السلام علیکم
کل ایک سوال کیا تھا
سوال والی پوسٹ یہ تھی 👇👇
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2432608423724593&id=100009263771639
اس سوال کا جواب ہے کہ
“وضو گولڈ والے برتن سے کریں گے “
اس سوال کے کرنے کا ایک بہت اہم مقصد تھا
جب ہی صرف ایک برتن کا سوال نہیں کیا تھا بلکہ دو برتن رکھے تھے
کیونکہ گولڈ کے برتن کا تمام مراجع کے نزدیک جواب ہے کہ جب کوئی دوسری صورت نہ ہو تو اس برتن سے کرسکتے ہیں
مگر یہاں ایک دوسری صورت پیش کی گئی کہ اب بتائیں دوسرا برتن موجود ہے تو کیا کریں اور
کیوں؟
اب اسکی وضاحت اکثر مقام پہ ننانوے فیصد حرام سو فیصد
(99% Haram =100% Halal)
حلال ہوجاتا ہے
جواب:
اسلام میں کچھ حقوق ہیں جن میں حقوق اللَّه اور حقوق الناس یا حقوق العباد ہیں جن میں یہ حقوق تقسیم ہوتے ہیں۔
حقوق اللَّه سے مراد وہ حقوق ہیں جو بندوں پر اللَّه کی طرف سے ہیں۔
حقوق الناس جس سے مراد انسان آپس میں ایک دوسرے پر جو حق رکھتے ہیں
حقوق اللَّه، اللَّه کے تمام امر اور نہی کو شامل کرنے کے علاوہ حقوق الناس کو بھی شامل کیا جاتا ہے لیکن جب یہ حقوق اللَّه، حقوق الناس کے مقابلے میں آتا ہے تو اللَّه اپنے حق کو معاف کر دیتا ہے صرف ایک توبہ سے مگر حقوق الناس کو معاف نہیں کرتا جب تک وہ شخص خود نہ رعایت کرے
حَقُّاللّہ یعنی بندوں پر اللَّه کاحق؛ حق الناس کے برعکس جس میں لوگوں کے ایک دوسرے پر جو حق ہیں اس پر بحث ہوتی ہے۔ حقوق اللَّه میں نماز اور روزہ اور تمام عبادات کا تذکرہ ہوتا ہے جو بندوں کے ذمے ہیں اور انہیں انجام نہ دینے کی صورت میں توبہ اور ان کی قضا واجب ہوتی ہے۔
اسلام کے عدالتی احکام میں حقوق اللَّه اور حقوق الناس کے درمیان کچھ فرق ہے؛
حقوق اللَّه جیسے زنا کی شرعی حد،
جس میں قاضی مجرم کو اقرار کرنے سے منصرف کرسکتا ہے؛ لیکن حقوق الناس، جیسے چوری میں ایسا نہیں کرسکتا۔
حقوق اللَّه اور حقوق الناس میں فرق اس جہت سے بھی ہے کہ حقوق اللَّه میں زیادہ سختی نہیں کرتے ہیں جبکہ حقوق الناس میں احتیاط اور سختی سے کام لیتے ہیں۔
حقوق الناس توبہ کے ذریعے ساقط نہیں ہوتے ہیں،
لیکن بعض حق اللَّه توبہ سے ختم ہوتے ہیں۔
حق الناس اللَّه کی راہ میں شہید ہونے سے معاف نہیں ہوتے ہیں؛
جبکہ حق اللَّه شہادت کے ذریعے سے معاف کئے جاتے ہیں۔
اسی لئے ہم پڑھتے ہیں کہ
امام حسینؑ نے شب عاشورا اپنے اصحاب سے کہا کہ جس پر حق الناس ہے وہ واپس چلا جائے ہمارے لشکر میں نہ رہے۔
ایک حدیث نبوی کے مطابق قیامت کے دن جس شخص پر دوسروں کے حقوق ہونگے اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دی جائیں گی جن کے حقوق مارے گئے اور اگر ان کی نیکیاں کم پڑیں تو ان کے گناہ اس شخص کے نامہ اعمال میں درج کریں گے پھر اسے جہنم میں ڈالا جائے گا۔
انسان کی وہ ذمہ داریاں جنہیں اللَّه کے لیے انجام دیتا ہے انہیں حق اللَّه کہا جاتا ہے۔
اگر ان ذمہ داریوں کو انجام نہ دے تو ان کا ازالہ کرنا ہوگا، ان میں سے بعض کو توبہ کے ذریعے سے ازالہ کیا جاتا ہے جبکہ نماز اور روزہ کی طرح کے بعض حقوق کو قضا کے ذریعے سے ازالہ کیا جاتا ہے۔
اب یہاں گولڈ کا برتن حرام تھا استعمال کرنا
مگر کیونکہ یہ حلال اور حرام کا ماننا اللَّه کے حقوق میں آتا ہے تو یہاں ہم کسی اور کے برتن کے بجائے ڈارکٹ ایسی چیز استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں جس کی ڈارکٹ معافی یا توبہ اللَّه سے مانگ سکیں
لیکن کسی اور کی چیز بغیر اجازت استعمال کرنا حقوق الناس میں آئے گا اس لئے دوسرا برتن اجازت کے بغیر استعمال نہیں ہوسکتا جب تک وہ شخص اجازت نہ دے
الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین ”
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”
