السلام علیکم
پروردگار نے ہمیں اپنا کلام سمجھنے اور اس پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دی ہے، چنانچہ اگر کوئی مومن مرد یا خاتون قرآن مجید کی تلاوت کریں تو اس کیلیے آیاتِ قرآنیہ کا معنی سمجھنا شرعی عمل ہے؛ تا کہ کلامِ الہی سے فائدہ اٹھا سکیں اور اللہ تعالی کی گفتگو کو سمجھ کر پھر اس کے مطابق عمل کریں،
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا)
ترجمہ: کیا وہ قرآن پر غور و فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں![محمد:24]
اللہ تعالی نے قرآن کریم کوتوجہ اور خاموشی کے ساتھ سننے کا عمومی حکم دیا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش ہو جاؤ، تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ [الأعراف: 204]
قرآن کو توجہ سے سننے اور خاموش رہنے میں سب سے بڑی حکمت جو کارفرما ہے وہ یہ ہے کہ سامع معانی پر مطلع ہو کر عمل کی راہ اختیار کرے
الله تعالی قران کو بغیر سمجھے پڑھنے کی اجازت نہیں دیتا ، اس بارے میں ایسی قرانی آیات پیش کی جاتی ہیں جن میں اس بات کو کئی طرح سے بیان کیا گیا ہے
ہر قوم میں اسی قوم کی زبان بولنے والا رسول بھیجا گیا تاکہ الله کا پیغام اچھی طرح سمجھا دیا جائے –
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشَاءُ
"اور ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھاۓ” (ابراہیم 4 )
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ
“ایمان والو خبر دار نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک یہ ہوش نہ آجائے کہ تم کیا کہہ رہے ہو ” (النساء 43 )
قران کریم کو سمجھ کر پڑھنے پر زور دینے کے لئے ایک لفظ (تقریبا ٢٠٠ سے زیادہ) بار دہرایا گیا ہے –
اس لفظ کا مادہ ( ب – ی – ن ) ہے ، اس مادہ سے تین لفظ ایسے بنتے ہیں جن سے یہ بات بلکل واضح ہوجاتی ہے کہ قران کو بغیر سمجھ کر پڑھنا الله تعالی کی بہت بڑی نافرمانی ہے – وہ تین لفظ یہ ہیں
١– یبین : کھول کھول کر بات بتانا
٢– بینه : روشن
٣– مبین : واضح – کھلا
ان الفاظ کے حوالے سے چند آیات کے تراجمتاکہ قران کو بغیر سمجھ کر پڑھنے والوں کو اس بات کا احساس ہو سکے کہ الله تعالی تو ہم کو بہت کچھ سکھانا اور بتانا چاہتا ہے اور ہم ہیں کہ کچھ سیکھنے اور سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں
ۗ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
"الله تمھارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ” ( النساء ١٧٦)
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ
"اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہو جاۓ ” (الانعام ٥٥ )
قران تو ساری اقوام کے لئے ہدایت اور نصیحت کے طور پر نازل کیا گیا ہے ، لیکن ہے عربی زبان میں لہذا ہر قوم کو قرآن کے اپنے عربی ٹیکسٹ کے ساتھ اس کی زبان میں ترجمه شدہ قران دینا اور خود اپنی زبان میں ترجمه شدہ قران پڑھنا الله تعالی کے قانون کے عین مطابق ہے
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی"
