وضو کا سوال:
السلام علیکم
کل کی سوال والی پوسٹ کچھ دوستوں کو پسند آئی اس کے لیے سب کا بہت بہت شکریہ اور ان ہی لوگوں کے کہنے پہ
ایک سوال کے ساتھ حاضر ہیں
آپ سب کو یہ اچھی طرح پتہ ہے کہ وضو کے واجبات کیا ہیں
وضو کے واجبات:
وضو میں واجب ہے کہ چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے جائیں اور سر کے اگلے حصے اور دونوں پاوں کے سامنے والے حصے کا مسح کیا جائے۔
لیکن وضو کے کچھ مستحبات بھی ہیں ان میں دونوں ہاتھ دھونا، کُلی کرنا اور ناک میں پانی کھینچنا یا ڈالنا
سوال یہ ہے کہ
مستحبات میں کُلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنے کا کیوں کہا گیا ہے اسکی کوئی خاص وجہ ؟
(نوٹ: پلیز جوابات جو بھی دیں ایک ہی کمنٹ میں دیں اور بار بار جوابات بدلیں نہیں )
جواب پہلے کی طرح بعد میں پوسٹ کریں گے وضاحت کے ساتھ ان شاء اللَّه
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”

جواب
السلام علیکم
پوسٹ کا جواب حاضر ہے
وضو میں کُلی اور ناک میں پانی ڈالنے کی وجہ؟ سوال👇👇
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2433786863606749&id=100009263771639
ماشاء اللَّه کمنٹس پڑھ کے بہت خوشی ہوئی کہ کافی لوگوں کو اس مستحبات کی وجہ معلوم ہے جزاک اللَّه جن لوگوں کے کمنٹس کو لائک کیا ہے 👆اوپر والے لنک میں ان کے صحیح جوابات تھے سلامت رہیں سب آمین
جواب:
وضو میں کُلی اور ناک میں پانی ڈالنے کی وجہ:
وضو کے مستحبات میں کُلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنے کی سب سے اہم وجہ ہے کہ جس پانی سے وضو کیا جارہا ہے وہ آپِ مطلق ہو آبِ مضاف نہ ہو
کیونکہ مضاف پانی سے غسل یا وضو صحیح نہیں ہے اور نجس چیز مضاف پانی سے پاک نہیں ہو سکتی. یعنی مضاف پانی سے وضو اور غسل باطل ہے.
آب مضاف (یعنی مضاف پانی)، ایسا پانی جس میں کسی چیز کی ملاوٹ ہو اور وہ خالص نہ ہو اور لوگوں کی نظر میں اسے پانی نہ کہا جائے. مثلاً گدلا پانی، گلاب کا عرق، کسی فروٹ کا جوس، وغیرہ یہ مضاف پانی ہے. مضاف پانی، مطلق پانی کے مقابلے میں ہے اور اس بارے میں فقہی کتابوں میں طہارت کے باب میں گفتگو ہوئی ہے.
مضاف پانی، خود اپنے پاک ہونے کی صورت میں، پاک ہے، لیکن کسی نجس چیز کی نجاست کو دور نہیں کر سکتا، اور اسی طرح کسی حدث کو ختم نہیں کر سکتا
کُلی کرنے سے پانی کا ذائقہ پتا چلے گا اور ناک میں پانی ڈالنے سے اس کی بُو پتہ چلے گی
الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین ”
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”
