اضافة تذللیة ( نسبت تذلیلی) سوال و جواب

السلام علیکم

سوال: اضافة تذللیة ( نسبت تذلیلی) کیا ہے؟اور یہ کہاں استعمال ہوتا ہے؟

آج کا سوال بہت آسان ہے امید ہے سب کو جواب پتہ ہوگا

ان شاء اللَّه

(نوٹ: پلیز جوابات جو بھی دیں ایک ہی کمنٹ میں دیں اور بار بار جوابات بدلیں نہیں اورچیٹینگ نہیں کرنا ہے کسی نے 😊 )

جواب پہلے کی طرح بعد میں پوسٹ کریں گے وضاحت کے ساتھ ان شاء اللَّه

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی

************

جواب

السلام علیکم

پچھلے سوال کا جواب

سوال: الإضافة تذللیة کیا ہے؟

سوال والی پوسٹ 👇👇

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2435761666742602&id=100009263771639

جواب:

الإضافة تذللیة ( نسبت تذلیلی) اسکا تعلق نماز کی نیت سے ہے نماز میں ہمارا قصد فرمان الٰہی کو بجالانے کے لئے ہوتا ہے

نیت ایک عمل قلبی ہے زبانی عمل نہیں،لہٰذااس کے لئے کوئی لفظ معین نہیں،اس کا محل قلب ہے اگر ہمارا مقصد نماز میں تقرب الی اللَّه نہیں ہے، کہ جس کی تائید ہماری حرکات کریں گی۔ تو ہماری نماز باطل ہے۔

ایک ایسا عمل ہے جو افعال عبادی (عبادت کے فعل کو انجام دینا) سے قریب ہےاس کے ذریعہ انسان میں ایک شعوری کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کہ وہ پروردگار کے سامنے ایک عبد ذلیل ہے۔

نیت کے معنی اللَّه کے لئے کام انجام دینے کا ارادہ اور قصد کرنا ہے۔ روایات کے مطابق، ہر کام کی اہمیت اس کی نیت سے معلوم ہوتی ہے۔

روایت کی کتابوں میں، نیت کو اصل اور اعمال کا ثمرہ کہا گیا ہے اور مسلمانوں کو پاک اور مخلصانہ نیت رکھنے کی تاکید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ خراب اور بری نیت رزق میں کمی، اور بلا و مصیبت کے نازل ہونے کا سبب بنتی ہے۔

اسی لئے شیعہ فقہاء کے قول کے مطابق، عبادات میں نیت کرنا ضروری ہے، اور یہ نماز کے ارکان سے ہے۔

نیت کا زبان پر لانا ضروری نہیں ہے۔

تذللیہ تذلل سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کمزور ہونا، خوار ہونا، ذلیل ہونا

نماز کی نسبت اللَّه تعالی کی طرف ہو اور یہ نسبت تذلیلی ہو

اپنے آپ کو اللَّه کے سامنے ذلیل و حقیر، کمزور و ناتواں اور خوار سمجھنا

تذلیل کی ضد تکبر ہے

اللَّه کے سامنے تکبر دائمی ہلاکت کا سبب ہے ۔ تکبر کی یہ قسم ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو الوہیت اور خدائی کا دعوی کرتے ہیں

جیسے فرعون نے کہا:

أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ۔(النازعات: 24)

میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں

تکبر اور بڑائی صرف اللَّه کو ہی زیب ہے اس لیے جو شخص کبریائی اور بڑائی کی ردا کو اوڑھ لیتا ہے وہ اللَّه کو اس کی بڑائی میں چیلنج کرتا ہے اور جو اللَّه کو چیلنج کرے وہ اللَّه کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے ۔

إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ (النحل:23 آیت کا حصہ)

وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔

اسلئے نماز کے لئے جب نیت کی جائے تو اپنے کو ایک ذلیل بندہ تصور کیا جائے جیسے غلام/کنیز اپنے مالک کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں رعایا اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑی ہو

عاصی سہی ذلیل سہی پرُ خطا سہی

بندہ تو ہے رشیدؔ، غفور الرحیم کا

(رشید رامپوری)

الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

"آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی عابدی"

تبصرہ کریں