آج ہمارا معاشرہ تیزی سے بگاڑ کا شکار کیوں ہوتا جارہا ہے؟
سوال بہت ہی اچھا ہے
اسکا جواب ہمیں اپنے اندر تلاش کرنا چاہئے
اس کی سب سے بڑی وجہ مقابلہ بازی اور طبقاتی نظام ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ قناعت پسندی جیسی نعمت کی شدید کمی ہے
اگرچہ صحت مندانہ مسابقت اچھی چیز ہے اور لوگوں کو اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا چاہیے لیکن فی زمانہ لوگ بحیثیت مجموعی دوسرے کو کچل کر آگے بڑھنے کے سفر میں گامزن نظر آتے ہیں۔ والدین بچوں کو اچھی تربیت دینے کے بجائے اچھا اسٹیٹس دینے کی فکر میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
ویلیم بلیک نے کہا تھا،
’A mark on every face I meet, Marks of weakness, marks of woe ‘
یعنی جس چہرے سے بھی ملتا ہوں میں اسی پہ لاچاری اور اداسی کی نشانیاں دیکھتا ہوں”۔
در اصل لوگوں نے آج سکون اور راحت عہدوں اور پیسوں میں تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔
مال و دولت کی کثرت نے بندوں کا رشتہ رب سے توڑ دیا ، وہ آخرت کو بھول کر دنیا اور دنیا کے اسباب و وسائل کو جمع کرنے میں جُٹ گئے ہیں۔ اپنی قبروں کو روشن کرنے کے بجائے دنیوی گھروں کو عالیشان بنانے اور ان کے زیب و زینت میں مگن ہیں۔ ظاہر ہے کہ مال و دولت کی زیادتی اور خوبصورت عمارت میں اتنی قوت نہیں کہ وہ لوگوں کو سکون فراہم کرسکیں۔
مال کی کثرت سے اگر سکون ملتا تو قارون دنیا کا سب سے پرسکون انسان ہوتا۔حکومت اور عہدوں سے اگر سکون ملتا تو فرعون دنیا کا سب سے پرسکون انسان گزرتا ،
مگر ایسا نہیں ہوا وہ دولت اور عہدوں کے باوجود پریشان حال رہے اور پریشانی کے ساتھ ہی عبرتناک موت کے ذریعہ دنیا سے چل بسے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان دولت اورجائداد کے ذریعہ عالیشان اور اونچی عمارتیں بناسکتا ہے مگر سکون نہیں خرید سکتا۔ عہدوں کے ذریعہ لوگوں میں رعب و دبدبہ قائم کرسکتا ہے مگر اسے حقیقی راحت میسر نہیں ہوسکتی ،
جیسے ایک انسان مال سے کتابیں تو خرید سکتا ہے ، علم نہیں خرید سکتا ۔
مال سے انسان اچھا لباس تو خرید سکتا ہے ، حسن و جمال نہیں خرید سکتا ۔
مال سے انسان اچھی دوائیں تو خرید سکتا ہے ، اچھی صحت نہیں خرید سکتا۔
کوئی بھی پریشانی خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو کسی انسان پر ہمیشہ نہیں رہتی۔ سو اگر ہم پر کوئی پریشانی آئے تو اس کے سامنے گھنٹے مت ٹیکیں اور کتنے ہی قدم کیوں نہ لڑ کھڑائیں، شکوہ شکایت نہ کریں۔
پروردگار کا فرمان ہے
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
(سورہ عنکبوت/۲)
کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اس بات پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ وہ یہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کا امتحان نہیں ہوگا۔۔۔
کتنے ہی باعزت لوگ ایسے ہیں کہ مصائب نے جن کو تھکا ڈالا، مگر انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ وہ مسائل خود بخود ختم ہوگئے اور ماند پڑ گئے۔
یہاں بھی قرآن کی آیت
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
(سورہ البقرہ/۱۵۵)
اور ہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموالً نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیں۔۔
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی"
