سوچ طاقت کا سرچشمہ ہے
سوچنا انسان کی اپنی دریافت کا سبب بنتا ہے۔
سوچ کے ذریعہ انسان ان چیزوں کو پالیتا ہے جو اس سے چھپی ہوتی ہیں ۔
سوچ کے ذریعہ انسان کائنات کے اسرارو رموز کوپالیتا ہے ۔
سوچ انسان کے لیے خدا کی معرفت کا سبب بنتی ہے۔
سوچ کے ذریعہ انسان یہ جانتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا ہے
اور اسے یہاں کون سا کردار ادا کرنا ہے؟
سوچ انسان کو بتاتی ہے کہ کسی معاملہ میں صحیح رویہ کیا ہوسکتا ہے۔
یہ سوچ ہے جس نے انسان کو پتھر کے زمانے ( Stone Age)
سے نکال کر کلٹیویشن ایج
( cultivation age)
میں پہنچا دیا۔
اسی سوچ کے ذریعہ انسان کلٹیویشن ایج سے نکل کر سوپر ٹیکنالوجی ایج
(Super-Technology )
میں پہنچاہے ۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اسی سوچ کے ذریعہ انسان ،انسان کامل بن سکتا ہے۔انسان اگر انسان ہے، تو اسی سوچ کی وجہ سے ہے۔
رین ڈسکارتے ( René Descartes, (1596–1650) was a French philosopher )
نے کہا ہے ۔
”” I think therefore i am "
میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں ‘۔
یعنی زمین پر انسانی وجود صرف اس لیے باقی ہے
کیونکہ انسان سوچتا ہے۔
اگر انسان سوچنا چھوڑ دے تو اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔
سوچ وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان نے بڑے بڑے معرکے سر کئے ہیں۔
وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا
یہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا
“تیمور”
اگر ہم سوچیں تو ہم کبھی بھی اپنے آپ کو کمزور نہیں پائیں گے–
ہم اپنے اندر طاقت کا وہ ذخیرہ پالیں گے
جس کا سامنا کرنا کسی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی"