لوگ مرنے سے کیوں ڈرتے ہیں؟‏

لوگ مرنے سے کیوں ڈرتے ہیں؟‏

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۗ

(سورہ آل عمران/185 آیت کا ایک حصہ)

ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے

موت برحق ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیسا

ایک ہجرت ہی تو ہے نقل مکانی ہی تو ہے

(طارق متین)

حال ہی میں اِس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں کہ انسان کو موت سے اتنا خوف کیوں ہے؟ اور سائنس‌دانوں نے بھی اِس موضوع پر تحقیق کی ہے۔‏

اس کے باوجود زیادہ‌تر لوگ موت کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتے۔‏

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ موت ایک حقیقت ہے

اس لئے ہم اس کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔‏

ہر دن اوسطاً 1،60۰000 لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔‏

زندگی آج ہے تو کل نہیں۔‏

ایسا کوئی انسان نہیں ہے جس پر موت نہیں آ سکتی ہے اور یہ حقیقت بعض لوگوں کے لئے خوف کا باعث ہے۔‏

ماہرینِ‌نفسیات کا کہنا ہے کہ لوگ مختلف وجوہات سے موت سے ڈرتے ہیں۔‏

وہ بتاتے ہیں کہ کچھ لوگ اس لئے خوفزدہ ہیں کیونکہ اُنہیں مرتے وقت شاید تکلیف سہنی پڑے۔‏

دوسرے لوگ خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد اُن کے ساتھ کیا واقع ہوگا۔‏

بعض لوگ اپنے کسی عزیز کو موت کے ہاتھ کھو دینے سے ڈرتے ہیں۔‏

اور ایسے لوگ بھی ہیں جن کو یہ خوف ستاتا ہے کہ اُن کے مرنے کے بعد اُن کے خاندان اور دوستوں کو کن مشکلات کا سامنا ہوگا۔‏

لیکن اکبر الہ آبادی بہت اچھا سچ کہتے ہیں

بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا

پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

اور یہی ایک کڑوا سچ ہے

زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللَّه تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں کے کرنے سے پہلے پہلے غنیمت سمجھو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ ۔

1۔ جوانی کو بڑھاپے ،

2۔ صحت کو بیماری،

3۔ امیری کو فقیری ،

4۔ فراغت کو مصروفیت ،

5۔ زندگی کو موت سے پہلے پہلے ۔

شاعر الطاف حسین حالی نے اس کا کیا خوب ترجمہ کیا

غنیمت ہے صحت علالت سے پہلے

فراغت مشاغل کی کثرت سے پہلے

جوانی بڑھاپے کی زحمت سے پہلے

فقیری سے پہلے غنیمت ہے دولت

جو کرنا ہے کر لو کہ تھوڑی ہے مہلت

وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلْغُرُورِ

(سورہ آل عمران کی آیت 185 کا آخری حصہ)

زندگانی دنیا تو صرف دھوکہ کاسرمایہ ہے

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى

(سورہ طہ-47)

التماسِ دعا

"روبی عابدی”

تبصرہ کریں