دین و دنیا میں کامیابی سے ہمکنار فرمائے
آمین یا رب العالمین
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی"