رحلتِ بی بی خدیجہ صلوات اللہ علیہ

السلام علیکم

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

ام المومنین بی بی خدیجہ صلوات اللہ علیہ کی رحلت کے موقع پر ہم اور ہماری فیملی رسول اللہٌ، خانوادہ رسول ع اور خصوصاً وقت کے امام۔ امام زماں عج کی خدمت میں اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کو تعزیت پیش کرتے ہیں

بے وجہ نہیں دہر میں یہ شانِ خدیجہٌ

اللہ و پیمبرٌ کو ہے عرفانِ خدیجہٌ

ہیں سارے مسلمانوں سے اسلام میں سابق

ایمان کی بنیاد ہے ایمانِ خدیجہٌ

گردن پہ مسلماں کی ہے اسلام کا احسان

اسلام کی گردن پہ ہے احسانِ خدیجہٌ

خالق کی نظر میں ہیں یہی منزلِ کوثر

اے صلِّ علی وسعتِ دامانِ خدیجہٌ

جب یہ تھیں مسلماں تو سب لوگ تھے کافر

کس طرح مسلماں کو ہو عرفانِ خدیجہٌ

وہ سارے مسلمان جو ہیں منکرِ عمراں

صد شکر کہ ہیں وہ بھی مسلمانِ خدیجہٌ

اولاد کے ہاتھ میں ہے جنت کی حکومت

دیکھے تو کوئی سرحدِ امکانِ خدیجہٌ

ایماں کا جو محور ہے وہ ہے نفسِ پیمبر

عصمت کا جو پیکر ہے وہ ہے جان ِ خدیجہٌ

ہے خانہء احمد میں جو سر چشمہء کوثر

تاریخ میں ملتا ہے، بعنوانِ خدیجہٌ

ہیں پھول امامت کے تو عصمت کے ہیں غنچے

سر سبز نہ ہو کیسے گلستانِ خدیجہٌ

مانا کہ مسلماں نے بہت لوٹ کے کھایا

فردوس میں محفوظ ہے سامانِ خدیجہٌ

ہے عشقِ پیمبر تو روایات کو چھوڑو

دنیا کے لئے ہے یہی فرمانِ خدیجہٌ

مرنے پہ بھی ہوتا رہا کردار کا چرچا

یہ شانِ خدیجہٌ ہے فقط شانِ خدیجہٌ

(علامہ ذیشان حیدر جوادی)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

“روبی عابدی”

تبصرہ کریں