اخلاق

السلام علیکم

ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ

ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے

اخلاق اور تواضع

اخلاق کسی بھی قوم کی زندگی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو۔

اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں ۔

انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل شئے اخلاق ہے

اخلاق حکمت عملی کا ایک حصہ ہے اخلاقی قواعد کی بنا پر انسان کا رفتار سعادت اور کمال تک پہنچنے کے لئے درست کیا جا تا ہے اور ان ہی قواعد کی بنا پر انسان کی فردی اور اجتماعی ذمہ داریاں مشخص ہو تی ہے چاہے اخلاق کے محا سن ہو یا چاہے اسکے مکارم ہو یہ انسان کے اندر اچھی صفتوں کو وجود میں لاتے ہیں محاسن اخلاق ان صفات کو کہا جا تا ہے جو صرف انسان کے ظاہری رفتار میں منعکس ہوتی ہیں جب کہ وہ انسان ایک اعلی شخصیت بھی نہ ہوں جیسے صفائی کا خیال رکھنا ،ظاہری صورت ٹھیک کرنا ،خوشحالی اور خندہ روئی سے ملنا، معاشرے میں اجتماعی آداب کی رعایت کرنا۔ ممکن ہے ایک انسان ظاہری طور پر ان صفات کا حامل ہو لیکن اندر سے ظالم، منافق ، خائن اور جھوٹا بھی ہو اور یہ صفا ت ایسے انسان کو انسانیت کے دائرے سے خارج کر کے اسے حیوانیت کی منزل تک لے جا تے ہیں.

تواضع مکتب آئمہٌ کا ایک اہم با ب ہے تواضع اور انکساری کی وجہ انسان دوسروں کو اپنے قریب لاتا ہے انکے دلوں میں اپنے لئے محبت پیدا کر تا ہے اسلام تواضع پہ خاصی توجہ دیتا ہے اور انکساری کرنے والوں کو صحیح معنوں میں انسان واقعی جانتا ہے

حقیقت بھی یہی ہے اگر آج کا انسان تواضع کے اسلحہ سے لیس ہو جائے انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی کا ہر پہلو بدل سکتا ہے ذات ،پات، رنگ ،نسل ،چھوٹا ۔بڑے کی تعصب آمیز دیواریں ہمیشہ کے لئے گر سکتی ہیں امام علی اس بارے میں فرماتے ہیں :

۱۔واعتمدوا وضع التذلل علی رؤسکم والقاء تعزز تحت اقدامکم…”(حکمت ١٩١)

اپنے سر پر تواضع کا تاج رکھنے کا عزم کرو اور تکبر کو اپنے پیروں تلے رکھ کر کچل دو…’

۲۔واتخذوا التواضع مسلحة بینکم وبین عدوکم ابلیس و جنودہ”(حکمت ١٩١)

اپنے اور اپنے دشمن ابلیس اور اسکے لشکروں کے درمیان تواضع اور انکساری کا مورچہ قائم کرلو کہ اس نے ہر قوم میں اپنے لشکر،مددگار، پیادہ، سوار سب کا انتظام کر لیا ہے

ہمارے کزن سید علی عابدی

S M Ali Abidi (اسد)

کا امام علی علیہ السلام کی شہادت کے حوالے سے بہترین پیغام!

سوچیں اور عمل کریں

اخلاق کا بیاں ہوجا

محبت کی زباں ہوجا

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی عابدی

تبصرہ کریں