علم و عمل

السلام علیکم

علم اور عمل

علم نور وہدایت ہے جبکہ جہالت تاریکی اور گمراہی ہے۔

علم ایمان کے ساتھ دنیا اور آخرت میں رفعت وبلندی ہے

اور عمل ہی علم کا ثمرہ ہے اور یہی علم کی بنیاد ہے۔

لہذا طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ جو جانے اس پرعمل کرے، ورنہ علم اس کے لیے باعث وبال اور باعث حسرت ہوگا۔

عالم جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتا اس موم بتی کی طرح ہے

جو لوگوں کو روشنی دیتی اور خود جل کر اپنا وجود ختم کرلیتی ہے ۔

عمل اس وقت ہوتا ہے جب علم اسکے ساتھ شامل ہوتا ہے۔

انسان اس وجہ سے ثواب کا مستحق ہو سکے۔

مثلاً

‎“ جب تک انسان کو اپنے ارکانِ طہارت، پاک پانی کی پہچان، قبلہ کی شناخت، نیت کی کیفیت اور نماز کے ارکان کا علم نہ ہو تو نماز ہی نہیں ہوتی۔

پس جب عمل درحقیقت علم ہی سے حاصل ہو سکتا ہے تو کس طرح جاہل عمل کو علم سے جدا کر سکتا ہے۔

جو لوگ علم کو عمل پر فضیلت دیتے ہیں تو یہ بھی صحیح نہیں

کیونکہ عمل کے بغیر علم، علم نہیں کہلاتا۔

پروردگار نے قرآنمیں فرمایا

الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

(سورہ البقرہ/ 101 کا حصہ)

اہلِ کتاب کی ایک جماعت نے کتابِ خدا کو پشِ پشت ڈال دیا جیسے وہ اسے جانتے ہی نہ ہوں

****

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے ناری ہے

(وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ) [طه: 114]

اور آپ کہیے کہ میرے رب مجھے مزید علم عطا کر ۔

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا

"روبی عابدی"

تبصرہ کریں