السلام علیکم
وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ
(سورہ ق / 19)
اور موت کی بیہوشی یقینا طاری ہوگی کہ یہی وہ بات ہے جس سے تو بھاگا کرتا تھا
ہر انسان کے لئے تین سخت اور دشوار مرحلے ذکر ہوئے ہیں، ولادت کا مرحلہ، موت واقع ہونے کا مرحلہ، اور حشر کے میدان میں داخل ہونے کا مرحلہ۔
[مجلسی، ۱۴۰۳ق، بحار الانوار، ج۶، ص۱۵۸، بہ نقل از فرہنگ شیعہ، ج۱، ص۴۱۰۔]
ہماری زندگی تو مختصرسی اک کہانی تھی
بھلا ہو موت کا جس نے بنا رکھا ہے افسانہ
(بیدم)
پیغمبر(ص) اپنے عمر کے آخری لمحہ میں، اپنے ہاتھ کو پانی میں ڈالتے اور پھر اسے اپنے چہرے پر ملتے تھے اور
"لاالہ الا اللہ”
کہتے تھے اور فرماتے تھے:
"انَّ لِلْمَوْتِ سَكَراتٌ"
بے شک موت سکرات اور شدید ہے۔
[مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۱۷۰۔]
امام علی(ع) نے حدیث میں فرمایا
“موت کا وقت بہت سختی کا وقت ہے
اور عام لوگوں کی عقل اس کی دشواری کو توصیف کرنے سے قاصر ہے”۔
[مکارم شیرازی، پیام قران، ۱۳۸۶ش، ج۵، ص۳۴۵۔]
امام صادق(ع)، نے ایک حدیث میں، صلہ رحم اور والدین کے ساتھ نیکی کرنے کو سکرات موت کی سختی کم کرنے کے اسباب کہا ہے۔۔
اگر کسی شخص کی ماں اس سے ناراض ہو، تو اس کی سکرات موت اور عذاب قبر بہت شدید ہوگا۔
[جامع السعادات، ۱۳۸۳ش، ج۲، ص۲۶۳۔]
پروردگار ہم سب کو توفیق دے کہ ہم صلہ رحمی کو نہ چھوڑیں اور جن کے والدین زندہ ہیں وہ ان کا احترام کریں جن کے اس دارِ فانی میں موجود نہیں انکی مغفرت کی دعائیں کریں
پروردگار تجھ کو واسطہ ہے تیری اپنی کتاب قرآن مجید کا ہم پہ اور تمام مومنین و مومنات پہ سکرات کی سختی کو کم کردینا
آمین یا رب العالمین
خوب و زشت جہاں کا فرق نہ پوچھ
موت جب آئی سب برابر تھا
(امداد)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
