السلام علیکم
ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺍﻟْﻌَﻦْ ﻗَﺘَﻠَﺔَ ﺃَﻣِﻴﺮِ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦ کی تشریح:
آج کی رات کی توجہ زیادہ اس بات کی طرف ہے.
«ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺍﻟْﻌَﻦْ ﻗَﺘَﻠَﺔَ ﺃَﻣِﻴﺮِ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦ »
ﺧﺪﺍﻳﺎ!ﻗﺎﺗﻠﻴﻦ ﺍﻣﻴﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﻴﻦ پر لعنت کر.
ہم یہ کیوں نہیں کہتے؟
«ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺍﻟْﻌَﻦْ ﻗَﺎﺗَﻞََ ﺃَﻣِﻴﺮِ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦ »
بلکہ ﺟﻤﻊ کے ساتھ پڑهتے ہیں.
«ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺍﻟْﻌَﻦْ ﻗَﺘَﻠَﺔَ ﺃَﻣِﻴﺮِ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦ »
ﻳﻌﻨﻲ وہ افراد جنهوں نے امیر المومنین کو قتل[شهید] کیا تو ان پر لعنت کر .
یہ بات صحیح ہے کہ عبد الرحمن بن ملجم مرادی[ملعون] نے امیر المومنین علی[علیہ السلام]کو قتل کیا لیکن یہ اکیلا نہیں تھا بلکہ یہ ایک گروہ [لائن]تھا اس عظیم ہستی کو قتل کرنے کے پلان کا.
کیا ﺍﺑﻮﻟﻬﺐ ایک ہی فرد ہے جس کی مذمت میں خداوند عالم فرمارہا ہے.
« ﺗَﺒَّﺖْ ﻳَﺪﺍ ﺃَﺑﻲ ﻟَﻬَﺐٍ ﻭَ ﺗَﺐَ» (لهب /1)
اللہفرمارہا ہے کہ ابولهب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ٹوٹ گیا.
یہ[ابولهب]صرف ایک ہی فرد نہیں ہے بلکہ یہی ایک فرد ایک گروہ کا نمائندہ ہے. کبھی ایک شخص ہوتا ہے جو ایک گروہ کا نمایندہ ہوتا ہے.
ابن ملجم[ملعون و مردود] ایک گروہ [خوارج و قتل وغارت و دهشتگردی] کا نمائنده ہے.
اسی لئے ہم نہیں کهتے ہیں: «ﺍﻟﻠﻬﻢ ﺍﻟﻌﻦ ﺍﺑﻦ ﻣﻠﺠﻢ »
بلکہ ہم کهتے ہیں: «ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺍﻟْﻌَﻦْ ﻗَﺘَﻠَﺔَ ﺃَﻣِﻴﺮِ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦ » ﻗﺘﻠﺔ ﺑﻪ ﻣﻌﻨﻲ ﻗﺎﺗﻠﻴﻦ [قتل کرنے والے] ہے.
یهاں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابیطالب [علیه السلام] کو ایک ہی شخص نے شهید نہیں کیا بلکہ حقیقت میں ایک گروہ تھاجنهوں نے اس قبیح عمل کو انجام دیا. اور ممکن ہے آج بھی وہ گروہ اپنے پلان بنا رہا ہو اور زمانہ کے امام کے شهید کرنے میں اپنی تیاریاں کررہا ہو یا انکے چاہنے والوں کے قتل کرنے میں اپنا کردار ادا کررہا ہو.
اس قتل کے پروگراممیں جتنے بھی لوگ تھے سب اس چیز کو جانتے تھے اور اس پروگرام کو بنانے میں سب کا اچھا خاصہ رول تھا
لہذا اسی بنا پر ہم سب پر لعن کرتے ہیں اور کهتے ہیں:
[اللهم العن قتلة امیر المؤمنین]
اے اللہ! امیر المومنین[علی بن ابیطالب علیہ السلام] کے قاتلوں پر تو لعن کر. تو اپنی رحمت کے کنارے سے انکو دور رکھ اورعذاب میں همیشہ کے لئے شامل کر…
اسی طرح ایک انسان، گناه کرنے والے پر راضی ہوتا ہے تو وہ اس گناہ کا ایک جزء ہوتا ہے.
(یهاں تک کے الفاظ مطالب آقای قرائتی حفظہ اللہ کے ہیں بیچ میں اضافہ کے ساتھ)
اور ہم زیارت عاشوره میں بھی پڑهتے ہیں:- آخر تابع له علی ذالک اللهم العن العصابة التی جاهدت الحسین و شایعت و بایعت و تابعت علی قتله اللهم العنهم جمیعا. <. اے پروردگار تو اس گروه پر لعنت کر جس نےامام حسین [علیہ السلام]کے ساتھ(خلاف)جنگ کی اور ان[امام حسین علیہ السلام] کے قتل میں اس [گروه]کی پیروی کی.
اسکی بیعت کی اور اتباع کی . اے پروردگار ان سب پر تیری لعنت ہو.>
زیارت کے اس فقرے میںغور کریں کہ قاتل کے زمرے میں ہر وہ انسان آرہا ہے جس نے اس ظلم کی پیروی کی ہو یهاں تک کہ دوسرے زیارت کے فقرات میں لفظ [رضیت] بھی آیا ہے. یعنی جو اس ظلم پر راضی ہو جائے. کسی کی رضایت اس وقت نظر آتی ہے جب کوئی کسی کے ظلم پر اسکے خلاف کچھ نہ بولے اور خاموش رہے یا کم از کم اس کے بارے میں خدا سے دعا نہ کرے کہ پروردگار اسکو تو اپنی رحمت میں داخل نہ کرکے جهنم کے آگ میں داخل کردے .
ہمکو ظلم سے بیزاری کے لئے کم از کم چاہئے کہ الله سے اسکے خلاف دعا کریں.اور ممکن ہو تو عملی میدان میں آکر ظلم کو جڑ سے اکھاڑ کر ہمیشہ کے لئے مدفون زمین کر دینے کی کوشش کریں.
اسی بنا پر امیر المومنین علی بن ابیطالب [علیہ السلام] اپنے بیٹوں[امام حسن و امام حسین علیهما السلام] سے وصیت میں فرماتے ہیں:
< وَکُوْنَا لِلظَالِمِ خَصْمًا وَلِلمَظْلُوْمِ عَوْنًا>
اور ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا۔
پروردگار! محمد و آل محمد علیهم السلام کے صدقے میں ہم سب کو اور نسل آئندہ کو، ظلم کے خلاف ایک ہوکر آواز بلند کرنے کی توفیق دے.اور جرآت بیان و عمل دے.
آمین یا رب العالمین.
(محور و اصل بیان :- حجة الاسلام شیخ قرائتی حفظہ اللہ)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
